جنگلات سیلاب کے بعد جلانے کی لکڑی کی طلب پاکستان کے جنگلات پر دباؤ بڑھا رہی ہے گزشتہ سال کے سیلاب کے نتیجے میں جب لکڑی کے ذخیرے ضائع ہوگئے اور گیس کی سپلائی کو نقصان پہنچا تو پاکستان بھر میں لوگوں نے ایندھن کے حصول کے لئے جنگلوں کا رخ کیا اردو اردو English Share this article × Copy link to page Copy link to page × اس مضمون کو دوبارہ شائع کریں ہم آپ کو کری ایٹو کامنز لائسنس کے تحت ، دی تھرڈ پول کے مضامین آن لائن یا پرنٹ میں دوبارہ شائع کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ براہ کرم شروع کرنے کے لئے ہماری دوبارہ اشاعت کے رہنما خطوط پڑھیں۔ (Image: Jeremy Graham / Alamy) فواد علی فروری 2, 2023February 14, 2023 جولائی 2022 میں، 28 سالہ ہارون جان نے پاکستان کے شمالی صوبہ خیبرپختونخواہ کے گاؤںمانکیال میں نہایت محتاط طریقے سے منصوبہ بندی کرتے ہوئے اپنے گھر میں لکڑی کا ایک ذخیرہمحفوظ کر لیا۔ جان نے اس لکڑی کے ذخیرے کو آنے والی سردیوں میں خود کو اور اپنے خاندان کوگرم رکھنےاور اپنے گھر کی دیکھ بھال کے لئے استعمال کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ لیکن صرف ایک ہی ماہ بعد مانکیال میں سیلاب نے تباہی مچادی۔ پانی کا ایک زبردست ریلا جان کے گھر اور اسکے اندرجمع لکڑیاں بہا کر لے گیا۔ ہیں کہ “یہ پلک جھپکتے ہی ہو گیا”۔ سوات حکومت کےایک ترجمان نے دی تھرڈ پول کو بتایا کہ اگست 2022 میں شدید بارشوں کے سبب اچانک اٹھ آنےوالے سیلاب کی وجہ سے خیبر پختونخواہ کے ضلع سوات میں 34 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھوبیٹھے تھے۔ صرف 26 اگست ہی کو سوات کی تحصیل بحرین (سب ڈسٹرکٹ) میں 1,049 مکاناتکو نقصان پہنچا۔ سیلاب کے بعد جان اور اس کے ساتھ کئی گاؤں والوں نے اپنے کھوئے ہوئے لکڑیکے ذخیرے کو بھرنے کے لئے قریبی پہاڑی جنگلات کا رخ کیا۔ زبیر تورولی جو کہ ضلع سوات کی وادئ کالام سے تعلق رکھتے ہیں اور ایک ماحولیاتی کارکن کیحیثیت سے کام کرتے ہیں، انہوں نے نومبر 2022 میں دی تھرڈ پول سے بات کرتے ہوئے کہا،“حالیہ سیلاب کے بعد سے سوات میں جنگلات پر دباؤ دگنا ہو گیا ہے لیکن حکام کی طرف سے کسیبھی قسم کی چھان بین نہیں کی جا رہی ہے۔” ماہرین نے دی تھرڈ پول کو بتایا کہ جولائی اور اگست 2022 میں ملک میں مون سون کی شدیدبارشوں کی وجہ سے آنے والے معمول سے زیادہ بڑے سیلاب کے بعد سے پاکستان بھر میں اسیطرح کے مناظر دیکھنے میں آئے ہیں۔ تقریباً 80 لاکھ لوگ بے گھر ہو گئے، اور انہیں جلانے کی لکڑی (ایندھن کے طور پر استعمال ہونے والی لکڑی) تک محدود رسائی اور گیس کی غیر معمولیبندش کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ گیس کی سپلائی لائنوں کو نقصان پہنچا تھا۔ سیلاب سے متاثر ہونےوالے بہت سے لوگوں کے پاس اپنے گھروں کو گرم رکھنے اور کھانا پکانے کے لئے ایندھن کےحصول کے لئے درخت کاٹنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا تھا۔ Recommended بلوچستان کے سابق صوبائی وزیر عبدل رحیم زیارتول نے کہا کہ “وہ اس موسم سرما میں ان جنگلاتکو کاٹ کر موسیاتی خطرات سے بچ جائیں گے لیکن کیا وہ اگلے سیلاب سے بچنے کے لئے تیار ہیںجو کہ جنگلات کی کٹائی کی وجہ سے آئے گا؟” زیارتول نے دی تھرڈ پول کو بتایاکہ “ہم ان درختوںکے ساتھ پیدا ہوئے ہیں، ماحول میں ان کی اہمیت انسانی جسم میں موجود پھیپھٹروں کی طرح ہےاورہماری زندگیاں ان درختوں کی بقا پرمنحصر ہیں لہذا انہیں بچائیں ورنہ آپ کو آفات سے کوئی نہیں بچاسکتا۔” ٹمبر مافیا موقع سے فائدہ اٹھارہا ہے سدا بہار جھاڑی یا درخت جس کے پتے نوکیلے ہوتے ہیں اوراس میں ارغوانی رنگ کےمخروطی بیر لگتے ہیں) کے جنگلات کو عالمی زمینی ورثہ تسلیم کروانےکے لئے درخواست دی ہے، جس کہ مطابق، پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں واقعزیارت کے جونیپر کے جنگلات 110,000 ہیکٹر سے زیادہ رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں، اور یہ دنیا کے دوسرے بڑے جونیپر کے جنگلات ہیں۔ کچھ درخت ان جنگلات میں ہزاروں سال پرانے ہو سکتےہیں۔ مقامی لوگ ہمیشہ جنگلوں سے اپنے روزمرہ کے استعمال کے لئے لکڑیاں جمع کرتے ہیں۔ لیکنزیارت کے رہائشی اور ماحولیاتی کارکن محمود ترین کے مطابق، “سیلاب کے بعد لکڑیوں کےحصول کے لئے ان جنگلات پر اتنا زیادہ دباؤ پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا ہے۔” جنگلات کی کٹائی کے ماحولیاتی اثرات کی مذمت کرتے ہوئے ترین نے کہا کہ مقامی لوگوں کے پاسایندھن کا کوئی متبادل ذریعہ نہیں ہے۔ انہوں نے دی تھرڈپول کو بتایا کہ “اگر وہ جلانے کی لکڑیکے لئے درخت نہیں کاٹتے ہیں تو وہ سردی سے مر جائیں گے۔” بلوچستان کے شہر کوئٹہ اورزیارت میں موسم سرما کے دوران درجہ حرارت اکثر صفر سے نیچے چلا جاتا ہے۔ صورت حال کو مزید خراب کرنے والا ایک عنصر غیر قانونی آراکش(درختوں کی کٹائی کرنےوالے) ہیں جنہوں نے لکڑی کی بڑھتی ہوئی مانگ کی وجہ سے پیدا ہونے والے اس معاشی موقع سےناجائز منافع کمانے کی کوشش کی۔ بلوچستان یونیورسٹی کے شعبہ صحافت کے اسسٹنٹ پروفیسرملک اچکزئی کے مطابق، اکتوبر سے زیارت، کوئٹہ اور قلات کے شہر جلانے کی لکڑیوں سے بھرگئے جب سرد موسم کی آمد کے ساتھ ہی گیس کی بندش ہونا شروع ہوگئی۔ اچکزئی نے دی تھرڈ پولکو بتایا کہ لوگوں کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اکتوبر 2022 میں زیارت اور کوئٹہ میں یہ فروخت کنندگان جونیپر کے جنگلات سے گدھے پر لادے جانے والا وزن کے برابر جلانے کی لکڑیکے دو ہزار سے پچیس سو پاکستانی روپے (تقریباً نو سے گیارہ امریکی ڈالر) وصول کر رہے تھے،جبکہ سیلاب سے پہلے وہ یہی لکڑی پانچ سو سے آٹھ سو پاکستانی روپوں (تقریباً ڈھائی سے چارامریکی ڈالر) میں بیچ رہے تھے۔ شمالی پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخواہ کے ضلع سوات کے علاقے بحرین میں جلانے کی لکڑیکے لئے کاٹے گئے درخت (تصویر: زبیر تورولی) زبیر تورولی نے پاکستان کے شمالی علاقے سوات میں بھی ایسی ہی صورتحال بیان کی۔ “ماضی میںٹمبر مافیا (جلانے کی لکڑی کی خرید و فروخت سے ناجائز فائدہ اٹھانے والا کاروباری طبقہ) اتنالالچی نہیں تھا۔ وہ بڑے درخت کاٹتے اور اس کی شاخوں اور گرے ہوئے درختوں کو پیچھے چھوڑدیتے جسکو لوگ زیادہ تر جلانے کی لکڑی کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ لیکن اب سیلاب کےبعد ٹمبر مافیا انکو نہیں چھوڑتا، اس لئے لوگ اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے کھڑے درختوںکو کاٹ دیتے ہیں جس سے جنگلات پر لکڑیوں کے حصول کے لئے دباؤ بڑھتا ہے۔” پچھلے سال کے سیلاب کے نتیجے میں جنوب مشرقی پاکستان کے صوبہ سندھ میں بھی درختوں کانقصان دیکھا گیا۔ سندھ کے جنگلات کے ایک فاریسٹ رینج آفیسر غلام جعفر نےدی تھرڈ پول کو بتایاکہ، “گزشتہ سال ستمبر میں آنے والے سیلاب کے بعد دریائے سندھ اور ساحلی مینگرووز میں دریاکے کنارے واقع جنگلات کی آراکشی(درختوں کی کٹائی) تیز ہوگئی، کیونکہ وہ لوگ بھی جو پہلےگیس استعمال کرتے تھے، اب وہ جلانے کی لکڑی پر انحصار کرتے ہیں۔” ایندھن کی لکڑی پاکستان کی ضرورت پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کے 2018 کے ایک مطالعے کے مطابق، جس میں اقواممتحدہ کی تنظیم براۓ خوراک اور زراعت کا حوالہ دیا ہے کہ اندازً “پاکستان میں استعمال ہونےوالی تمام لکڑی کا 72 فیصد ایندھن کی لکڑی کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔” اسی مطالعے میں کہاگیا ہے کہ پاکستان میں تقریباً اکیاون لاکھ افراد کو بجلی کی رسائی حاصل نہیں ہے، جب کہ 2022میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس نے رپورٹ کیا کہ پاکستان میں 78 فیصد گھرانوں کوگیس تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ پاکستان کا اقتصادی سروے 2021-22 نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان میں جنگلات کے رقبے کےنقصان کے اہم محرکوں میں سے عام استعمال کی لکڑی اور ایندھن کی لکڑی نکالنا ہے۔ محکمہجنگلات سندھ کے مطابق، صوبے میں ایندھن کی لکڑی کی طلب تقریباًچونسٹھ لاکھ مکعب میٹر ہے،جب کہ مسلسل فراہمی صرف سولا لاکھ اسیّ ہزارمکعب میٹر کے قریب ہے، جس کی وجہ سے طلباور رسد کے درمیان بہت بڑا فرق ہے۔ متبادل فراہم کیے بغیر درختوں کی کٹائی پر پابندی لگانے سے جنگلات کی کٹائی نہیں رکی اور نہ ہیرکے گیسلطانِ روم، مصنف اور ماہر ماحولیات پاکستان کے ہمالیہ میں جنگلات کی کٹائی (بشمول پاکستان کے زیر انتظام کشمیر، خیبرپختونخواہ اورگلگت بلتستان) پر ایک 2016 کا مطالعہ نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میںجنگلات کی کٹائی کا اہم محرک ایندھن کی لکڑی کی طلب ہے، اور لکڑی کی یہی طلب پہاڑیصوبے پختونخواہ میں جنگلات کی کٹائی میں ایک بڑی حصہ دار ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تجارتیمقاصد کے لئے لکڑی کی کٹائی اور عسکریت پسندانہ سرگرمیوں نے بھی اپنا حصّہ ڈالا ہے۔ پاکستان کے جنگلات کو درپیش پیچیدہ خطرات بڑھتی ہوئی آبادی اور جلانے کی لکڑی جیسے جنگلاتی وسائل پر انحصار پاکستان کے ختم ہوتےجنگلاتی رقبے کے لئے خطرہ ہے، جو مسلسل بڑھ رہا ہے۔ خیبرپختونخواہ کے محکمہ جنگلات کی ماحولیات اور جنگلی حیات کے ایک سینئر اہلکار نے نامظاہر نہ کرنے کی شرط پر دی تھرڈ پول کو بتایا کہ اس پہاڑی صوبے میں غیر منصوبہ بند شہرکاری اور غیر منظم چراگاہ کے میدان جنگلات کو بہت زیادہ نقصان پہنچا رہے ہیں۔ اہلکار نے کہا کہ2022 کے سیلاب کے بعد نجی ملکیت کے جنگلات میں جنگلات کی کٹائی کی شرح دوگنی ہو گئیہے۔ اہلکار نے مزید کہا کہ سرکاری جنگلات میں درخت کاٹنے پر پابندی کا مطلب ہے کہ دباؤ کہیںاور مرکوز ہے۔ اور اگرچہ سرکاری جنگلات میں تعمیرات پر پابندی ہے، سیاحت کے شعبے کووسعت دینے کے لئے ملحقہ نجی علاقوں میں جنگلات کی کٹائی سرکاری جنگلات تک پھیل گئی ہے۔ خیبرپختونخوا کے ضلع چترال کے علاقے دروش میں محکمہ جنگلات کے اہلکاروں کی جانب سےضبط کی گئی لکڑی (تصویر: گل حماد فاروقی) پاکستان کی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی شیری رحمٰن نے دی تھرڈ پول کو بتایا کہ پاکستان میںجنگلات کے خاتمے کی ایک بڑی وجہ درختوں کی غیر قانونی کٹائی ہے۔ نومبر 2022 میں باتکرتے ہوئے رحمان نے کہا کہ صوبائی حکومتیں اٹھارویں آئینی ترمیمی ایکٹ 2010 کے تحتجنگلات کے انتظام کی ذمہ دار ہیں۔ پشاور یونیورسٹی کے ماہر عمرانیات ظفر خان نے زور دیا کہ پاکستان میں جنگلات کی کٹائی کےملک کے لوگوں پر سنگین سماجی، اقتصادی اور ماحولیاتی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ خان نےدی تھرڈپول کو بتایا کہ “حکومت کو اس حقیقت کو ذہن میں رکھنا چاہیے کہ ایک بار جب یہ قلیل جنگلات ختمہو جائیں گے تو، [وسائل پر تنازعہ] نہ صرف نازک خطے میں امن کو خطرے میں ڈالے گا بلکہلاکھوں لوگوں کے وجود کو بھی خطرہ لاحق ہو گا۔” لیکن ایندھن کے لئے لکڑی کے غیر تحفظپسندانہ استعمال کو حل کرنا ایک پیچیدہ کام ہے۔ مصنف اور ماہر ماحولیات سلطانِ روم نے کہا،“قوانین کے یک طرفہ نفاذ اور متبادل فراہم کیے بغیر درختوں کی کٹائی پر پابندی لگانے سےجنگلات کی کٹائی نہیں رکی اور نہ ہی رکے گی۔” اکتوبر 2022 میں پاکستان کی قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رحمان نے زور دیاکہ “جو لوگ لکڑی کے لئے جنگلات کاٹتے ہیں انہیں گرفتار نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ان کے پاسسردیوں میں اپنے گھروں میں کھانا پکانے اورگھروں کو گرم رکھنے کے لئے کوئی اور حل نہیںہوتا۔ مترجم: عشرت انصاری” پڑھنا جاری رکھیے وضاحت کنندہ آفات Explained: How forest fires worsen flash floods in the Himalayas راۓ آفات رائے: سیلاب کے بعد پاکستان میں گرین ریکوری کیسے ممکن بنائی جاۓ؟ مضمون غذائی تحفظ پاکستان میں جن کسانوں کی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے انہیں معاوضہ نہ ملنے کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا ہے مضمون شدید موسم پاکستان کے پہاڑوں میں 'بھیانک' آگ کے سیزن کے طویل مدتی اثرات مضمون زمین کے حقوق لاہور کا نیا شہری منصوبہ قانونی مشکلات اور سیلاب کے خدشات سے گھرا ہوا ہے مضمون موسمی اثرات گول میز مذاکرات: کو 27کے بعدکون سا راستہ موسمیاتی طور پر بازیافت ہونے کی صلاحیت کی طرف جاتا ہے؟ مضمون زمینی پانی انجینئر شمال مغربی پاکستان میں زمینی پانی کی 'شدید' قلت سے خبردار کرتے ہیں مضمون بیلٹ اور روڈ تجزیہ: پاکستان میں توانائی کے لئے چین سرمایہ کاری کوئلے سے قابل تجدید ذرائع کی جانب منتقل کررہا ہے