آب و ہوا وضاحت کردہ: موسمیاتی تبدیلی ہمالیہ میں برفانی تودوں کو کس طرح بدتربناتی ہے؟ بڑھتا ہوا درجہ حرارت، بارش میں اضافہ اور کم برف باری ہمالیہ میں برفباری کی نوعیت کو بدل رہی ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ اِس کے نتیجے میں بار بار اور زیادہ خطرناک برفانی تودے آتے ہیں اردو اردو हिन्दी English Share this article × Copy link to page Copy link to page × اس مضمون کو دوبارہ شائع کریں ہم آپ کو کری ایٹو کامنز لائسنس کے تحت ، دی تھرڈ پول کے مضامین آن لائن یا پرنٹ میں دوبارہ شائع کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ براہ کرم شروع کرنے کے لئے ہماری دوبارہ اشاعت کے رہنما خطوط پڑھیں۔ (تصویر: نیوٹران ٹی./ دی تھرڈ پول) Humaira Nabi مئی 29, 2023June 8, 2023 حالیہ مہینوں میں، ہمالیہ میں خطرناک برفانی تودے گرنے کی متعدد رپورٹیں اخباروں کی سرخیاںبنیں۔ برف، منجمد پانی اور چٹانیں اچانک گرتی ہیں اور دامنِ کوہ سے گزرتے ہوئے اپنے راستے میںآنے والےانسانوں، جانوروں اور انفراسٹرکچر ( سڑکوں، پلوں اور نکاسئی آب کے نظام) کو دفن کردیتی ہیں۔گزشتہ دو سالوں میں صرف بھارتی ہمالیہ میں ہی کم از کم 120 افراد برفانی تودے گرنے سےہلاک ہو چکے ہیں۔ اپریل 2023 میں، ماؤنٹ ایورسٹ پر برفانی تودہ گرنے سے تین کوہپیما ایک برف کے تودے کی گہری دراڑ میں دب گئےتھے۔ ہمالیہ دونوں قطبوں کے بعد زمین پر برف اور منجمد پانی کا تیسرا سب سے بڑا ذخیرہ ہے۔ یہ خطہبھی باقی دنیا کے مقابلے میں تیزی سے گرم ہو رہا ہے اور موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے سوالاتاُٹھ رہے ہیں کیونکہ سطح مرتفع کے اوپر پھیلی ہوئی برف پیچھے ہٹ رہی ہے اور گلیشیئرز پِگھلرہے ہیں اور اِس کے نتیجے میں 2,500 کلومیٹر کے ہمالیائی رینج میں برفانی تودوں کا تعدد اورتباہی بڑھ سکتی ہے۔ کیا ہمالیہ میں برفانی تودے زیادہ ہوتے جا رہے ہیں؟ پاکستان میں قائم ماؤنٹین اینڈ گلیشیئر پروٹیکشن آرگنائزیشن اور سول سوسائٹی کولیشن فار کلائمیٹچینج کی چیف ایگزیکٹو عائشہ خان کہتی ہیں کہ برفانی تودے کی سرگرمیوں میں اضافہ ہمالیہ میںموسمیاتی تبدیلی کا “متوقع نتیجہ” ہے۔ 2018 میں، سوئٹزرلینڈ کی یونیورسٹی آف جنیوا کے سائنس دانوں نے تحقیق شائع کی جس نےدرختوں کے تنوں میں سال بسال پڑنے والا حلقوں سے جمع ہونے والے اشاروں کا استعمال کرتےہوئے ہندوستانی ہمالیائی ریاست ہماچل پردیش میں گزشتہ 150 سالوں کےدوران ہونے والے واقعاتاور شہادتوں کی روشنی میں برفانی تودوں کا بصری نقشہ تیار کیا۔ انہوں نے دریافت کیا کہپچھلے 100 سالوں کے مقابلے میں پچھلے 50 سالوں میں برفانی تودے بہت زیادہ آئے ہیں، اور یہنتیجہ اخذ کیا کہ مغربی ہندوستانی ہمالیہ میں برفانی تودے گرنے کی تعداد 1970 کی دہائی سے بڑھرہی ہے۔اس سے پہلے، انہوں نے دریافت کیا کہ اس خطے میں برفانی تودے بہت کم تھے، جس میں “1940اور 1960 کی دہائی کے درمیان عملی طور پر کوئی سرگرمی نہیں ہوئی”۔ اس کے برعکس 1970اور 1990 کی دہائیوں میں انہوں نے “بہت زیادہ سرگرمی” کو محسوس کیا۔ نیپال کے انّاپورنا سلسلے میں مچاپوچارے کے پہاڑ پر برفانی تودہ۔ اپنی کھڑی پہاڑی ڈھلوانوں کےساتھ ہمالیہ کا خطہ قدرتی طور پر برفانی تودوں کے خطرات سے گِھرا ہوا ہے۔ (تصویر: جولینگارسیا / الامی) یونیورسٹی آف جنیوا کے انسٹی ٹیوٹ فار انوائرمنٹل سائنسز کے ایک سینئر لیکچرر اورمطالعہ کےمرکزی مصنف، جوآن انتونیو بیلیسٹروس-کینواس کہتے ہیں کہ “ہمارے مطالعے میں برفانی تودےگرنے کی تعداد میں حالیہ اضافہ دکھایا گیا ہے، جو موسم سرما کے آخر اور موسم بہار کے شروعمیں درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ ملتا ہے۔” گیلی برف مزید برفانی تودے بنانے کا سبب بنتی ہے سائنس دانوں نے ثابت کیا ہے کہ ہندو کش ہمالیہ میں درجہ حرارت اور بارش کے انداز میں پچھلے100 سالوں میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ خان نے نشاندہی کی کہ اس کی کھڑی پہاڑی ڈھلوانوں کےساتھ، ہمالیہ کا علاقہ قدرتی طور پر برفانی تودوں کے خطرات سے گِھرا ہوا ہے۔اور اُنھوں نے مزیدکہا کہ گرم تر درجہ حرارت سنو پیک ( ایک کے اوپر ایک برف کی جم جانے والی پرتیں جوہمالیہ کی اونچائی میں چٹانوں کے زیادہ تر حصّے کو ڈھانپتی ہیں) کی ساخت کو تبدیل کر رہا ہے اورڈھلوانوں کو غیر مستحکم کررہا ہے۔گرم درجہ حرارت کا مطلب ہے کہ ماضی کے مقابلے میں بارش، برف کی بجائے، زیادہ اور بار بارگر رہی ہے ۔ ہندوستان کے نیشنل سینٹر فار پولر اینڈ اوشین ریسرچ کے ایک گلیشیو ہائیڈروولوجسٹسورو لاہا کہتے ہیں، ’’اب زیادہ تر آسمان سے زمین پر پانی کا کششِ ثقل کی وجہ سے گِرنا بارشکی صورت میں ہوتا ہے، جس سے نسبتاً نچلے علاقوں پر برف باری کم ہوتی ہے۔‘‘ لاہا کا کہنا ہےکہ آسمان سے پانی کا یہ گرنا چاہے نئی برف کی صورت میں ہو یا بارش کی صورت میں، یہ برفانیتودے کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔ سلف اور سلیب: برفانی تودے کی مختلف اقسام برفانی تودے کی بہت سی قسمیں ہیں، لیکن وہ بنیادی طور پر دو گروہوں میں تقسیم ہوتے ہیں: سلفاور سلیب۔ سلف برفانی تودہ اس وقت ہوتا ہے جب سنو پیک کی ایک کمزور اوپری تہہ سفوف کیحالت میں بے شکل تودے کے طور پر نیچے کی طرف کھسکتی ہے۔سلیب کا برفانی تودہ اس وقت ہوتا ہے جب اسنو پیک میں نیچے کی ایک کمزور تہہ ہوتی ہے، جوسکڑی ہوئی برف کی دوسری تہوں سے ڈھکی ہوتی ہے۔ متحرک ہونے پر، کمزور تہہ ٹوٹ جاتی ہےاور اپنے ساتھ اپنے اوپر کی تمام تہوں کو لے جاتی ہے، جو ڈھلوان پر بلاک یا سلیب کی طرح گرتی ہیں۔یہ سلف برفانی تودے سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔گیلے برفانی تودے ایک سلیب کے طور پر یا ڈھیلی برف کے طور پر ہو سکتے ہیں۔ یہ برف کےپیک میں مائع پانی کی وجہ سے ہوتے ہیں، بارش سے آتے ہیں یا سورج یا گرم درجہ حرارت کیوجہ سے پگھل جاتے ہیں۔ پانی کی موجودگی تہہ کی حدود کے درمیان بندھن کو کمزور کرتی ہے۔