آلودگی گندا آلودہ پانی کراچی کی سمندری حیات کے لیےانسان کی پیدا کردہ آفت ہے پاکستان کا سب سے بڑا شہر اپنا 88 فیصد نالوں کا پانی بغیرصاف کیے بحیرہ عرب میں چھوڑتا ہے۔ یہ گندا پانی زیادہ تر کھلے نالوں سے ہوتا ہوا ماہی گیروں کی بستیوں سے گزرتا ہے۔ اردو اردو English Share this article × Copy link to page Copy link to page × اس مضمون کو دوبارہ شائع کریں ہم آپ کو کری ایٹو کامنز لائسنس کے تحت ، دی تھرڈ پول کے مضامین آن لائن یا پرنٹ میں دوبارہ شائع کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ براہ کرم شروع کرنے کے لئے ہماری دوبارہ اشاعت کے رہنما خطوط پڑھیں۔ کراچی کے چشمہ گوٹھ کے مکینوں کو گندگی، کوڑا کرکٹ اورغیرصفائی شدہ گزرنے والے گندے پانی کی بدبو کا سامنا ہے (تصویر: علی اوسط) علی اوسط اگست 12, 2022August 18, 2022 کراچی کے ضلع کورنگی میں ماہی گیروں کی بستی ابراہیم حیدری کے قریب چشمہ گوٹھ کے رہائشی علاقوںمیں موجود جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر، کبھی نا اٹھائے جانے والا کوڑا کرکٹ، اور بدبو یہاں کے مکینوں کیمشکلات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے غربت، تعلیم کی کمی اور بے روزگاری کے ساتھ جینا سیکھا ہے، لیکنحالیہ برسوں میں انہیں بغیرصاف کئےگندے پانی سے بھی نمٹنا پڑا – پاکستان کی 16کروڑ سے زیادہ آبادی والےسب سے بڑے اس شہر کا یہ گندا پانی اور یہاں کی صنعتوں کا فضلہ دونوں بحیرہ عرب میں گرنے سے پہلےانہی بستیوں سے گزرتا ہے۔ “کراچی کی ساحلی پٹی کے ساتھ رہنے والے لوگ ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے زیادہ انسانوں کی پیدا کردہآفات کا سامنا کر رہے ہیں،” مقامی فش پروسیسنگ فیکٹری کے ایک 36 سالہ کارکن امیر علی نے کہا اور ساتھہی انہوں نے تازہ اگی ہوئی مینگروز (خط ساحل کے دلدلی حصوں میں اگنے والی ایک قسم کی جھاڑی) کےپیچھے پڑے ہوئے مردہ جانوروں کی طرف اشارہ بھی کیا۔ ساحل پر آلودگی کی وجہ سے سمندری حیات موت کاشکار ہو رہی ہے۔ جبکہ “صرف 10 سال پہلے تک، قریب سے مچھلیاں پکڑنا کوئی مشکل کام نہیں تھا۔” Recommended اب ماہی گیروں کو گہرے سمندر میں جانا پڑتا ہے۔ علی شہر کے حکام کو بغیر صاف کئے گندے پانی کو سمندرمیں چھوڑنے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ “مچھلیاں ساحل سمندر سے دور ہو گئی ہیں، اور میں ان ہزاروں ماہیگیروں میں شامل ہوں جنہوں نے اپنا اصل پیشہ چھوڑ دیا ہے اور اب ھم لوگ گزر بسر کے لئے معاش کےدوسرے ذرائع تلاش کر رہے ہیں،” علی کہتے ہیں۔ سمندری حیات خطرے میں ہے ڈبلیو ڈبلیو ایف سے وابستہ ایک ماہر سمندریات معظم علی خان نے دی تھرڈ پول کو بتایا کہ ایسا صرف چشمہگوٹھ میں نہیں ہے، بلکہ پورے 10 کلومیٹر کے ساحل کے ساتھ ریڑھی گوٹھ، ابراہیم حیدری، کورنگی فش ہاربر،لانڈھی بھینس کالونی اور گزری کریک جیسے علاقوں کا بھی یہی حال ہے۔ “بغیر صاف کئے بہائے جانے والےاس گندے پانی نے اس ساحلی پٹی کے گردونواح کو جانوروں سے خالی کر دیا ہے۔ اب آپ پانچ سے سات کلومیٹر کے دائرے میں کیکڑے، مچھلی اور دیگر سمندری جانور نہیں ڈھونڈ سکتے۔ یہاں لاکھوں سالوں سے سمندریحیات پروان چڑھ رہی تھی، لیکن پچھلے 20 سالوں کے دوران بغیر صاف کئے نالوں میں بہائے جانے والے اسگندے پانی کی وجہ سے ختم ہو کر رہ گئی ہے۔ خان بتاتے ہیں کہ لیمپ شیلز، ایک قسم کی چھوٹی شیل فش جو کراچی فش ہاربر، کورنگی کریک اور لانڈھی کےارد گرد کم از کم 20 ملین سال تک زندہ تھیں، پچھلی دو دہائیوں میں ناپید ہو گئی ہیں، اور اسپنج، سمندری ،اینیمونز،زمرہ، مونگامرجان اور ستارہ مچھلی کی بہت سی اقسام بھی غائب ہو گئی ہیں. کراچی کے ساحل کے ساتھ سمندر کی تہہ میں موجود تلچھٹ انتہائی آلودہ پائی گئی ہے۔ بیس سال پہلے کراچی کیبندرگاہ کے قریب اینگلرز مچھلیاں نیٹی جیٹی پل پر عام نظر آتی تھیں، لیکن اب ان مچھلیوں نے اس علاقے کوچھوڑ دیا ہے۔ خان کہتے ہیں، “نہ صرف ہند-بحرالکاہل کی مچھلیاں، بلکہ عربی پپ فش سمیت دیگر سمندری انواعکی ایک بڑی تعداد بھی اس علاقے میں معدوم ہو چکی ہیں۔” ان کا خیال ہے کہ اس کی وجہ سمندر میں براہراست پھینکا جانے والا گندا پانی ہے، جس کی وجہ سے زیادہ تر سمندری حیات کی بقاء ناممکن ہو جاتی ہے۔ Recommended کراچی کے ساحل کے ساتھ سمندر کی تہہ میں موجود تلچھٹ انتہائی آلودہ پائی گئی ہے۔ بیس سال پہلے کراچی کیبندرگاہ کے قریب اینگلرز مچھلیاں نیٹی جیٹی پل پر عام نظر آتی تھیں، لیکن اب ان مچھلیوں نے اس علاقے کوچھوڑ دیا ہے۔ خان کہتے ہیں، “نہ صرف ہند-بحرالکاہل کی مچھلیاں، بلکہ عربی پپ فش سمیت دیگر سمندری انواعکی ایک بڑی تعداد بھی اس علاقے میں معدوم ہو چکی ہیں۔” ان کا خیال ہے کہ اس کی وجہ سمندر میں براہراست پھینکا جانے والا گندا پانی ہے، جس کی وجہ سے زیادہ تر سمندری حیات کی بقاء ناممکن ہو جاتی ہے۔ ساحلی پٹی سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہے کیونکہ کراچی ایک گنجان آباد شہر ہے جس میں بہت سی فیکٹریاںہیں۔ خان کہتے ہیں، ” کیٹی بندر اور کھارو چن [دو مقامات جہاں سے دریائے سندھ بحیرہ عرب میں گرتا ہے] یہاںحالات بقدرے بہتر ہیں حالانکہ یہ مقامات کراچی سے زیادہ دور نہیں ہیں۔ تاہم، متعدد مطالعات سے پتہ چلا ہے کہان علاقوں میں شوریدگی کے مسائل کا سامنا ہے، کیونکہ موسمیاتی تبدیلی سمندر کی سطح کو بلند کرتی ہے اورسمندر کا نمکین پانی شہر کے ان علاقوں کی سطح زمین میں بھی سرایت کر جاتا ہے۔ 2019 کی ڈبلیو ڈبلیو ایف کی رپورٹ کے مطابق، کراچی میں روزانہ تقریباً 475 ملین گیلن (MGD) گندا پانیپیدا ہوتا ہے، جس میں سے تقریباً 88 فیصد یعنی 420 ملین گیلن(MGD) پانی ایسا ہے جسے صاف نہیں کیا جاتا۔ “پورے شہر کا گندا پانی، لیاری اور ملیر ندیوں سمیت مختلف نکاسی آب کے راستوں سے گزرنے کے بعد، بالآخرسمندر میں چلا جاتا ہے،” خان کہتے ہیں. کراچی میں اس طرح کے گندے پانی کو صاف کرنے کے لیے تینپلانٹس ہیں اور وہ سب کے سب غیر فعال ہیں، حالانکہ پچھلے سال صوبہ سندھ کی حکومت نے ان کی مرمت کا وعدہ کیا تھا, انہوں نے مزید کہا۔ بلیو ڈبلیو ایف کے مطابق کراچی روزانہ 420 ملین گیلن گندا پانی بغیر صاف کئے بحیرہ عرب میں خارج کرتا ہے(تصویر: علی اوسط) مینگروز کو نکاسی کے گندے پانی اور صنعتی فضلے سے نقصان پہنچا ہے رفیع الحق، کنسلٹنٹ پلانٹ ایکولوجسٹ جو انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر (IUCN) کے کمیشن آن ایکوسسٹم مینجمنٹ (CEM) سے وابستہ ہیں، نے دی تھرڈ پول کو بتایا کہ نالوں میں بہائے جانے والے بغیر صافکیے گندے پانی نے مینگروز پودوں کی تین اقسام کو ختم کر دیا ہے۔”یہ مینگروز غذائی اجزاء کا ایک بڑا ذریعہہیں اور غیر فقاری جانوروں، مچھلیوں، پرندوں اور رینگنے والے جانوروں کی ایک دوسرے پر منحصر کمیونٹیزکے لیے متنوع رہائش فراہم کرتے ہیں،” انہوں نے بتایا۔ مینگروز والے ساحلی علاقوں کی پیداواری صلاحیت انعلاقوں کے مقابلے میں سات گنا زیادہ ہے جہاں مینگروز موجود نہیں، انہوں نے مزید بتایا۔ “اس سے پہلے مینگروز کے پودوں کی سات اقسام تھیں جبکہ اب ہمارے ساحلی علاقے میں صرف چار ہیں۔ہمارے حکومتی اداروں کو سنجیدگی سے کوشش کرنا چاہیے اگر وہ اس اربوں سال پرانے ماحولیاتی نظام کو بچاناچاہتے ہیں، حق کہتے ہیں۔ ماہر ماحولیات اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اس مقصد کو حاصل کرنے کا بہترینطریقہ حکومت کے لیے یہ ہے کہ وہ ٹریٹمنٹ پلانٹس ( نکاسی کے گندے پانی کو مخصوص کیمیائی عمل سےگزار کر صاف کرنے والے پلانٹس) کو فعال بنائیں۔ “کیمیکلز نے ہماری پوری ساحلی پٹی کو زہریلا بنا دیا ہے اور کوئی بھی جانور اس ماحول میں نہیں رہ سکتا”غلام عباس ، کراچی یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر کراچی یونیورسٹی کے سینٹر آف ایکسیلنس ان میرین بائیولوجی کے اسسٹنٹ پروفیسر غلام عباس کے مطابق،کراچی میں 1,200 سے زیادہ فیکٹریاں ہیں۔ان میں ٹینریز، فاؤنڈریز، میٹل پروسیسرز، پلاسٹک، ربڑ، شیشہ،سیرامکس، ٹائلیں، سیمنٹ، ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکل، صابن، فش پروسیسنگ یونٹس اور کھاد، کیڑے مار ادویاتاور دیگر کیمیکلز بنانے والے شامل ہیں۔ “ان کیمیکلز نے ہماری پوری ساحلی پٹی کو زہریلا بنا دیا ہے، اور کوئی بھی جانور اس ماحول میں نہیں رہسکتا،” عباس کہتے ہیں، جو کراچی میں ساحل سمندر پر موجود چھوٹی کھاڑیوں میں آلودگی کے جمع ہونے کامطالعہ کر رہے ہیں جو بحیرہ عرب میں بہتی ہیں۔ سندھ کی صوبائی حکومت میں ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی کے وزیر اسماعیل راہو کا کہتے ہیںکہ سمندر کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے حکومت ترجیحی بنیادوں پر کمبائنڈ ایفلیونٹ ٹریٹمنٹ پلانٹ (CETPیعنی صنعتی فضلے کو سمندر میں جانے سے روکنے والا پلانٹ) لگانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ وہ دی تھرڈ پول کو بتاتے ہیں کہ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ صنعت کار ماحولیات کے تحفظ کے لیے بنائے گئےقوانین پر عمل کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے اسی لیے حکومت ایسی حکمت عملی تیار کر رہی ہے کہ یا توانہیں نئے ٹریٹمنٹ پلانٹس لگانے پر مجبور کیا جائے یا موجودہ پلانٹس کو دوبارہ فعال بنایا جائے۔ مثال کے طورپر ہالینڈ کی حکومت نے پاکستان ٹینرز ایسوسی ایشن کو ایک کمبائنڈ ایفلوئنٹ ٹریٹمنٹ پلانٹ دیا تھا جو ابھی تکغیر فعال ہے۔ “”ہم فطرت کو بچانے کی پوری کوشش کریں گے،‘‘ راہو کہتے ہیں۔ مترجم: عشرت انصاری پڑھنا جاری رکھیے مضمون آبی زراعت پاکستانی کسان مچھلیوں کی کاشت کی طرف منتقل ہورہے ہیں چناچہ ضروری ہے کہ پائیدار طریقوں کو ترجیح دی مضمون پائیدار ترقی پاکستان کے گرین اسٹمیولس کا مستقبل کیا ہے؟ مضمون پانی کامعیار شمالی پاکستان میں زیادہ تر نلکوں کا پانی پینے کے قابل نہیں ہے مضمون پانی کی قلت کراچی میں تیزی سے پھیلتا پانی مافیا مضمون ماہی پروری کراچی کی ساحلی پٹی پہ تعمیری سرگرمی ماحولیاتی نظام اور لوگوں کے ذریعہ معاش پر بری طرح اثرانداز ہورہی ہے مضمون کوئلہ کوئلے کی دھول پاکستان میں بچوں کی صحت کو نقصان پہنچا رہی ہے مضمون شدید موسم پاکستان کے پہاڑی علاقوں کے کسانوں کو گرمی کی وجہ سے پریشانیوں کا سامنا مضمون ہائیڈرو پاور انٹرویو: 'پاکستان میں ہائیڈرو پاور کے حوالے سے بیانیہ سطحی ہے'