توانائی

پاکستان کو اپنی توانائی کی منتقلی میں چینی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کی ضرورت ہے

آئی ای ای ایف اے اور پاکستان-چائنا انسٹی ٹیوٹ کے ماہرین لکھتے ہیں کہ چین اور پاکستان نے اپ گریڈ شدہ سی پیک کا اعلان تو کیا ہے، لیکن سلامتی کے خطرات اور مالیاتی رکاوٹوں جیسے مسائل کی وجہ سے توانائی میں سرمایہ کاری کا مستقبل اب بھی تاریک ہے
<p>ایک چینی انجینئر بلوچستان میں چائنہ پاور ہب جنریشن پلانٹ میں پاکستانی کارکنوں کو تربیت دے رہی ہیں۔  ایک طرف سی پیک اپنے دوسرے مرحلے میں داخل ہورہا ہے لیکن ساتھ ہی نہ حل ہونے والے مسائل جیسے سلامتی کے خطرات، مالیاتی بقایا جات اور سرمایہ کاری کی بدلتی ترجیحات چی- پاکستان توانائی تعاون کے مستقبل  ہیں-  (تصویر بشکریہ لو زہنیو/امیگو /الامی )</p>

ایک چینی انجینئر بلوچستان میں چائنہ پاور ہب جنریشن پلانٹ میں پاکستانی کارکنوں کو تربیت دے رہی ہیں۔  ایک طرف سی پیک اپنے دوسرے مرحلے میں داخل ہورہا ہے لیکن ساتھ ہی نہ حل ہونے والے مسائل جیسے سلامتی کے خطرات، مالیاتی بقایا جات اور سرمایہ کاری کی بدلتی ترجیحات چی- پاکستان توانائی تعاون کے مستقبل  ہیں-  (تصویر بشکریہ لو زہنیو/امیگو /الامی )

پاکستان کا شعبہ  توانائی سرمایہ کاری کا سلسلہ پیچیدہ ہے۔ غیر ملکی سرمائے کو راغب کرنے اور نئے پراجیکٹس میں رسک کو کم کرنے کی حکومتی کوششوں کے باوجود، سرمایہ کار پراعتماد نہیں۔ جنوری 2024 میں، مظفر گڑھ میں 600 میگاواٹ (میگاواٹ) کا سولر پراجیکٹ بولی کی پیشکش راغب کرنے میں ناکام رہا۔ ڈویلپرز نے پاکستان کے ہائی رسک پروفائل اور سیاسی انتشار کورکاوٹوں کی اہم وجہ قرار دیا ہے۔ یہاں تک کہ،   پاکستان کے دیرینہ جیو اسٹریٹجک اتحادی اور توانائی کے شعبے میں سب سے بڑا سرمایہ کار چین تک  نے کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔

2005 اور 2024 کے درمیان، چین نے پاکستان کی معیشت میں تقریباً 68 بلین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی، جس میں سرمایہ کاری کا 74 فیصد حصہ توانائی پر ہے۔ یہ سرمایہ کاری 2015 میں،  صدر شی جن پنگ کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے تحت ایک اہم منصوبے چین پاکستان اکنامک کوریڈور (سی پی ای سی /سی پیک) کے ضمن میں عروج پر تھی۔ 

سی پیک کے توانائی کے پورٹ فولیو کی مالیت  21.3  بلین امریکی ڈالر تھی، جس میں ابتدائی طور پر کوئلے پر منحصر پاور جنریشن منصوبوں کو ترجیح دی گئی۔  بجلی کی صلاحیت میں 13 گیگا واٹ (جی ڈبلیو) اضافہ ہوا،  جس میں 8 گیگا واٹ کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس سے حاصل ہوئے، جب کہ شمسی اور ہوا کی توانائی کا حصّہ  مجموعی طور پر صرف 1.4 گیگاواٹ تھا۔

اب، جیسا کہ سی پیک  اپنے دوسرے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے، پہلے مرحلے کے حل نہ ہونے والے مسائل دوسرے مرحلے میں پیش رفت کو سست کر رہے ہیں۔ 

