آب و ہوا

جنگ اور موسمیاتی دباؤ کی وجہ سے افغان کسان شدید بحران کے دہانے پرہیں

افغانستان کے تنازعات سے یہاں کے کسان مسلسل متاثر ہو رہے ہیں، جو پہلے ہی خشک سالی، سیلاب اور بڑھتی ہوئی مالی غیر یقینی صورتحال جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں
اردو
<p>افغانستان کے ننگرہار صوبے کے ضلع بہسود میں کام کرتے ہوئے ایک کسان  (تصویربشکریہ  سیف الرحمن صافی / ژنوا / ایمیگو / الامی)</p>

افغانستان کے ننگرہار صوبے کے ضلع بہسود میں کام کرتے ہوئے ایک کسان (تصویربشکریہ سیف الرحمن صافی / ژنوا / ایمیگو / الامی)

جنگ کے دوران بھی مہرب احمدزئی کو بارش کا انتظار ہے

اڑتالیس سالہ یہ کسان افغانستان کے مشرقی صوبہ ننگرہار کے ضلع سرخ رود سے تعلق رکھتے ہیں، جو پاکستان کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ فروری کے اواخر میں جب دونوں ممالک کے درمیان تازہ کشیدگی نے جنم لیا تو یہ ضلع بھی کراس فائرنگ کی زد میں شامل تھا۔ تاہم، احمدزئی جب آسمان کی جانب نظر اٹھاتے ہیں تو یہ جنگ رکنے کے بجاۓ بارش کے لئے ہی دعا کرتے ہیں۔

ان کی گندم کی فصل بارش کے پانی پرمنحصر ہے۔ ان کے نو افراد پر مشتمل کنبے کا دارومدار اسی فصل پہ تھا جسے بونے کے لئے احمدزئی نے اپنی پوری جمع پونجی لگا دی تھی۔ مگر اب ان کی امیدوں کی طرح یہ فصل بھی آہستہ آہستہ ختم ہوتی جا رہی ہے۔

اس علاقے سے سات دریا گزرتے ہیں – کابل، کنر، لوگر، میدن، پنجشیر، گوربند اور الیشنگ۔ لیکن احمدزئی جیسے کسانوں کے لئے یہ نعمت کسی کام کی نہیں۔ نہروں اور کام کرنے والے آبپاشی کے فعال چینلز نہ ہونے کی وجہ سے پانی کبھی ان کے کھیتوں تک نہیں پہنچتا۔

“دہائیوں کی جنگ سے ہمیں یہ ملا ہے،” احمدزئی کہتے ہیں۔

افغانستان نے چار دہائیوں سے زائد عرصہ مسلح تنازعات دیکھے ہیں۔ یہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے حوالے سے دنیا کے سب سے زیادہ حساس ممالک میں سے ایک ہے۔ تنازعات   نے نہ صرف ملک کو سیاسی اور معاشی طور پر نقصان پہنچایا ہے بلکہ اس نے اپنے پانی کو استعمال اور اس کے انتظام کی صلاحیت کو بھی متاثر کر دیا ہے۔ آبپاشی کا نظام بوسیدہ ہو چکا ہے، واٹرشیڈ کی منصوبہ بندی رک گئی ہے، اور دیہی انفراسٹرکچر تباہ ہونے کے لئے چھوڑ دیا گیا ہے۔

افغانستان کی نیشنل انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کے سابق ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل، عبدالولی مودقیق نے ڈائیلاگ ارتھ کو بتایا کہ تقریباً مسلسل جاری تنازعے نے ملک کی صلاحیت مفلوج کر دی ہے کہ وہ اپنے واٹرشیڈ کو ترقی دینے کا کوئی مؤثر طریقہ کار تیار کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ “پچھلی حکومتوں کی جانب سے آبپاشی کے بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے لئے منظورشدہ منصوبے دیہی افغانستان میں مسلسل سیکورٹی خطرات کی وجہ سے شروع نہیں کئے جا سکے۔”

یہ طویل کشمکش، اب آب و ہوا کے شدید تناؤ سے متصادم ہے۔ افغانستان شدید خشک سالی کا شکار ہے۔ اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کی 2025 کی ایک رپورٹ کے تخمینہ کے مطابق، 2025 کے نصف آخر میں ملک میں تقریباً 10 ملین افراد ” خوراک کے شدید عدم تحفظ” کا شکار تھے، اور ان میں سے ایک تہائی خشک سالی سے متاثرہ علاقوں سے تھے۔

