حیاتی ماحول تنازعے میں گھرے شمال مغربی پاکستان کے آبی پرندوں کو شکار اور عسکریت پسندی سے خطرہ ہے خیبرپختونخوا کی آب گاہوں کے محافظین امن کی بگڑتی ہوئی صورتحال، خلافِ قانون شکار اور تجاوزات کی وجہ سے خطے کی حیاتیاتی تنوع کی حفاظت میں مشکلات کا شکار ہیں اردو اردو English Share this article × Copy link to page Copy link to page × اس مضمون کو دوبارہ شائع کریں ہم آپ کو کری ایٹو کامنز لائسنس کے تحت ، دی تھرڈ پول کے مضامین آن لائن یا پرنٹ میں دوبارہ شائع کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ براہ کرم شروع کرنے کے لئے ہماری دوبارہ اشاعت کے رہنما خطوط پڑھیں۔ یہ تصویر فروری 2023 میں لی گئی تھی جس میں شمال مغربی پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع کرّم میں ایک تالاب پر شکار کو پھانسنے کے لئے چھوڑی جانے والی یہ بطخیں نقل مکانی کرنے والے پرندوں کو شکاریوں کی طرف راغب کرنے کے لیے تیار تھیں (تصویر: ذوالفقار علی) Zulfiqar Ali جون 21, 2023July 4, 2023 حکام دی تھرڈ پول کو بتاتے ہیں کہ شکار کی یہ پُرانی ثقافت اور شمال مغربی پاکستان کے صوبہخیبر پختونخوا کی آب گاہوں میں کئی دہائیوں تک کی جانے والی تجاوزات نے مل کر نقل مکا نیکرنے والے پرندوں (وہ پرندے جو پانی والی جگہوں میں رہتے ہیں اور جن کا شکار کیا جاتا ہےجیسے مرغابی، سارس وغیرہ) کی آبادی کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ دریں اثنا، وہ رپورٹ کرتےہیں کہ افغانستان کی سرحد سے متصل اِس صوبے میں تصادم اور عسکریت پسندی کے خطرے نےجنگلی حیات کے تحفظ کو بہت مشکل کر دیا ہے۔ خیبرپختونخوا میں دریائے کرّم کے ساتھ 4,000 ہیکٹر سے زیادہ رقبے پر محیط ایک قطعہ اراضیکو 1976 میں رامسر کنونشن کے تحت بین الاقوامی اہمیت کی ایک آب گاہ ( یہ ایک امتیازیماحولیاتی نظام ہے جو مستقل طور پر یا موسمی طور پر پانی سےسیر رہتی ہے) کا نام دیا گیا تھاکیونکہ یہاں پرندوں کی بڑی تعداد آکر اپنی افزائش نسل کا سامان کرتی ہے۔ اِس آب گاہ کو تھانیداروالا کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اِس آب گاہ کو خیبرپختونخوا حکومت نے ایک محفوظ گیم ریزرو )زمین کا ایک محفوظ علاقہ جہاں آبی پرندے باحفاظت رہ سکتے ہیں یا اُنھیں قانونی طریقے سے شکارکیا جا سکتا ہے) بھی قرار دیا تھا، جس کے انتظام اور دیکھ بھال کے لیے صوبائی سطح پر محکمہجنگلی حیات کے ایک سب ڈویژنل افسر کی ذمہ داری لگائی گئی تھی۔ لیکن خیبر پختونخواہ کے محکمہ جنگلی حیات کے ڈویژنل فارسٹ آفیسر ملوک خان ، جن کی ذمہداریاں متعدد اضلاع میں پھیلی ہوئی ہیں کے مطابق، حالیہ برسوں میں تھانیدار والا کا دورہ کرنےوالے پرندوں کی تعداد میں تیزی سے کمی آئی ہے۔ “بڑھتی ہوئی انسانی بستیوں نے اِن کے قدرتیٹھکانوں کے رقبے کو کم کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ بے قابو غیر قانونی شکار میں اضافہ بھی ان کیتعداد میں تیزی سے کمی کا باعث بنا ہے،” خان نے بتایا۔ دریائے کرّم دراصل دریائے سندھ کی ایک معاون ندی (دریا کا معاون یا جھیل میں گرنے والا دھارا)ہے اور اِس دریا کے کنارے طویل عرصے سے شکار کا رواج ہے۔ 1990 میں، رامسر معائنہ ٹیمنے مشاہدہ کیا کہ نقل مکانی کرنے والے آبی پرندوں، خاص طور پر سارس (ایک سفید رنگ کا لمبیٹانگوں والا آبی پرندہ) کا بہت زیادہ شکار کیا جا رہا تھا۔ سردیاں گزارنے کے لیے عام سارس اورڈیموسیل سارس (ایک چھوٹا سارس جو ایشیا اور شمالی افریقہ میں پایا جاتا ہے) اپنی افزائش گاہوںسے پاکستان میں مزید شمال کی طرف ہجرت کرتے ہیں۔ سردیوں میں شکاری دریائے کرّم کے کنارے روایتی طریقے سے خیمے لگاتے ہیں اور ڈبل بیرلشاٹ گن سے لے کر AK-47 تک مختلف قسم کے ہتھیاروں کے ساتھ سارس اور دیگر نسل کےآبیپرندوں کے انتظار میں بیٹھے رہتے ہیں۔لیکن جس طرح حالیہ دہائیوں میں تھانیدار والا کے آس پاسانسانی بستیوں میں اضافہ ہوا ہے اسی طرح پرندوں کی آبادی پر شکار کا اثر بھی پڑا ہے۔ ضلع لکی مروت جہاں تھانیدار والا واقع ہے کے سب ڈویژنل فاریسٹ آفیسر میر اسلم خان دی تھرڈپول کو بتاتے ہیں کہ ” اِس میں کوئی شک نہیں کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران اس جگہ آنے والیسارسوں کی تعداد میں بہت کمی آئی ہے۔” بندوق سے نشانہ لگا کر شکار کرنے والے اور جال بچھا کر آبی پرندے پکڑنے والوں نے بھی ان کیتعداد میں کمی کو محسوس کیا ہے۔ لکی مروت کے رہائشی الطاف علی خان نے اپنے گھر کے ایکحصے کو سارسوں کی پناہ گاہ میں تبدیل کر دیا ہے۔ جو سارس اُن کے پاس ہیں اُن میں سے کچھ کوانہوں نےجنگل سے پکڑا تھا جب کہ زیادہ تر کو پالا ہے۔ خان کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند دہائیوں میںتھانیدار والا میں آنے والے سارسوں کی تعداد کم ہو گئی ہے۔ “ہمیں یہاں اتنی سارسیں آتی ہوئی نظر نہیں آتیں جیسا کہ میں اپنے بچپن میں دیکھا کرتا تھا اور اپنےچچا کو انہیں پھنسانے میں مدد کیا کرتا تھا،” خان نے بتایا۔ الطاف علی خان چھوٹے سارسوں کو کھانا کِھلا رہے ہیں۔کچھ جنگلوں سے پکڑے گئے لیکن زیادہ ترلکی مروت شمال مغربی پاکستان میں مارچ 2023 میں اپنے زمین پر پالے گئے تھے۔ (تصویر:ذوالفقار علی) خان تقریباً ایک ماہ تک نر اور مادہ سارسوں کو چھوٹے پنجروں میں ایک دوسرے کے قریب رکھتےہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ اس طرح یہ پرندے جوڑی بناتے ہیں اور آزاد کئے جانےکے بعد بھی ساتھرہتے ہیں۔ (تصویر: ذوالفقار علی) تنازعہ آب گاہوں کے تحفّظ کو ایک خطرناک کام بنا دیتا ہے انتظامی نگرانی میں خلل کی وجہ سے تھانیدار والا کے پرندوں کا شکار بڑھ گیا ہے۔ اس علاقے میںتنازعہ کی وجہ سے حکام نگرانی کی سرگرمیوں کو جاری رکھنے میں ناکام رہے ہیں، جن کا مقصدغیر قانونی شکار کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔ تنازعات نے پاکستان کے سرحدی اضلاع کو کئی دہائیوں سے شدید متاثر کیا ہوا ہے۔ 2007 سےافغانستان کی سرحد کے ساتھ واقع علاقوں میں ایک عسکریت پسند گروپ، تحریک طالبان، پاکستانمیں پاکستانی ریاست کے خلاف لڑ رہا ہے۔ اس گروپ کے دو اہم مطالبات ہیں۔ ایک یہ کہ سابقہ وفاقکے زیر انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) سے فوج کے دستوں کو نکالا جائے اور دوسرا یہ کہ فاٹا کےصوبہ خیبر پختونخوا کے ساتھ ہوئے 2018 کے انضمام کو واپس لیا جائے۔ اگست 2021 میں افغانستان کے دارالحکومت کابل پر طالبان نے قبضہ کیا جس کے بعد سے تحفّظ کیصورت حال مزید بدتر ہو گئی ہے۔ ضلع لکی مروت, جہاں تھانیدار والا واقع ہے، حالیہ مہینوں میںتشدد کی سرگرمیوں میں دوبارہ اضافہ ہوا ہے۔ ماحولیات کے ایک اہلکار نے دی تھرڈ پول سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر با ت کرتے ہوئےبتایا کہ تھانیدار والا تحفّظ کی نازک صورتحال کی وجہ سے نقل مکانی کرنے والے پرندوںکے لئےاپنی اہمیت کھو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز آب گاہوں اور آس پاس کے علاقوں میںعسکریت پسندوں کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن کر رہی ہیں،کیونکہ عسکریت پسند قانون نافذ کرنے والےاہلکاروں پر حملہ کر رہے تھے۔ “مخاصمانہ ماحول اور حکومت کی بے حسی کے نتیجے میں آب گاہیں ویران ہو گئی ہیں،” اہلکار نےبتایا۔ اب ہم نے نقل و حرکت کم کر دی ہے اور جنگلی حیات کی چیک پوسٹ پر رات کی ڈیوٹی بند کردی ہے۔ اب ہم خوف کی حالت میں کام کر رہے ہیں۔میر اسلم، سب ڈویژنل فوریسٹ آفیسر، لکی مروت ڈسٹرکٹ میر اسلم کہتے ہیں کہ زیادہ تر ہمارا کام نقل مکانی کرنے والے پرندوںکی حفاظت ہے۔ “ماضی میں ہمنگرانی کے لئے ہر وقت یہاں موجود رہے۔ ہمارا عملہ اِن نقل مکانی کرنے والے پرندوں کی گنتیکرتا تھا اور شکاریوں کو پکڑنے کے لئے چوکس رہتا تھا۔ WWF کے معائنہ افسران اور بیرونِملک سے عطیات دینے والے اکثر دورہ کرتے تھے۔ افسوس کہ اب ایسا نہیں ہے۔” وہ مزید کہتے ہیں کہ اب ہم نے نقل و حرکت کم کر دی ہے اور جنگلی حیات کی چیک پوسٹ پررات کی ڈیوٹی بند کر دی ہے۔”اب ہم خوف کے تحت کام کر رہے ہیں۔” تھانیدار والا میں جو تھوڑا بہت حفاظتی ڈھانچہ جس میں حفاظتی باڑیں اور کھانا کھلانے کے لئےمحفوظ احاطے بھی شامل تھے وہ بھی 2010 کے سیلاب میں تباہ ہو گئے تھے۔ یہ وہی سیلاب ہےجس سے پاکستان کا پانچواں حصہ ڈوب گیا تھا۔ قدرتی آفات تنازعات کے ساتھ متوارد ہوئیں اِسی لئےانتظامی اِداروں کو خود کو فعال رکھنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ میر اسلم کا کہنا ہے کہ سارس اور دیگر نقل مکانی کرنے والے پرندوںنے بڑی حد تک دریائے کرّمپر آنا ترک کر دیا ہے۔ اور اِس کے بجائے وہ پڑوسی صوبے بلوچستان کی طرف پرواز کرنے لگے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ “پچھلی ہجرت کے موسم کے دوران سارسوں کا صرف ایک جُھنڈ دیکھا گیا تھاجو بہت اونچائی پر آب گاہ پر اڑتا دیکھا گیا تھا۔”بظاہر شکاری بھی کہیں اور منتقل ہو گئے ہیں۔ عبدالوہاب، جو لکی مروت میں شکاریوں کی ایکنجی تنظیم کرین ویلفیئر ایسوسی ایشن کے سربراہ ہیں، نے دی تھرڈ پول کو بتایا کہ ” اب مقامیشکاری سارسوں کو پھانسنے اور آبی پرندوں کا شکار کرنے کے لئے بلوچستان جاتے ہیں۔” ملوک خان کے مطابق، جہاں تشدد اور شکار خیبرپختونخوا کی آب گاہوں میں نقل مکانی کرنے والےپرندوںکی آبادی میں کمی کے بڑے عوامل ہیں، وہیں دیگر عوامل اس سے بھی زیادہ اہم ہو سکتےہیں۔ ” میں ذاتی تجربے کی بنا پر یہ کہہ سکتا ہوں کہ اس کمی کی بڑی وجہ اِن کے قدرتی ٹھکانوں کاتھانیدار والا اور ٹانڈہ ڈیم کے گردونواح میں انسانی آبادکاری کی وجہ سے ختم ہوجانا ہے،” خان نےبتایا۔ صوبہ خیبرپختونخوا میں نقل مکانی کرنے والے پرندوں کو خطرات کا سامنا ہے پشاور میں خیبرپختونخوا میں محکمہ جنگلی حیات کی ڈپٹی ڈائریکٹر حسینہ عنبرین کا کہنا ہے کہ آبگاہوں کے ارد گرد مکانات کی تعمیر کی وجہ سے نقل مکانیکرنے والے پرندے، خاص طور پرسارس, صوبے بھر میں اپنے قدرتی ٹھکانوں سے محروم ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اھم مسئلہ یہ ہے کہ محکمہ جنگلی حیات کے پاس سابقہ فاٹا (ایک نیم خودمختارعلاقہ جہاں 2018 میں خیبرپختونخوا میں انضمام کے بعد صوبائی اور وفاقی قوانین میں توسیع کیگئی تھی) میں غیر قانونی شکار پر قابو پانے کے لئے نہ تو بنیادی ڈھانچہ ہے اور نہ ہی وسائل۔ کوہاٹ شہر کے قریب رامسر کنونشن کے تحت نامزد کردہ ایک اور مقام ٹانڈہ ڈیم میں آبی پرندوں میںکمی محسوس کی گئی ہے۔ جنگلات کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ شکارکی کثرت، اردگرد کے علاقے میں غیر منصوبہ بند تعمیرات اور ساتھ ہی کشتی رانی اور ماہی گیریجیسی تجارتی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی رکاوٹوں کی وجہ سے آبی پرندوں نے اس مقام پر آناکم کر دیا ہے۔ کوہاٹ شہر کے قریب ٹانڈہ ڈیم (تصویر: ذوالفقار علی) دی تھرڈ پول سے بات کرنے والے اہلکاروں نے کہا کہ کشتی رانی اور ماہی گیری نے آب گاہوں میںاِن آبی پرندوں کی آبادی کو پریشان کر دیا ہے (تصویر: ذوالفقار علی) یہ اہلکار صوبہ خیبر پختونخوا کے چار اضلاع میں محفوظ علاقوں کے انتظام کے ذمہ دار ہیں اوران کا کہنا ہے کہ اِن کے دفتر کے پاس ٹانڈہ ڈیم پر نقل مکانی کرنے والے پرندوںکیآمد کی منظمطریقے سے گنتی کے لئے ضروری آلات اور وسائل نہیں ہیں۔ خیبر پختونخواہ وائلڈ لائف اینڈ بائیو ڈائیورسٹی (تحفّظ، بچاؤ، نگہداشت اور انتظام) ایکٹ 2015 میںآب گاہوں کے انتظام اور اِنھیں برقرار رکھنے کا ذکر نہیں ہے۔ “حکومت کے پاس صوبے میں آبگاہوں کے تحفّظ کو یقینی بنانے کے لئے کوئی خاطرخواہ قانونی پالیسی یا حکمت عملی نہیں ہے،”اہلکار نے بتایا۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان میں ریسرچ اینڈ کنزرویشن کے سینئر مینیجر چوہدری محمد جمشید اقبال دیتھرڈ پول کو بتاتے ہیں کہ “ہم نے پاکستان میں نقل مکانی کرنے والے پرندوں کی آبادی میں کمی کومحسوس کیا ہے۔ آب گاہوں اور نقل مکانی کرنے والے پرندوں کو موسمی تبدیلیاں، خوراک کی کمی،قدرتی ٹھکانوں کی تباہی، پانی کی قلت، اور غیر قانونی شکار جیسے متعدد خطرات کا سامنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو متعلقہ قوانین کو نافذ کرنا چاہیے جیسے کہ محفوظ آبی ذخائر پرموٹر سے چلنے والی کشتیوں پر پابندی لگانی چاہیے اور مقامی بستیوں میں آب گاہوں کی اہمیت کےبارے میں آگاہی پیدا کرنے کے عمل کو بہتر بنانا چاہیے۔ انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر کے ساتھ مل کر اور وفاقی حکومت کی طرف سے اِن کیتکنیکی رائے کے لئے درخواست کے جواب میں، WWF پاکستان نے پاکستان نیشنل ویٹ لینڈزپالیسی کا مسودہ تیار کیا ہے۔ پالیسی کے مسودے میں کہا گیا ہے کہ اس کا مقصد ملک کی آب گاہوںکو درپیش خطرات مثلاً پانی کی طلب، ہم آہنگی کی کمی، متعلقہ حکام کے درمیان موجود صلاحیتاور وسائل کی طرف توجّہ دینا ہے۔ اس مسودے کو 2019 میں حکومت کے حوالے کیا گیا تھا لیکنابھی تک اس پر عمل درآمد ہونا باقی ہے۔ پڑھنا جاری رکھیے مضمون ہمالیہ Recommendations galore, but are they benefitting Himalayan wetlands? حیاتیاتی تنوع ‘There’s no water, and no birds’: Mourning the Queen Wetland of Kashmir مضمون ماہی پروری کراچی کی ساحلی پٹی پہ تعمیری سرگرمی ماحولیاتی نظام اور لوگوں کے ذریعہ معاش پر بری طرح اثرانداز ہورہی ہے مضمون شدید موسم سات ماہ گزرنے کے بعد بھی سندھ سیلاب کی تباہ کاریوں سے نبرد آزما ہے مضمون توانائی کی منتقلی توانائی کا تحفظ اور پیسے کی بچت، کیا پاکستان اس کوشش میں کامیاب ہوگا؟ مضمون جنس پاکستان کی خواجہ سراء کمیونٹی موسمیاتی تباہی اور سماجی تنہائی دونوں سے لڑ رہی ہے مضمون جنگلی حیات دارالحکومت میں چیتوں کی واپسی انسان اور جنگلی حیات کے تصادم کے چیلنج کو نمایاں کرتی ہے مضمون کوئلہ چین پاکستان اقتصادی راہداری میں کوئلے کی واپسی