2021 میں، صدر شی نے، بیرون ملک کوئلے کے منصوبوں میں گرین فیلڈ کی سرمایہ کاری کو روکنے کا عہد کیا جو کہ صاف توانائی میں  ترقی کے لئے ایک موقع ثابت ہوا۔ بہرحال، پاکستان میں نئی ​​چینی سرمایہ کاری کو حال ہی میں مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انسٹی ٹیوٹ فار انرجی اکنامکس اینڈ فنانشل اینالیسس (آئی ای ای ایف اے) میں ہمارے تجزیے کے مطابق، کووڈ کے بعد سے، پاکستان کے توانائی کے شعبے میں صرف 4.86 بلین امریکی ڈالر کی چینی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ اس میں سے 3.7 بلین امریکی ڈالر چشمہ میں ایک نیوکلیئر پاور پلانٹ کے لیے مختص کئے  گئے ہیں، جو کہ ظاہراس منصوبے کے لئے  صرف ایک ڈاؤن پیمنٹ کے برابر ہے اور یہ صاف ظاہر ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ اس منصوبے کو مزید فنڈنگ ​​کی ضرورت ہوگی۔

چینی سرمایہ کاری کے انداز میں تبدیلی

حالیہ سالوں میں چین کی سرمایہ کاری میں کافی تبدیلی آئی ہے، اسکا زیادہ جھکاؤ پاکستان کے بجاۓ مڈل ایسٹ، سب صحارا افریقہ اور مشرقی افریقہ کی طرف ہوگیا ہے جہاں بعد ازکووڈ  سرمایہ کاری بحال ہوئی ہے یا وباء سے پہلے کے زمانے سے تجاوز کرگئی ہے۔ چائنا گلوبل انویسٹمنٹ ٹریکر کے مطابق، 2021 اور 2024 کے درمیان، توانائی میں چینی سرمایہ کاری اس کے عالمی سرمایہ کاری کا صرف 34 فیصد تھی، جو پچھلے سالوں میں 40-50 فیصد سے کم ہے۔ اس کے بجائے، چین دھاتوں اور کیمیائی صنعتوں کو ترجیح دے رہا ہے، خاص طور پر انڈونیشیا جیسے ممالک میں، جہاں ریگولیٹری استحکام اور ویلیو ایڈڈ مینوفیکچرنگ پالیسیوں کی وجہ سے نکل اسملٹنگ اور بیٹری کی پیداوار میں سرمایہ کاری بڑھی ہے۔ 

مشرق وسطیٰ میں چین کی بڑھتی ہوئی دلچسپی خلیجی ممالک کے ساتھ گہرے اقتصادی تعلقات کی عکاسی کرتی ہے، جو تیل پر مبنی بنیادی ڈھانچے سے آگے متنوع ترقی کے مواقعوں کی تلاش میں ہیں۔ خلیجی ممالک نے بنیادی ڈھانچے، ٹیکنالوجی اور قابل تجدید توانائی میں چینی مہارت کا خیرمقدم کیا ہے۔ چین ان تعلقات کو توانائی کے وسائل کو محفوظ بنانے اور اپنے بیلٹ اینڈ روڈ کے فٹ پرنٹس کو بڑھانے کے لئے اہم سمجھتا ہے۔ اسی طرح عراق اور ایران نے بھی پاکستان کی طرح بندرگاہوں کی تعمیر اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے میں چینی سرمایہ کاری حاصل کی ہے۔ 

اس کے برعکس، جنوب مشرقی ایشیا نے اپنے وسیع معدنی ذخائر اور صنعتی عزائم کو چینی سرمایہ کو راغب کرنے کے لئے  استعمال کیا ہے۔ غیر پروسیسڈ شدہ معدنیات پر انڈونیشیا کی برآمد پر پابندی نے چینی کمپنیوں کو مقامی نکل اسملٹنگ میں سرمایہ کاری کرنے پر مجبور کیا، ویلیو ایڈڈ مینوفیکچرنگ کو فروغ دیا اور اہم معدنیات کے لئے عالمی سپلائی چینز میں اس کے کردار کو مضبوط کیا۔ مختلف ٹیکس مراعات، زمین کی ملکیت کے لچکدار ضوابط اور مستحکم اقتصادی ترقی نے انڈونیشیا کی اپیل کو مزید تقویت بخشی ہے۔

