جنگلات توانائی کی ضروریات کی وجہ سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جنگلات کی کٹائیمیں اضافہ ہوا ہے متبادل ایندھن کی کمی کے باعث یہاں کے دیہی باشندے طویل عرصے سے ایندھن کے لئے جنگل کا رخ کر رہے ہیں اور اِس وجہ سے اِس علاقے پر بُرے ماحولیاتی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اردو اردو English Share this article × Copy link to page Copy link to page × اس مضمون کو دوبارہ شائع کریں ہم آپ کو کری ایٹو کامنز لائسنس کے تحت ، دی تھرڈ پول کے مضامین آن لائن یا پرنٹ میں دوبارہ شائع کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ براہ کرم شروع کرنے کے لئے ہماری دوبارہ اشاعت کے رہنما خطوط پڑھیں۔ مقامی ایندھنی ضروریات کے دباؤ کے تحت کشمیر کے زرخیز جنگلات کم ہو رہے ہیں (تصویر: ساجد میر) Sajid Mir اگست 29, 2023September 5, 2023 پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی خوبصورت گریس ویلی میں آنے والا موسمِ سرما عمر حسین کےلئے پریشان کن ثابت ہوگا۔ خطے کے انتہائی شمال میں واقع ضلع نیلم کے اِس دور اُفتادہ مقام کےرہائشی، ساٹھ سالہ، حسین نے شدید برف باری دیکھی ہے جو زمین کو دو میٹر گہرائی تک برف کی دبیز تہ سے ڈھانپ دیتی ہے۔ بجلی تک کم رسائی کی وجہ سے بہت سے لوگ خود کو گرم رکھنےاور کھانا پکانے کے لئے درختوں کو کاٹتے ہیں۔ ایک حالیہ تحقیق سے پتا چلا ہے کہ 90 فیصدگھروں نے کم از کم جزوی طور پر کھانا پکانے کے لئے جلانے کی لکڑی کا استعمال کیا، جب کہ75 فیصد سے زیادہ گھروں نے جلانے کی لکڑی اور جھاڑ جھنکاڑ سمیت دیگر ذرائع سے حاصلہونے والی لکڑی کے مواد کا استعمال کیا۔ گریس ویلی ایک مشہور سیاحتی مقام ہے جو اپنے دلکش مناظر کے لئے مشہور ہے لیکن یہاں کےسرسبز و شاداب جنگلات آہستہ آہستہ ختم ہو رہے ہیں۔ 2022 کی ایک رپورٹ میں سیٹلائٹتصاویر کا حوالہ دیا گیا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ 2000 سے 2020 تک پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں جنگلات کا احاطہ 45.9 فیصد سے کم ہو کر 39.3 فیصد یا رقبہ کے لحاظسے6،103 مربع کلومیٹر سے 5،226 مربع کلومیٹر رہ گیا ہے۔ مزید برآں، یہ جنگلاتی رقبہتیزی سے کم ہوا ہے جو 2000 اور 2005 کے درمیان 45.9 فیصد سے کم ہو کر 45 فیصد رہ گیا،پھر 2010 تک کم ہو کر 42 فیصد رہ گیا ۔یہ وقت وہی ہے جب2005 میں کشمیر میں بڑےپیمانے پر زلزلہ آنے کے بعد تعمیر نو کا عمل شروع ہوا تھا۔ اس کے بعد جنگلات کی کٹائی کیشرح سست ہوئی ہے لیکن یہ اب بھی بڑی تشویش کا باعث ہے۔ ایک کشمیری گلّہ بان بارہ ہزار فٹ کی بلندی پر کھانا پکانے کے لئے جنگل کی لکڑی استعمالکررہا ہے (تصویر: ساجد میر) جلانے کی لکڑی اور اسمگلنگ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کا تقریباً 42 فیصد حصہ ، جس کا کُل رقبہ 13,297 مربع کلومیٹرہے، محکمہ جنگلات کے دائرہ اختیار میں ہے۔ لیکن یہ ایک ایسا علاقہ ہے جہاں اختیارات کےمعاملے میں یہاں کے رہنے والے لوگ حکام پر حاوی ہیں۔ Recommended دی تھرڈ پول سے بات کرتے ہوئے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیرِ جنگلات اکمل سرگلہ کاکہنا ہے کہ خطے کے 68 فیصد جنگلات نیلم میں پائے جاتے ہیں جہاں”42 ہزار خاندان” آباد ہیں۔ اِنمیں سے ہر ایک خاندان کھانا پکانے اور خود کوگرم رکھنےکے لئے سالانہ دو درخت جلاتا ہے۔