آب و ہوا موسمیاتی تبدیلی جنوبی ایشیامیں فضائی انتشار اور ہوابازی کے لیے خطرات پیدا کر رہی ہے ماہرین بڑھتے ہوئے درجہ ءحرارت، کاربن کے اخراج اور فضا میں بڑھتے ہوئے انتشارکے درمیان موجود روابط کو اجاگر کرتے ہیں ۔یہ فضائی انتشار یابے ترتیبی اگر شدید ہوتو اس کا نتیجہ طیاروں میں سوارافرادکے زخمی ہونے کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ اردو اردو हिन्दी 中文 English Share this article × Copy link to page Copy link to page × اس مضمون کو دوبارہ شائع کریں ہم آپ کو کری ایٹو کامنز لائسنس کے تحت ، دی تھرڈ پول کے مضامین آن لائن یا پرنٹ میں دوبارہ شائع کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ براہ کرم شروع کرنے کے لئے ہماری دوبارہ اشاعت کے رہنما خطوط پڑھیں۔ ایک گرم سیارہ ایک ایسے وقت میں ہوا کی ہنگامہ خیزی کو بڑھا رہا ہے جب ہندوستان اور پاکستان جیسے ممالک میں ہوائی ٹریفک میں خاطر خواہ اضافہ ہو رہا ہے (تصویر: ٹامس لاماس کوئنٹاس/ المی) چندرانی سنہا , شبینہ فراز مئی 23, 2024May 31, 2024 اس ہفتے، سنگاپور ایئر لائنز کی ایک پرواز کوموسمیاتی تبدیلی کے باعث میں فضا میں شدید انتشارکا سامنا کرنا پڑا۔ طیارے میں سوار ایک مسافر جنہیں دل کا عارضہ تھا ، جان سے ہاتھ دھو بیٹھےاور متعدد دیگرافراد زخمی ہوئے۔ یہ واقعہ فضائی انتشار اور ہوابازی کو لاحق خطرات کے حوالےسے پے درپے ہونے والے واقعات کے تسلسل میں تازہ ترین تھاجن کے باعث اب دنیا بھر کی توجہموسمیاتی تبدیلی اور ان کے نتیجے میں فضا میں بڑھنے والے انتشار پر مرکوز ہوگئی ہے۔یکم مئی 2022 کو، ممبئی سے کولکتہ جانے والی اسپائس جیٹ کی پرواز کو بھی فضا میں اسی طرحکا انتشار، ہنگامہ آرائی یا بے ترتیبی کا سامنا کرنا پڑا، جس سے متعدد افراد زخمی ہوئے۔ کئی مہینےبعداس پرواز میں زخمی ہونے والے ایک مسافر کی موت بھی واقع ہو گئی۔ہیمل دوشی، جواس اسپائس جیٹ کی پرواز میں سوار تھیں، نے اپنی زندگی کے اس بھیانک تجربےکو یاد کرتے ہوئے بتایا، “اچانک جھٹکے نے ہم سب کو گھبراہٹ میں ڈال دیا۔ میں نے اپنے ساتھبیٹھی ایک بزرگ خاتون کو پکڑ لیا تاکہ وہ اپنی سیٹ سے گرنے سے بچ سکیں۔“اسی طرح، 11 جون 2022 کو، پاکستان کے تجارتی دارالحکومت کراچی سے پشاور جانے والی ایئربلیو کی پرواز کو بھی غیر متوقع طور پر ہنگامہ آرائی کا سامنا کرنا پڑا، جہاز کو لگنے والےجھٹکے اتنے شدید تھے کہ تمام مسافر دہشت زدہ ہوگئے ۔جہاز میں سوار ایک مسافر نسرین پاشا نےبتایا کہ شدید افراتفری کے عالم میں تمام مسافر باآواز بلند تلاوت اور دعا کر رہے تھے اورگرنے سےبچنے کے لیے ایک دوسرے کو پکڑرکھا تھا۔نسرین پاشا نے بتایا، “سب کچھ ٹھیک تھا اور ہم ہموار پرواز اور مہمان نوازی سے لطف اندوز ہورہے تھے۔ لیکن اچانک، پرواز ناہموار اور شدید جھٹکوں کا شکار ہوگئی۔” فضائی انتشار کی سائنسی توجیہ اور اثرات اسلام آباد میں مقیم ایک سائنس داں محمد عمر علوی کے مطابق، غیر محفوظ آسمانوں کا سبب انسانوںکی جانب سے پیدا کیا گیا ماحولیاتی بگاڑ ہے۔ “اوسط درجہ ءحرارت میں اضافے اور جنگلات کیکٹائی کے باعث، ملک کے بڑے شہروں میں اور ان کے آس پاس کا ماحول مزید غیر مستحکم ہو گیاہے۔ یہ عمل فضا میں حرارت کے غیر متوقع دھاروں کی تشکیل کا باعث بنتا ہے جس کے نتیجے میںغیر متوقع طور پر فضامیں طیاروں کوہنگامہ خیزی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،خاص طور پر کراچی اورلاہور جیسے بڑے ہوائی اڈوں کے ارد گر۔” ڈاکٹر عمر علوی نے تفصیل سے بتایا۔ عالمی سطح پر کیے گئے ایک مطالعے، جس کے نتائج 2019 میں یونیورسٹی آف ریڈنگ کےمحکمہ موسمیات کی طرف سے شائع کیے گئے تھے، پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ موسمیاتیتبدیلیوں کے نتیجے میں فضا ئی ٹریفک کو بدترین اثرات کا سامنا ہوسکتا ہے ۔طیاروں کو فضا میںفضائی انتشار یا(clear-airturbulence (CAT) کا سامناکرنا پڑسکتا ہے جس کے بدترین اثرات مرتب ہوں گے ۔ یہ بھی واضحکیا گیا کہ اس قسم کی شدید فضائی ہنگامہ خیزی بادلوں کے بغیر علاقوں میں واقع ہوتی ہے اورمسافروں کے ساتھ ہوائی جہاز کے ڈھانچے پر بھی بدترین اثرات کا سبب بنتی ہے، لیکن بادلوں کیعدم موجودی کی وجہ سے اس کی پیش گوئی کرنا مشکل ہے۔اس مطالعے نے یہ بھی واضح کیا کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے بڑھتے ہوئے اخراج کی وجہ سے فضامیں گرم ہوا کے دھاروں کی شدت بڑھتی ہے ، جس سے عالمی سطح پرہوائی ٹریفک کے لیے بےترتیبی(clear-air turbulence (CAT)) میں اضافہ ہوتاہے۔ اس کے نتیجے میں، شمالی بحر اوقیانوسجیسی مصروف فضائی حدود متاثر ہو رہی ہے، جہاں 1979 سے 2020 تک شدید فضائی انتشارمیں55 فیصد اضافہ ہوا ہے۔پاکستان میٹرولوجیکل ڈپارٹمنٹ کے ایک سینیئر اہلکارسردار سرفراز خان نے کہا، “یہ پیش گوئی (فضائی انتشار) بالائی ماحول یعنی( 85 کلومیٹر سے 600 کلومیٹرتک) ہوا کے اعداد و شمار کی بنیاد پر کی جاتی ہے جو ریڈیوسونڈنامی آلے سے حاصل ہوتے ہیں، جو فضا میں 100 گرام کے غبارے کے ساتھ چھوڑا گیا ہوتا ہے۔عام طور پر 30,000 فٹ سے اوپر کی سطح پر بہت تیز ہوا کے ساتھ جیٹ اسٹریم جہازوں کے لیےانتشار کا باعث بنتی ہے۔” اگر مستقبل میں گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے، تو واقعات کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوگا۔IIT کھڑگپور کے آب و ہوا کے ایک ماہر اور ماحولیاتی کیمیا دان جے نرائن کٹی پورتھ انہوں نے مزید کہا، “یہ فضائی انتشار یا بے ترتیبی دراصل صرف حرکت پذیر ہوا ہوتی ہے۔ اور ہواریڈار میں استعمال ہونے والی الٹرا ہائی فریکوئنسی ریڈیو لہروں سے شفاف ہے۔لہذا ریڈار پر اس ہواکی کوئی بازگشت یا نشان دہی نہیں ہوسکتی ہے۔” موسمیاتی تبدیلی سے گہرا تعلق سائنس داں، جیسے کہ رگھو مرتگوڈے، جو IIT بمبئی میں موسمیاتی تبدیلیوں کے نصاب کے پروفیسراور میری لینڈ یونیورسٹی کے ایمریٹس پروفیسر ہیں، وہ موسمیاتی تبدیلی اورفضا میں بڑھتی ہوئیہنگامہ خیزی کے درمیان تعلق کواجاگر رہے ہیں۔ “گلوبل وارمنگ کے ساتھ، عمودیدرجہءحرارت(بڑھتی ہوئی بلندی کے ساتھ درجہ ءحرارت میں کمی) اور ونڈ پروفائلز (مختلف بلندسطح پر ہوا کی رفتار کے درمیان تعلق) کیونکہ زمین اضافی توانائی سے چھٹکارا پانے کی کوششکر رہی ہے جو گرین ہاﺅس گیسوں کی وجہ سے زمین پر موجود ہے۔ فضا میں تیز اوپر اور نیچے کی طرف حرکت اور درجہ ءحرارت کی سطح میں بھی اضافہ ہوتا ہے، جس سے فضا میں انتشار یا(Clear-air turbulence) تشکیل پاتاہے۔”IIT کھڑگپور کے آب و ہوا کے ایک ماہر اور ماحولیاتی کیمیا دان جے نرائن کٹی پورتھ نے ڈائیلاگارتھ کو بتایا، “انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی گلوبل وارمنگ پوری دنیا میں سطح پرموجودہوا کے درجہءحرارت میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔ نتیجتاً، شدید موسمی واقعات بھی متواتر اور تباہکن طور پر رونماہو تے ہیں۔ اعدادو شمار کو دیکھتے ہوئے یہ خطرہ موجود رہتا ہے کہ عالمی سطحپرہوا کے درجہءحرارت میں ہر فی سینٹی گریڈ اضافے کے ساتھ شمالی نصف کرہ کے موسم بہاراور سرما میں معتدل CAT واقعات میں تقریباً % 9اور خزاں اور گرما میں % 14اضافہ ہو جائے گا۔اگر مستقبل میں گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے، تو CAT واقعات کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوگا۔انہوں نے ابتدائی انتباہی نظام(Early Warning System) کو بہتر بنانے اور ہوائی جہازوں میں ایسےآلات نصب کرنے پر زور دیا جو ایسے واقعات کا اندازہ لگاسکیں ۔ آئی آئی ٹی بمبئی میں انموضوعات پر تحقیق جاری ہے۔ہندوستان کی ارتھ سائنسز کی وزارت کے سابق سکریٹری مادھون نیر راجیون نے کہا کہ مسافروں کوہوشیار رہنا ہوگا، “فضائی بے ترتیبی میں اضافہ اور اس سے متعلقہ خطرات، جیسے کہ شدید موسمیواقعات وغیرہ، مسافروں کے زیادہ توجہ دینے کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔ جبکہ ہوا بازی کےشعبے کا کردار اہم ہے جس میں موسمیاتی تبدیلی کو قبول کیا جاتا ہے، ان مسائل سے نمٹنے کے لیےمشترکہ کوشش بہت اہم ہے، پروازوں کی منسوخی کی مالی لاگت بھی فضائی سفر پر موسمیاتی تبدیلیکے اثرات کو کم کرنے کے لیے فعال اقدامات کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔پاکستانی موسمیاتی سائنس داں محمد ایوب خان نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی فضائی صنعت کو متعددطریقوں سے متاثر کر رہی ہے۔ “انتہائی گرمی طیاروں کو گراونڈ رکھ سکتی ہے، جب کہ بڑھتیہوئی حرارت جیٹ اسٹریمز میں تبدیلی کرسکتی ہے جس سے فضا میں مزید بے ترتیبی اور انتشار ہوسکتا ہے، اس کے نتیجے میں ہوائی اڈے کے کارکنوں کی صحت کے لیے خطرات اور ہوائی اڈےکے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔” جنوبی ایشیا میں ہوابازی کی پھلتی پھولتی صنعت اور خطرات یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ہوائی سفر کی صنعت خاص طور پر جنوبی ایشیا میںنمایاں طور پر ترقی کر رہی ہے۔ انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (آئی اے ٹی اے) کیرپورٹ کے مطابق ہوابازی کی صنعت پاکستان کی قومی جی ڈی پی میں 2 ارب امریکی ڈالرز کااضافہ کررہی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ غیر ملکی سیاحوں کے خرچ سے ملک کے جی ڈی پی میںمزید 1.3 بلین امریکی ڈالر کا اضافہ ہوتا ہے، جو کل 3.3 بلین امریکی ڈالر بنتے ہیں۔ رپورٹ میں “موجودہ رجحانات” کے منظر نامے کے تحت اگلے 20 سالوں میں پاکستان میں ہوائینقل و حمل میں 184 فیصد اضافے کی پیش گوئی بھی کی گئی ہے۔ اس کے نتیجے میں 2038 تکاضافی 22.8 ملین فضائی مسافروں کی آمدورفت بڑھے گی۔ اگر بہتر انتظام کے ذریعے اس بڑھتیہوئی طلب سے فائدہ اٹھایا گیا تو جی ڈی پی میں تقریباً 9.3 بلین امریکی ڈالر کا اضافہ ہوگا اور ملککے لیے تقریباً 786,300 ملازمتیں پیدا ہوں گی۔ہندوستان میں، IATA نے اگلے 20 سالوں میں% 262 ترقی کی پیش گوئی کی ہے، جس کا مطلب ہےکہ اس کے نتیجے میں 2037 تک 370.3 ملین مسافروں کے اضافی سفر ہوں گے۔ اگراس طلب کوپورا کیا جائے، تو اس بڑھتی ہوئی مانگ سے GDP میں تقریباً 126.7 بلین امریکی ڈالرز کا اضافہہوگا اور تقریباً 9.1 ملین ملازمتیں شامل ہوں گی۔ ماحول دوست ہوا بازی کی صنعت ہوا بازی کی صنعت کو برسوں سے اس کے بڑھتے ہوئے ماحولیاتی اثرات، خاص طور پر فضامیںکاربن کا اخراج جو فضا میں حرارت میں اضافہ کرتا ہے، کے لیے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔لیکن جرمن ایرو اسپیس سینٹر کے ایک محقق، برنڈ کرچر کی ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہہوائی جہازوں کا ایک اور ضمنی پروڈکٹ – دھوئیں کی وہ سفید دھاریاں(Contrails) جو وہ آسمان پرپینٹ کرتے ہیں – کی گرمی کا اثر اور بھی شدید ہے، جو 2050 تک تین گنا ہو جائے گا۔اس تحقیق میں کہا گیا ہے، “طیارے شفاف، ٹھنڈی ہوا میں اونچے اڑتے ہی اپنے مسحور کن دھاریوںکا اخراج کرتے ہیں جن پر دیکھنے میں خوبصورت بادلوں کا گماں ہوتا ہے ۔ پانی کے بخارات ہوائیجہاز سے اخراج کے بعد ارد گرد ٹھنڈی فضا میں تیزی سے گاڑھے ہو نے لگتے ہیں اورایسےبادلوں کی شکل میں جم جاتے ہیں جن میں برف کے ٹکڑے بھی ہوتے ہیں، جو منٹوں یا گھنٹوں تکرہ سکتے ہیں۔ یہ اونچے اڑنے والے بادل بہت زیادہ سورج کی روشنی کو منعکس کرنے کے لیےپتلے ہونے کے باعث ناموزوں ہوتے ہیں، لیکن ان کے اندر موجود برف کے کرسٹل گرمی کو ٹریپکرلیتے ہیں۔ نچلے درجے کے بادلوں کے برعکس جو خالص ٹھنڈک کا اثر رکھتے ہیں، یہ متضادبادل آب و ہوا کو گرم کرتے ہیں۔ہوابازی کے کچھ ماہرین جہازوں سے کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے لیے سبز ٹیکنالوجی کےشعبے میں تجربہ کر رہے ہیں ، اگراس حوالے سے کامیابی حاصل ہوجاتی ہے تو اس کا نتیجہ فضامیں طیاروں کو لاحق خطرات (CAT) میں کمی کی صورت میں نکل سکتا ہے، جودراصل کاربن کےاخراج سے وقوع پزیر ہوتے ہیں۔سارہ قریشی، ایک پاکستانی پائلٹ اور ایروناٹیکل انجینئر ہیں، جن کا مقصدطیاروں کے پرواز کےدوران خارج ہونے والے سفید دھوئیں (Contrails) کی آلودگی کو کم کرنا اور ہوا بازی کی صنعت کوسرسبز بنانا ہے۔ سارہ قریشی نے برطانیہ کی کینفیلڈ یونیورسٹی (Canfield University)سے ایرو اسپیس انجینئرنگمیں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ہے، انہوں نے ہوائی جہاز کے ماحول دوست انجن بنانے کے لیےایک ایرو انجن کرافٹ کمپنی قائم کی ہے۔یہ انجن ہوائی جہاز سے خارج ہونے والے پانی کے بخاراتکو ٹھنڈا کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، اس لیے یہ آبی بخارات خارج ہونے کے بجائے پانی کیشکل میں جہاز میں جمع ہوتے رہیں گے اور ضرورت پڑنے پر اس پانی کو خشک سالی والےعلاقوں میں بارش کے طور پر چھڑکاجا سکتا ہے۔پاکستان سے ہوا بازی کے ماہر محمد حیدر ہارون کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ، “پائیدار ہوابازیکے ایندھن کی پیداوار میں اضافہ ہونا چاہیے۔ ہائیڈروجن اور بیٹری/بجلی سے چلنے والے ہوائی جہاز2030 کی دہائی کے آخر میں عالمی ہوا بازی کو زیادہ موثر بنا سکتے ہیں۔ ایندھن کی بچت کرنےوالے ہوائی جہازوں کو عالمی سطح پر جدید ترین ٹیکنالوجی کے ساتھ ایئر لائنز میں شامل کیا جاناچاہیے۔“ہارون کے مطابق، اپ گریڈ شدہ انجن، بہتر ایرو ڈائنامکس، ہلکے کمپوزٹ میٹریل اور بائیو بیسڈپائیدار ایوی ایشن فیول سبز ہوابازی کی صنعت کے حل میں سے ایک ہے اور یہ اقدامات ہوابازی کیصنعت میں انقلاب پیدا کرسکتے ہیں۔سارہ قریشی نے کہا کہ”جب ہم آسمان کی طرف دیکھتے ہیں تو وہاں صرف ایک صنعت کام کرتیہے۔ ہم اس بات پر زیادہ توجہ نہیں دیتے کہ ہم سے ایک کلومیٹر اوپرفضا میں کیا ہو رہا ہے۔ یہہوابازی کی آلودگی ایک کمبل کی طرح ہے جو آہستہ آہستہ زمین کی سطح کو ڈھانپ رہا ہے، اورگلوبل وارمنگ میں اپناحصہ ڈال رہا ہے۔“یہ تحقیقی رپورٹنگ پروجیکٹ ایسٹ ویسٹ سینٹر کے زیر اہتمام ”سرحدوں کے آر پارٹریننگورکشاپ“ کا حصہ ہے، جہاں دونوں ممالک کے صحافی سرحد پار موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالےسے مشترکہ مسائل پر کام کرنے کے لیے اکٹھے ہوئے تھے۔ رپورٹنگ کا یہ منصوبہ ایسٹ ویسٹ سینٹر کے زیر اہتمام سرحد پار ورکشاپ کا حصہ ہے، جہاں دونوں ممالک کے صحافی سرحد پار موسمیاتی تبدیلیوں پر کہانیاں دریافت کرنے کے لیے اکٹھے ہوئے تھے۔ پڑھنا جاری رکھیے مضمون دریا بدلتے ہوئے دریا کنارے زندگی: دریائے سندھ کے کنارے رہنے والوں کی زندگیوں کی جھلکیاں مضمون برقی گاڑیاں پاکستان الیکٹرک بائیکس اور رکشا کے لئے تو تیار ہے لیکن بجلی کی کار کے لئے نہیں مضمون شدید موسم بار بار آنے والے سیلابوں کی وجہ سے پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے تقاضوں کے مطابق رہائشی تعمیر پر غور کرنے پر مجبور ہے مضمون جغرافیائی سیاست پاکستان کو ایرانی گیس پائپ لائن پر دباؤ کا سامنا ہے، جبکہ توانائی کی منتقلی کے حوالے سے خدشات برقرار ہیں مضمون کاشتکاری موسمیاتی تبدیلی اور غلط پالیسیاں پاکستان کو غذائی عدم تحفظ کی طرف دھکیل رہی ہیں مضمون ڈائیلاگ ارتھ کا تعارف مضمون آفات تجزیہ: گوادر میں سیلاب نے'اھم ترین اثاثہ' رکھنے والے اِس شہر کے بنیادی ڈھانچے کی خامیوں کو نمایاں کیا مضمون انفراسٹرکچر روشنی کی آلودگی کراچی کے ساحل پر آنے والے کچھوؤں کو خطرے میں ڈال رہی ہے