افغانستان میں خشک سالی کی صورتحال مسلسل بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ پچھلے سال کی خشک سالی “2018 اور 2021 کی خشک سالیوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر شدید اور وسیع تر تھی”، جس کے نتیجے میں “فصلی دباؤ، نباتات میں مزید کمی، اور وسیع تر جغرافیائی اثرات” دیکھنے کو ملے۔ رپورٹ میں یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ “وسیع پیمانے پر بارانی فصلوں کی ناکامی اور خطرناک حد تک زیر زمین پانی کی کمی” ہوئی۔

پاکستان کے ساتھ تازہ ترین کشیدگی نےغذا اور روزگار کے عدم تحفظ کو مزید بڑھاوا دیا ہے۔ افغانستان اپنے پانی کے وسائل کا تقریباً 90 فیصد حصہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ شیئر کرتا ہے، پھر بھی اس کے پاس صرف  ایران کے ساتھ ایک دوطرفہ پانی کا معاہدہ ہے، اور پاکستان کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہے۔ دریاۓ کابل، جو افغانستان سے پاکستان میں بہتا ہے، سرحد کے دونوں طرف لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کا سہارا ہے۔

دیہی افغانستان کے کسانوں کے لئے یہ بحران ان کی روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔ کچھ کسان گندم، چاول اورمکئی  جیسی پانی پہ منحصر فصلوں کو چھوڑ کر پھلیوں، جو، سورگم اور ٹماٹر کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ ضلع کے ایک اور کسان عبدالواحد امیری کہتے ہیں، “کئی لوگ ناامیدی میں پوست کی کاشت  رہے ہیں، حالانکہ طالبان نے اس پر پابندی عائد کی ہوئی ہے”۔

لیکن افغان کسان اب صرف ایک خراب موسم یا ایک ناکام پالیسی کا سامنا نہیں کر رہے۔ وہ خشک سالی، تنازعات، موسمیاتی تبدیلی اور مسلسل غیر یقینی صورتحال کے بوجھ تلے زندگی گزارنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مسلسل فصلوں کی ناکامی، بڑھتے ہوئے اخراجات اور معدوم ہوتی بارش سے پریشان، امیری نے کاشتکاری بالکل بند کر دی اور وہ بھی علاقے کے کئی دوسرے لوگوں کی طرح کام کی تلاش میں شہر منتقل ہو گئے ہیں۔

اپنے کھیت پر موجود احمدزئی بولے، “کم پانی والی فصلیں قلت میں زندہ رہ سکتی ہیں، شدت میں نہیں۔”

بڑھتی ہوئی قلّت

ہر گزرتے سال کے ساتھ پانی کی سطح کم ہوتی جا رہی ہے۔

افغانستان کے دریا دہائیوں سے بڑھتے ہوئے دباؤ میں ہیں، کیونکہ ماحولیاتی بگاڑ اور روز بروز غیر متوقع موسمی حالات آپس میں متصادم ہیں، یہ بات جرمنی کے شہر بون میں مقیم ماہر پانی کے وسائل، ڈاکٹر فضل اللہ اختر نے بتائی۔ اختر کے مطابق موجودہ پیش گوئیاں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ نہ صرف دریا کی بلند ترین سطح کم ہو رہی ہے بلکہ پانی دستیاب ہونے کے اوقات میں بھی تبدیلی آ رہی ہے۔ “ہماری ماڈلنگ سے پتہ چلتا ہے کہ ماہانہ زیادہ سے زیادہ پانی کی روانی 2050 تک تقریباً 40 فیصد تک کم ہو سکتی ہے، جبکہ برف کے پگھلنے کا عمل بہار میں پہلے شروع ہونے کا امکان ہے،” وہ کہتے ہیں۔

دریائے کابل کا طاس، جو کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحد ڈیورنڈ لائن پر پھیلے ہوئے نو صوبوں کے 25 ملین لوگوں کی روزی روٹی کا سہارا ہے، پہلے ہی کمزور ہوتا جا رہا ہے۔ 1950 اور 2018 کے درمیان اس کے اوسط خارج ہونے والے مادہ میں 4.6 فیصد کی کمی واقع ہوئی۔