پاکستان نے ٹیکس میں چھوٹ کے ساتھ اسپیشل اکنامک زونز (ایس ای زیڈز) کے  ذریعہ  چینی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن پیچیدہ  مسائل ابھی بھی برقرار ہیں۔ صنعتی جمود، مہنگی بجلی اور گیس ، اور کمزور بنیادی ڈھانچہ مسابقت کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ 

پاکستان میں سرمایہ کاروں کی تشویش

سیکیورٹی خطرات پاکستان میں چینی سرمایہ کاری کی راہ میں ایک اہم رکاوٹ ہیں۔ 2021 اور 2024 کے درمیان، ملک میں کام کرنے والے چینی شہریوں کو نشانہ بنانے والے عسکریت پسندوں کے حملوں میں اضافہ ہوا، جس کی وجہ سے چینی فرموں اور سفارت کاروں نے سخت حفاظتی اقدامات کا مطالبہ کیا۔ ان واقعات میں اکتوبر 2024 میں پورٹ قاسم پاور پلانٹ کے چینی عملے پر حملہ بھی شامل تھا۔

پرتشدد حملوں میں اضافے سے بھی پہلے، 2017 میں، پاکستان کی نیشنل الیکٹرسٹی پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے اضافی لاگت کو صارفین پر منتقل کرتے ہوئے، کل پراجیکٹ لاگت کا 1 فیصد تک سیکیورٹی سرچارج کی مد میں متعارف کرایا تھا۔  یہ سرچارج فی الحال  سی پیک کے آپریشنل پورٹ فولیو میں سے سالانہ 216 ملین امریکی ڈالرز کے برابر ہے۔ ایک بھاری قیمت ہے، لیکن پھر بھی جانی نقصان کو روکنے کے لئے کافی نہیں۔ 

غیر ملکی سرمایہ کار پرمٹ کے طویل عمل اور بار بار ریگولیٹری تبدیلیوں کی بھی شکایت کرتے ہیں۔ پراجیکٹ پرمٹس کے لئے مختلف ایجنسیوں سے متعدد منظوریوں کی ضرورت ہوتی ہے، اور ریڈ ٹیپ سے نمٹنے کی وجہ سے تاخیر ہوتی ہے جو پیش رفت کو روکتی ہے، اور سرمایہ کاری کی مزید حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔

پاکستان میں سی پیک  پاور پلانٹس خطیر مالی بقایا جات جمع کر رہے ہیں، بقایا وصولی 1.4 بلین امریکی ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کو ڈسٹری بیوشن یوٹیلٹیز سے ادائیگیوں کی وصولی میں مشکلات درپیش ہیں، جس سے لیکویڈیٹی متاثر ہو رہی ہے اور پروجیکٹ کے اسپانسرز کی دوبارہ سرمایہ کاری کی صلاحیت کم ہو رہی ہے۔ فوسل فیول پر مبنی پاور پلانٹس خاص طور پر ادائیگی میں تاخیر کا شکار ہیں۔ ساہیوال کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹ اور پورٹ قاسم الیکٹرک پاور کمپنی (پی کیوں ای پی سی ) نے عدم ادائیگی کی وجہ سے بار بار بند ہونے کی دھمکی دی ہے۔ مئی 2023 میں، پی کیوں ای پی سی نے  77.3 بلین روپے  (  276 ملین امریکی ڈالرز) کی واجب الادا ادائیگیوں کے لئے  سی پی پی اے کو باقاعدہ ڈیفالٹ نوٹس بھیجا۔ اکتوبر 2024 تک، یہ اعداد  88 بلین روپے (  315 ملین امریکی ڈالرز) تک پہنچ گۓ۔ 

حالانکہ حکومت وقتاً فوقتاً بقایا واجبات کا بیک لاگ ختم کرتی ہے، کمزور معاشی حالات اور بجلی کی تقسیم کے ناکارہ نظام کی وجہ سے پاکستان کے ساختی مسائل ممکنہ طور پر مستقبل میں جاری رہیں گے، جس سے نئی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ 