لکڑی کی اسمگلنگ (محصول ادا کئے بغیر ناجائز طور پر درآمد برآمد) خطے میں جنگلات کی کٹائیکی ایک اور بڑی وجہ ہے۔کشمیر میں جنگلات کے رقبے کی نگہداشت کے نگران اور اِس کے تحفّظکے ذمہ دار انتظامی افسر میر نصیر نے دی تھرڈ پول کو بتاتے ہوئے کہا کہ “صنو بری درخت کیمہک دار، مضبوط، اور پائیدار لکڑی جودس ہزار پاکستانی روپے (33 امریکی ڈالر) فی مکعب فٹمیں فروخت ہوتی ہے، اِن اسمگلرز کا خصوصی ہدف ہے۔ محکمہ جنگلات نے گزشتہ سال کے دورانکروڑوں روپے مالیت کی یہ قیمتی لکڑی ضبط کی ہے جسے اِسمگل کیا جا رہا تھا۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے نوجوانوں کے ایک گروپ نے پروٹیکشن فاریسٹ کمیٹی بنائی۔ اِسحوالے سے کمیٹی کے ایک اٹھائیس سالہ رکن راجہ رفاقت کا کہنا ہے کہ وہ اسمگلروں کو ناکام بنانےمیں تو کامیاب رہے لیکن مقامی لوگوں کو روکنا مشکل تھا۔ کمیٹی کے ایک اور رکن جو اپنا نام ظاہرنہیں کرنا چاہتے تھے، کہتے ہیں کہ “ہمارے جنگلات کو پہنچنے والے نقصان کی سب سے بڑی وجہیہ ہے کہ ہم انہیں ایندھن کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر ہم اِسےایندھن کے طور پر استعمال نہیں کریں گے تو ہماری زندگی ختم ہو جائے گی اور ہم اس علاقے میںنہیں رہ سکتے۔” کشمیر کی وادئ نیلم میں لوگ تازہ کٹی ہوئی لکڑی لے جانے کی تیاری کر رہے ہیں (تصویر: ساجدمیر) درختوں کی یہ بے دریغ کٹائی بڑھتی ہوئی آبادی کے دباؤ اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی کمیکی وجہ سے دیکھنے میں آرہی ہے۔ ادارہِ شماریات پاکستان کے مطابق ، پاکستان کے زیر انتظامکشمیر کی آبادی 1981 اور 2017 کے درمیان دُگنی سے بھی زیادہ ہو گئی ہے یعنی 20 لاکھ سےبڑھ کر 40 لاکھ سے بھی زائد ہو چکی ہے۔آزاد جموں و کشمیر انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (EPAAJK) میں موسمیاتی تبدیلی کی پالیسی کےصلاح کار محمد رفیق خان دی تھرڈ پول کو بتاتے ہیں کہ “آبادی میں اس اضافے کی وجہ سے ہمارےجنگلات کم ہوئے ہیں۔ اسٹیٹ آف انوائرنمنٹ کی رپورٹ کے مطابق، ہمارے گھنے جنگلات میں سےصرف 9.6 فیصد باقی رہ گئے ہیں جبکہ 11.4 فیصد جنگلات گھنے نہیں ہیں۔ بڑھتا ہوا درجہ حرارت اور پانی کی کمی نقشہ سازی کرنے والی 2022 کی رپورٹ کے مطابق،”جنگلات کے اِحاطے یا رقبے میں کمی زمین پر گرنے والی بارش اور برف کی مقدار کو کم کرسکتی ہے اور بارش کے فضائی نمونے کو تبدیل کر سکتی ہے۔”EPAAJK کی اسٹیٹ آف دی انوائرمنٹ کی 2018 کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 1962 اور2013 کے درمیان پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں اوسط زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 25 ڈگریسینٹی گریڈ سے بڑھ کر 27 ڈگری سینٹی گریڈ ہو گیا۔ خان کا کہنا ہے کہ یہ جزوی طور پر جنگلاتکی کٹائی کی وجہ سے ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ “یہ ایک نمایاں اضافہ ہے اور اگر یہ رجحان2100 کے آخر تک جاری رہا تو درجہ حرارت میں مزید 3 سینٹی گریڈ اضافے کا خدشہ ہے اور اسطرح کے اضافے کے سنگین نتائج ہوں گے۔” خواتین پر پڑنے والے بُرے اثرات پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جنگلات کی کٹائی نہ صرف قدرتی وسائل اور ماحول کو متاثرکرتی ہے بلکہ خطے میں خواتین کی زندگیوں کو بھی نمایاں طور پر متاثر کرتی ہے۔ خواتین اکثر اپنے گھروں کی دیکھ بھال کے لئے درکار لکڑی کی تلاش میں گھنٹوں صرف کرتی ہیں(تصویر: ساجد میر) انسانی حقوق کی ایک مقامی وکیل شازیہ لطیف کیانی نے دی تھرڈ پول کو بتایا کہ کھانا پکانے اورخود کوگرم رکھنے کے لئے جلانے کی لکڑی جمع کرنے کام عموماً خواتین کے سپرد کیا جاتا ہے۔جیسے جیسے جنگلات کا رقبہ کم ہوتا جا رہا ہے اِن عورتوں کو جلانے کی لکڑی جمع کرنے کےلئے مجبوراً اپنے گھروں سے کافی دور سفر کرنا پڑتا ہے جس سے اُنھیں تشدد اور استحصال کاخطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔ کیانی مزید کہتی ہیں کہ ” جلانے کی لکڑی جمع کرنے میں صرف ہونےوالے وقت کا صاف مطلب یہی ہے کہ خواتین کو تعلیم، آمدنی پیدا کرنے والی سرگرمیوں اور اپنےاہل خانہ کی دیکھ بھال جیسے دیگر اھم کاموں کے لئے کم وقت ملتا ہے۔ انسانوں اور جنگلی حیات کے مابین تنازعات بڑھ رہے ہیں یہاں درختوں کا صفایا کرنے کا ایک اور نتیجہ جانوروں کے قدرتی ٹھکانوں کا سکڑنا ہے۔ پاکستانکے زیر انتظام کشمیر کے محکمہ جنگلی حیات کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں اس خطے میںانسانوں اور جنگلی حیات کے مابین تنازع میں اضافہ ہوا ہے۔ Recommended ”پریشان کُن امر یہہے کہ صرف پچھلے چار برسوں (2019-2022) میں مقامی آبادیوں نے اِس علاقے میں عام پائےجانے والے اِکیس تیندوے مار ڈالے جو کہ ایک بڑھتے ہوئے تشویش ناک رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔سال 2014 سے 2022 کے درمیان اِن تیندووں نے تین سو سے زیادہ مویشیوں کو ہلاک کیا۔ اس کےعلاوہ تیندووں کے حملوں سے علاقے میں پانچ انسانی جانیں ضائع ہوئیں اور سات افراد زخمی ہوئے۔ توانائی کے متبادل ذرائع موجود نہیں ہیں کشمیر میں جنگلات کے تحفّظ کے نگران افسر نصیر کا کہنا ہے کہ جنگل کے وسائل پر دباؤ کا ایکآسان حل یہ ہے کہ لوگوں کے پاس توانائی کے متبادل ذرائع ہوں، اور ساتھ ہی اِنھیں خود کو گرمرکھنے اور کھانا پکانے کی ضروریات کے لئے لکڑی کے متبادل ذرائع بھی ہوں۔ وزیر جنگلات،سرگلہ بھی اس بات سے متّفق ہیں۔“لوگ خود کو سردی سے بچانے کے لئے نا چاہتے ہوئے بھی مجبوراً غیر قانونی طور پر جنگلاتکاٹتے ہیں۔ یہ پچھلے 73 سالوں سے ہو رہا ہے،” سرگلہ کہتے ہیں کہ “میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوںکہ اگر ہم متبادل ایندھن کے ذرائع یا مٹی کے تیل کے ذریعے کم قیمت بجلی فراہم نہیں کرتے ہیں تواگلے 20 سے 30 سالوں میں ہمارے جنگلات ختم ہو جائیں گے۔” مترجم: عشرت انصاری پڑھنا جاری رکھیے مضمون جنس پاکستان کی خواجہ سراء کمیونٹی موسمیاتی تباہی اور سماجی تنہائی دونوں سے لڑ رہی ہے مضمون توانائی کی منتقلی پاکستان کی توانائی کا مستقبل: ایک گفتگو مضمون انفراسٹرکچر پاکستان - انفراسٹرکچر پر خصوصی توجہ کا اب وقت آگیا ہے مضمون جنس ایشیاء میں موسمی تبدیلی سے متعلق تین پروجیکٹس میں صنف کو مرکزی اہمیت دی گئی ہے مضمون قابل تجدید توانائی پاکستان کے ضلع تھر میں کوئلے کے پلانٹس کے ساتھ شمسی توانائی کا منصوبہ بھی شامل ہوگا مضمون ویٹ لینڈز تنازعے میں گھرے شمال مغربی پاکستان کے آبی پرندوں کو شکار اور عسکریت پسندی سے خطرہ ہے مضمون توانائی کی منتقلی توانائی کا تحفظ اور پیسے کی بچت، کیا پاکستان اس کوشش میں کامیاب ہوگا؟ مضمون شدید موسم سات ماہ گزرنے کے بعد بھی سندھ سیلاب کی تباہ کاریوں سے نبرد آزما ہے