اس کمی کے اثرات افغانستان سے آگے بھی ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تازہ ترین کشیدگی اور یہ اثرات ساتھ مل کر، پاکستان کے زیریں علاقوں میں پانی کی کمی کو مزید تیز کر سکتا ہے۔ انڈس ریور سسٹم اتھارٹی کے ایک رکن نے اپنی شناخت نہ ظاہر ہونے کی شرط پر کہا کہ ابتدائی خریف سیزن میں دریاۓ سندھ کا تقریباً 20 فیصد پانی افغانستان سے آتا ہے۔ انہوں نے کہا، “افغانستان میں یکطرفہ ہائیڈرو پاور پراجیکٹس بہاؤ کو تقریباً 16 فیصد تک کم کر سکتے ہیں، جس سے پاکستان میں خیبر پختونخواہ اور پنجاب کے زیریں علاقوں میں فصلوں، پانی کے ذخیرے اور توانائی کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔”

دوسرے الفاظ میں، ماحولیاتی دباؤ کا شکار یہ دریا مستقبل میں “پانی سے جڑی سیاسی کشیدگی” کا ایک نیا سبب بن سکتا ہے۔

dried up kabul river
یہ تصویر 2010 کی ہے جس میں کابل دریا تقریباً خشک نظر آ رہا ہے  (تصویر بشکریہ ٹون کوئن / الامی)

ماہرین کے مطابق موافقت کے پائیدار راستوں میں سے ایک اہم راستہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون ہے۔ مدقق کہتے ہیں، “اس پانی کو باہمی تعاون کے ذریعے استعمال میں لانا پورے خطے کے لئے فائدہ مند ہوگا۔”  ان کے مطابق بہتر انتظام سے کیچمنٹ علاقوں میں شجرکاری کو فروغ دیا جا سکتا ہے، بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کو کم کیا جا سکتا ہے، گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار کو سست کیا جا سکتا ہے اور دریاؤں میں مٹی (سلٹ) کی مقدار کو بھی کم کیا جا سکتا ہے۔

تاہم فی الحال، زیادہ تر لوگ اس بات پر شکوک و شبہات رکھتے ہیں کہ ایسا کوئی دریائی معاہدہ جلد ممکن ہو سکے گا۔ انڈس ریور سسٹم اتھارٹی کے ایک اہلکار نے کہا، “افغانستان نے ایک بار پھر ایسے حل طلب معاملات پر تعاون کے امکانات ختم کردے ہیں جو نیٹو افواج کے انخلا اور کابل میں موجودہ نظام کے قیام کے بعد ممکن تھے۔”

 جب موافقت ناکام ہوجاۓ

سرحد کے افغان حصے میں جب پانی دستیاب ہونا چاہیے، تب بھی قلت برقرار رہتی ہے۔

ننگرہار اور لغمان صوبوں میں کسانوں کو شدید قلت کا سامنا ہے، حتیٰ کہ وہاں بھی جہاں معاون دریا قریب سے گزرتے ہیں۔ مسئلہ صرف پانی کی کمی نہیں، بلکہ موجود پانی کو استعمال نہ کر پانے کی صلاحیت کا فقدان ہے۔ آبپاشی کی نہریں مٹی سے بھری ہوئی ہیں، تقسیم کے نظام خستہ حالی کا شکار ہو چکے ہیں، اور وہ پانی جو کھیتوں تک پہنچنا چاہیے، راستے میں ہی ضائع ہو جاتا ہے۔ کابل میں محکمہ زراعت، آبپاشی اور لائیوسٹاک کے ایک سینئر اہلکار نے کہا،  “آبپاشی کی بوسیدہ نہریں اور تقسیم کا نظام مکمل طور پر تباہ حالی کا شکار ہیں، جس کی وجہ سے کسان ہمارے ملک سے گزرنے والے دریاؤں کے پانی سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔” اہلکار نے دورانِ جنگ اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے سامنے آنے سے گریز کیا اور نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی۔

اہلکار نے مزید کہا، “بنیادی ڈھانچے کو دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے، اور دیکھ بھال کے لئے فنڈنگ، استحکام اور پُرامن ماحول درکار ہوتا ہے تاکہ نظام درست طریقے سے چل سکے۔ گزشتہ چار دہائیوں میں یہ بنیادی عناصر زیادہ تر موجود نہیں رہے، نہ کوئی مستقل مرکزی یا صوبائی اختیار، وسیع پیمانے پر ہجرت، بمباری، نہ ہونے کے برابر سرمایہ کاری، اور تقریباً کوئی صنعت نہیں۔ ان تمام عوامل نے زرعی شعبے کو بری طرح تباہ کر دیا ہے۔”