مثال کے طور پر چائنا تھری گورجز گروپ کبھی پاکستان میں کلین انرجی کا  سب سے بڑا سرمایہ کار تھا۔ اس کے پورٹ فولیو میں تین ونڈ فارمز (150 میگاواٹ) اور کروٹ ہائیڈرو پاور پروجیکٹ (720 میگاواٹ) شامل تھے۔ لیکن گروپ نے 2016 سے دوبارہ سرمایہ کاری نہیں کی ہے۔ اس کے بجائے، اس کی جنوبی ایشیائی سرمایہ کاری ونگ، چائنا تھری گورجز ساؤتھ ایشیا انویسٹمنٹ لمیٹڈ (سی ایس  اے آئی ایل) نے اپنی توجہ مصر اور اردن پر مرکوز کر دی ہے، جہاں اس نے حال ہی میں 400 میگاواٹ کے شمسی اور ہوا کے منصوبے لگائے ہیں۔ 

اگرچہ سی ایس  اے آئی ایل کے پاکستان میں دو ہائیڈرو پاور پراجیکٹس  آنے والے ہیں, 1,124 میگاواٹ کے کوہالہ اور 640 میگاواٹ کے محل پراجیکٹس, پر ان میں پیش رفت سست ہے۔ کوہالہ پراجیکٹ نے ابتدائی منظوری حاصل کر لی ہے لیکن چین کے سرکاری برآمدی کریڈٹ انشورنس کمپنی سائنوسور سے منظوری باقی ہے، جو ڈیفالٹ کی صورت میں سرمایہ کاروں کے نقصانات کو پورا کرتی ہے۔ مزید برآں، حکومت پاکستان کے ان منصوبوں کو توانائی کی پیداوار کی منصوبہ بندی سے خارج کرنے کے حالیہ فیصلے نے سرمایہ کاروں کے جوش و خروش کو مزید کم کر دیا ہے۔

اس طرح کے ریگولیٹری چیلنجز توانائی کے شعبے میں زیر التواء اور نئی سرمایہ کاری کے لیے ایک غیر یقینی مستقبل کا باعث بنتے ہیں اور پالیسی کو از سر نو ترتیب دینے کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔ پاکستان کی موجودہ ضرورت سے زائد بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت  کے لئے جدوجہد کے پیش نظر، فی الحال توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری سے ہٹنا دانشمندانہ ہوگا اور نئے مالی وسائل کے لئے دیگر مواقع کو محفوظ بنانے پر توجہ مرکوز کرنا ہوگی۔

سی پیک 2.0 کیسا ہوگا

سی پیک کے پہلے مرحلے میں وسیع انفراسٹرکچر اور بجلی کی پیداوار کو ترجیح دی گئی۔ وسرے مرحلے، سی پیک  2.0 کا مقصد صنعت کاری، زراعت، اور ایس ای زیڈز کے ذریعے ٹیکنالوجی کی منتقلی کو فروغ دینا ہے۔ پاکستان صاف توانائی اور برقی نقل و حرکت میں چین کی پیشرفت سے فائدہ اٹھا سکتا ہے، خاص طور پر جب مغربی منڈیوں نے چینی برآمدات پر تجارتی پابندیاں عائد کی ہیں۔ پاکستان اور چین کے صدور کے درمیان بیجنگ میں ہونے والی حالیہ ملاقات میں سی پیک 2.0 کے تحت دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے اور بنیادی دلچسپی کے امور پر باہمی تعاون کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ تاہم، جب تک پاکستان اپنے سیکیورٹی خطرات کو حل نہیں کرتا، پالیسی کے استحکام کو یقینی بناتا ہے، اور معاہدے کی ذمہ داریوں کا احترام نہیں کرتا، اسے مزید سرمایہ کاری راغب کرنے میں دشواری رہے گی۔ مشرق وسطیٰ اور جنوب مشرقی ایشیا کے برعکس، جو زیادہ بہتر ریگولیٹری پیش بینی اور اقتصادی استحکام فراہم کرتے ہیں، پاکستان کو سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کے لئے زیادہ محنت کرنا ہوگی۔