اس قسم کا برفانی تودہ خاص طور پر موسم بہار کے دوران ہوتا ہے، خاص طور پر بارش یا دن کےوقت گرم ہونے کے بعد۔ذرائع: نیشنل جیوگرافک ،Avalanche.org WSL انسٹیٹیوٹ فاراسنواینڈ ایوالانچ ریسرچSLF برف پر گرنے والی بارش گیلے برفانی تودے (گیلے برف کے تودے سنو پیک کی قوت میں کمی کےسبب ہوتے ہیں جسکی عام وجوہات بارش، زیادہ دیر تک سورج کی روشنی کے زیرِاثر رہنا یا گرمدرجہ حرارت ہوتا ہے) کا ایک عام محرک ہے۔ جیسے جیسے پانی برف کے پیک سے گزرتا ہے، یہاس کی ساخت کو کمزور کر سکتا ہے، جس کی وجہ سے برف پگھل جاتی ہے، برف کے دانوں کیشکل اور ساخت تبدیل ہو جاتی ہے، اور برف کے دانوں کو ایک ساتھ رکھنے والے رگڑ کو کم کرسکتی ہے۔ بارش کا پانی برف کے پیک کے بعض علاقوں میں وزن کی تقسیم کو بھی جمع اور تبدیلکر سکتا ہے، جس سے نئے دباؤ پیدا ہوتے ہیں۔ ان تبدیلیوں کے نتیجے میں برف کا احاطہ کم ہو سکتاہے اور اس وجہ سے برفانی تودے گرنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ لاہا کا کہنا ہے کہ ہمالیہ کی کھڑی ڈھلوانوں پر، “برفانی تودوں کا نیچے گرنےکے لئے خشک برفکے ٹکڑوں کا گیلے برف کے پیک میں تبدیل ہونا برف کے تودے کے بہاؤ کے لئے فیصلہ کن ہے۔” کیا ہمالیہ کے برفانی تودے مزید خطرناک ہوتے جا رہے ہیں؟ 2021 کے ایک مقالے میں، اٹلی، سوئٹزرلینڈ اور ریاستہائے متحدہ کے ماہرین نے لکھا ہے کہ “ایکگیلی اور گرم برفانی آب و ہوا کے ساتھ، برفانی تودوں میں دبنےکے نتائج زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں”۔مقالے میں کہا گیا ہے کہ برفانی تودے گرم آب و ہوا میں زیادہ تکلیف دہ چوٹوں کا سبب بن سکتے ہیں،کیونکہ برف کی پتلی تہہ نیچے کی چٹان سے کم تحفظ فراہم کرتی ہے، اور یہ کہ گیلی اور گھنیبرف میں دبے ہوئے لوگوں کے دم گھٹنے کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔ انہوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ “برفانیتودے سے ہونے والی موت کی وجوہات کے طور پر دم گھٹنے اورجذباتی صدمے میں اضافہ ہو سکتاہے۔” اسی مقالہ میں کہا گیا ہے کہ یورپی الپس (یورپ میں موجود پہاڑوں کی رینج) کے برعکس،ہمالیہ میں صرف کچھ ہی حفاظتی ڈھانچے ہیں جیسے برف کی باڑیں، رکاوٹیں اور سنو شیڈز جو کہانفرااسٹرکچر پر برفانی تودے کے اثرات کو کم کرتے ہیں لہذا اِس وجہ سےمقامی آبادی خطرے میںپڑ جاتی ہے۔ “یہ حقیقت اس بات کو پیچیدہ کرتی ہے کہ زیادہ تر ہمالیائی ممالک میں، پہاڑی علاقوں میں آبادیدوسرے خطوں کے مقابلے میں اوسطاً غریب ہے۔ اس معاشی پسماندگی کا اکثر مطلب ہوتا ہے کہپہاڑی برادریوں کو حکومتی فیصلوں میں نظر انداز کیا جاتا ہے جس میں پالیسی ، انفراسٹرکچر کیمنصوبہ بندی ، یا آفات سے نمٹنے کے حوالےسے اِن کی رائے کو شامل کرنے کے مواقع بہت کمہوتے ہیں۔” جنیوا یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے جوآن انتونیو بیلیسٹروس-کینواس کے مطابق، ہمالیہ میںبرفانی تودے زیادہ خطرناک ہوتے جا رہے ہیں، کیونکہ گرمی کی وجہ سے پرما فراسٹ (زمین کیزیریں سطح جو مستقل طور پر منجمد رہے جیسے کہ قطبین کے علاقے میں) کی تنزلی ہوتیہے۔ انٹرنیشنل سینٹر فار انٹیگریٹڈ ماؤنٹین ڈویلپمنٹ کے ایوالانش ان ہائی ماؤنٹین ایشیا ڈیٹا بیسسے پتہ چلتا ہے کہ خاص طور پر گزشتہ 20 سالوں میں جان لیوا برفانی تودے زیادہ عام ہو گئے ہیں۔ ہمالیہ میں برفانی تودے بھی ایک اور بڑھتے ہوئے خطرے کا ایک بڑا محرک ہیں: برفانی جھیل کےپھٹنے سے آنے والے سیلاب یعنی گلوفس (GLOFs)۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب گلیشیئر کے آگے کیطرف نکلے ہوئے حصّے پر جمع ہونے والا پگھلا ہوا پانی اسے روکے ہوئے ڈیم کو توڑ دیتا ہے، یہزلزلہ یا برفانی تودے جیسے محرک کی بدولت ہوتا ہے۔ 1930 سے کوہ ہندوکش ہمالیہ میں رونماہونے والے 30 گلوفس کا تجزیہ جو برطانیہ میں یونیورسٹی آف ایسٹ لندن کے سائنسدانوں نے کیا، اسسے معلوم ہوا کہ 23 فیصد برفانی تودے سے شروع ہوئے۔ کم برف، زیادہ ہوا اور پیچھے ہٹتے ہوئے گلیشیئرز کا مطلب مزید برفانی تودے ہوسکتے ہیں برطانیہ کی ابرڈین یونیورسٹی میں سیاروں کے سائنس کے پروفیسر جیویئر مارٹن ٹورس بتاتے ہیںکہ جب ہمالیہ میں سنو پیک کی شکل میں ہمالیہ میں برف جمع ہوتی ہے تو اس سے ایک قدرتی ‘گوند’بنتا ہے جو برفانی تودے میں تازہ برف کو پہاڑی ڈھلوانوں سے پھسلنے سے روکتا ہے۔ ان کا کہناہے کہ اس خطے میں برف میں کمی نے اس ’گوند‘ کو کم کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں برفانیتودے گرنے کی تعدد میں مجموعی طور پر اضافہ ہوا ہے۔ Recommended مارٹن ٹورس نے مزید کہا کہ ہمالیہ میں گلیشیئرز کا پگھلنا اور پیچھے ہٹنا، جو خطے کے گرم درجہحرارت کی وجہ سے ہوتا ہے، برفانی تودے کا باعث بن سکتا ہے۔ مارٹن ٹورس کا کہنا ہے کہ جیسےجیسے گلیشیئر پگھلتا ہے، پانی اس کی بنیاد میں جمع ہوتا ہے جس کے نتیجے میں برف پھسل سکتیہے، جس سے برفانی تودے کے پھسلنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی بھی ہمالیہ میں ہوا کو تبدیل کر رہی ہے، جو برفانی تودے کے خطرےکا ایک اور عنصر ہے۔ مارٹن ٹورس نے وضاحت کی ہےکہ “بڑھتے ہوئے درجہ حرارت نے خطے میں ہوا کی رفتار میں اضافہ کیا ہے، جس سے برف اور بھی زیادہ متحرک ہو کر اپنے وزن کو مزیدبڑھانے کے قابل ہو جاتی ہے اور برفانی تودے میں تیزی سے حرکت کرنے کے لئےتیار ہوجاتی ہے۔” مغربی ہمالیہ کو خاص طور پر برفانی تودے سے کیوں خطرہ ہے؟ عائشہ خان کے مطابق، جب کہ ہمالیہ کی بلندی پر برف کے پھیلاؤ کا مطلب ہے کہ پہاڑی سلسلے میںبرفانی تودے گرنے کا خطرہ ہے، “مغربی ہمالیائی پٹی کے علاقے، بشمول ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ[بھارت کی ریاستیں]کو زیادہ خطرہ ہے۔”مغربی ہمالیہ (شمال مغربی ہندوستان اور شمالی پاکستان) میں 1,100 مربع کلومیٹر سے زیادہ برف کےاحاطے کو ہندوستانی حکومت کے تحقیقی مرکز سنو اینڈ ایوالانچ اسٹڈی اسٹیبلشمنٹ نے ‘برفانی تودوںکے مقامات’ کے طور پر درجہ بند کیا ہے، اور ہر سال اِس خطے میں برفانی تودے گرنے سے اوسطاً49 افراد ہلاک ہوتے ہیں۔ فروری 2019 میں کشمیر میں ایک بند قومی شاہراہ پر ایک پھنسا ہوا ڈرائیور برف صاف کر رہا ہے۔برفانی تودہ گرنے سے سات افراد کی ہلاکت کے بعد سڑک کئی دنوں سے بند تھی۔ (تصویر: الامی) جنیوا یونیورسٹی کے مطالعے جس نے ہماچل پردیش میں گزشتہ 150 سالوں میں برفانی تودوں کابصری نقشہ تیار کرنے کے لئے درختوں کے تنوں میں سال بسال پڑنے والا حلقوں سے جمعہونے والے اشاروں کا استعمال کیا تھا اس نتیجے پر پہنچا کہ موسم سرما اور موسم بہار کے شروع میںہوا کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت نے مغربی ہندوستانی ہمالیہ میں برف کے گیلے ہونے میں اضافہ کیاہے، جس کے نتیجے میں مزید گیلے برفانی تودے گرے ہیں۔ پچھلے 25 سالوں میں، شمال مغربی ہمالیہمیں زیادہ سے زیادہ اور اوسط درجہ حرارت میں اضافہ ہوا ہے۔ ہمالیہ میں برفانی تودوں کے گرنے کے خطرات کو کم کرنے کے لئے کیا کِیا جا سکتاہے؟ انڈیا کے نیشنل سینٹر فار پولر اینڈ اوشین ریسرچ سے سورو لاہا کا کہنا ہے کہ ہمالیہ میں برفانیتودوں کے زیرِ اثر آنے والےممکنہ مقامات کی نشاندہی کرنا اور انفراسٹرکچر کو ترقی دینے سےپہلے خطرات کا اندازہ لگانا ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گلیشیئرز کے قریب منصوبوں کےلئے کی جانے والی ماحولیاتی اثرات کی تشخیص کی روشنی میں اِن منصوبوں کے آفات کو کم کرنےکے اقدامات کی اچھی طرح سے جانچ پڑتال کرنی چاہیے۔ عمومی طور پر، ہمالیہ میں برفانی تودوں کو سست اور کنٹرول کرنے کے لئے زیادہ وسیع پیمانے پرکئے جانے والے اقدامات درج ذیل ہیں۔: ⚪ کیچ ڈیمز، جو برفانی تودوں کو کم کرتے ہیں۔ ⚪ ڈائیورژن ڈیم، جو برفانی تودوں کو وہاں سے ہٹاتے ہیں جہاں سے وہ جان و مال کے لئے خطرہ بن سکتے ہیں۔ ⚪ مٹی کے ٹیلے، جو نسبتاً سیدھی ڈھلوانوں پر برفانی تودوں کو کم کرنے کے لئے رگڑ پیدا کرتے ہیں۔ ⚪ درخت لگانا، جو برفانی تودوں کو سست کر سکتے ہیں اور ان کے اثرات کو کم کر سکتے ہیں۔ اس آرٹیکل میں نتالی ٹیلر کی طرف سے اضافی معلومات شامل کی گئی ہیں۔ پڑھنا جاری رکھیے مضمون موسمی اثرات The aftermath of Kyrgyzstan’s viral glacier collapse راۓ آفات Uttarakhand before climate tragedy: a mountaineer remembers وضاحت کنندہ آفات Explained: How forest fires worsen flash floods in the Himalayas مضمون آفات بروقت انتباہ پگھلتے ہوئے گلیشیر سے ہونے والے جانی نقصان سے بچاتا ہے مضمون جنس پاکستان کی خواجہ سراء کمیونٹی موسمیاتی تباہی اور سماجی تنہائی دونوں سے لڑ رہی ہے مضمون شدید موسم سات ماہ گزرنے کے بعد بھی سندھ سیلاب کی تباہ کاریوں سے نبرد آزما ہے مضمون جنگلی حیات دارالحکومت میں چیتوں کی واپسی انسان اور جنگلی حیات کے تصادم کے چیلنج کو نمایاں کرتی ہے مضمون کوئلہ چین پاکستان اقتصادی راہداری میں کوئلے کی واپسی