اقوامِ متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او )  کی 2017 کی ایک رپورٹ کے مطابق، چار دہائیوں کی جنگ سے افغانستان میں آبپاشی کا نظام “مختلف درجوں کی خستہ حالی” کا شکار ہے، جس کے نتیجے میں ملک میں زیرِآبپاشی رقبہ تقریباً 70 فیصد تک کم ہو گیا اور فصلوں کی پیداوار میں 50 فیصد سے زیادہ کمی واقع ہوئی۔

کسانوں کے لئے یہ خستہ حالی ہر جگہ نظر آتی ہے۔ گاد اور مٹی نہ صرف نہروں کو بند کر رہی ہے بلکہ کھیتوں میں پھیل کر زمین کو بھی خراب کر رہی ہے۔ سرخ رود ضلع کے 65 سالہ کسان خان افضل بتاتے ہیں، “گزشتہ چند برسوں میں گاد کی مقدار نمایاں طور پر بڑھ گئی ہے، جس نے ہمارے کھیتوں اور نہروں کو اس حد تک بھر دیا ہے کہ ان کی بحالی تقریباً ناممکن ہو گئی ہے۔” انہوں نے بتایا کہ یہ گاد بنجر ہے، جلد خشک ہو جاتی ہے، زمین کی سطح کو سخت بنا دیتی ہے، گرمی کو اپنے اندر قید کر لیتی ہے اور درجہ حرارت بڑھنے پر فصلوں کو جلا دیتی ہے۔

2024 کے سیلاب نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا۔ 28 صوبوں میں آبپاشی کے نظام کو نقصان پہنچا، جس سے تقریباً 5,410 کلومیٹر طویل نہریں متاثر ہوئیں۔ ننگرہار کے ضلع حصارک سے تعلق رکھنے والے 51 سالہ وزیر گل، جو دو سال پہلے پاکستان سے واپس اپنے آبائی علاقے لوٹے،کہتے ہیں، “حکومت کے پاس آبپاشی کے بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے لئے نہ مشینری ہے، نہ فنڈز اور نہ ہی صلاحیت، اس لئے مقامی کمیونٹیز خود اپنی مدد آپ کے تحت مل کر اسے بحال کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔”

یہ مرمتی کام نہایت کٹھن اور محنت طلب ہے۔ مقامی لوگ خود نہریں کھودتے اور ان کی مرمت کرتے ہیں۔ وزیر گل کے مطابق، مشینری نہ ہونے کی وجہ سے لوگ ریت کی بوریوں سے پشتے مضبوط کرتے ہیں اور نہروں کو ہاتھوں سے بحال کرتے ہیں۔  اور جدھر کسان خود کو حالات کے مطابق ڈھال لیتے ہیں، وہاں موسم مسلسل اپنے رنگ بدلتا رہتا ہے۔ خشک سالی نے آبپاشی والے علاقوں میں گندم کی پیداوار کو 4 فیصد اور بارانی علاقوں میں 24 فیصد تک کم کر دیا ہے، جس کی بڑی وجہ پانی کی کمی اور کیڑوں کے حملے ہیں۔

ایک اور مسئلہ بڑھتی ہوئی سرد لہر کا بھی ہے۔ مدقق نے کہا، “حالیہ برسوں میں سخت سرد لہروں کا مسئلہ بڑھ گیا ہے، جو انسانوں، مویشیوں اور فصلوں سب کو برابر متاثر کررہا ہے۔” کسانوں کا کہنا ہے کہ خشک سالی سے بچنے کے لئے وہ جن کم پانی والی فصلوں کی طرف وہ منتقل ہوئے، وہ اکثر اچانک آنے والی سرد لہروں میں  خراب ہو جاتی ہیں۔  ننگرہار کے ضلع درۂ نور سے تعلق رکھنے والے اسد مومند نے بتایا، “گزشتہ سال میری چھ ایکڑ زمین پر آلو کی فصل، جس نے گندم کی جگہ لی تھی، سخت سردی کی لہر کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوئی۔”

جڑی ہوئی معیشتیں

کابل میں محکمہ زراعت، آبپاشی اور لائیوسٹاک کے ایک اہلکار نے، جنہوں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی، کہا کہ بڑھتا ہوا درجہ حرارت، بار بار آنے والی خشک سالیاں اور گرم ہوائیں افغانستان کے گلیشیئرز کو سکڑنے اور پیچھے ہٹنے پر مجبور کر رہی ہیں، جس سے پانی کی قلت مزید بڑھ  رہی ہے۔ ڈاکٹر اختر کے مطابق، اس دباؤ کا مطلب یہ ہے کہ افغانستان اور پاکستان دونوں کے کسانوں کے لئے مئی تا جولائی کے اہم مہینوں کی فصلوں کی نشوونما کے دوران پانی کم دستیاب ہوگا، جب آبپاشی سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ بعد میں شدید اور متواتربارشیں اچانک سیلاب لا سکتی ہیں، جو فصلوں، نہروں اور کھیتوں کو نقصان پہنچاۓ گی۔

لیکن یہ بحران صرف ماحولیاتی نہیں ہے۔ افغانستان اور پاکستان کے درمیان تازہ ترین کشیدگی نے غذائی عدم تحفظ کو مزید بڑھاوا دیا ہے، زرعی درآمدات جیسے کھاد اور آٹا ، اور برآمدات جیسے خشک میوہ جات بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ اوپر حوالہ دیے گئے اہلکاروں میں سے ایک نے کہا،  “سرحدی تجارت کے رکنے سے سرحدی شہروں میں بے روزگاری بھی پیدا ہوئی ہے، جہاں ہزاروں لوگ اپنی روزی روٹی کے  لئے روزانہ کے کاروبار پر انحصار کرتے ہیں۔”

پاکستان اور افغانستان کے بیچ تجارت حالیہ برسوں میں تبدیل ہوئی ہے، جہاں پاکستان کی افغانستان کو برآمدات میں کمی اور افغانستان سے درآمدات میں بتدریج اضافہ ہوا ہے، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس کی نومبر 2025 کی ایک رپورٹ میں ڈائیلاگ ارتھ کو فراہم کی گئی معلومات کے مطابق جب طالبان نے اگست 2021 میں کابل پر قبضہ کیا، تو پاکستان کی افغانستان کو برآمدات 1 ارب امریکی ڈالر تھیں اور درآمدات 612 ملین امریکی ڈالر تک تھیں۔ اگلے دو سالوں میں، برآمدات کم ہو کر 977 ملین امریکی ڈالر رہ گئیں جبکہ درآمدات بڑھ کر 887 ملین امریکی ڈالر ہو گئیں۔

جیسے جیسے سیاسی کشیدگی اور جنگ میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، ڈیورنڈ لائن کے کئی کسان کاشتکاری بند کرنے حتیٰ کہ اپنے مال مویشی تک بیچنے پر مجبور نظر آرہے ہیں۔

کاشتکاری ترک کرنے والے کسانوں میں سے ایک احمدزئی بھی ہیں۔ جنوری میں، انہوں نے اپنے 13 جانوروں میں سے 9 بیچ دیے، جن میں ان کی واحد گائے بھی شامل تھی، جزوی طور پر اس لئے کہ انہیں زندہ رکھنے کے لئے چارہ کافی نہیں تھا، اور کچھ  اس لئے کہ ان کے خاندان کو کھانے کی ضرورت تھی۔  پہلے کبھی حالات اتنے خراب نہیں تھے۔ ایک وقت تھا جب ان کے چھوٹے کھیت سے حاصل ہونے والی گندم ان کے نو افراد پر مشتمل خاندان کے لئے ایک سال تک کافی تھی۔ احمدزئی نے کہا،  “یہ فراوانی تو نہیں تھی، لیکن ایک تحفظ تھا۔”

تحفظ اب ایک دیوانے کا خواب بن کر رہ گیا ہے۔

مترجم: ناہید اسرار

Privacy Overview

This website uses cookies so that we can provide you with the best user experience possible. Cookie information is stored in your browser and performs functions such as recognising you when you return to our website and helping our team to understand which sections of the website you find most interesting and useful.

Strictly Necessary Cookies

Strictly Necessary Cookie should be enabled at all times so that we can save your preferences for cookie settings.

Analytics

This website uses Google Analytics to collect anonymous information such as the number of visitors to the site, and the most popular pages.

Keeping this cookie enabled helps us to improve our website.

Marketing

This website uses the following additional cookies:

(List the cookies that you are using on the website here.)