آب و ہوا انٹرویو: موسمیاتی تبدیلی پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں کی صرف ایک وجہ ہے پاکستان میں سیلاب سے ہلاکتوں اور تباہی کا سلسلہ جاری ہے، دی تھرڈ پول نے اس سلسلے میں ملک کے موسمیاتی تبدیلی کے ممتاز ترین ماہر علی توقیر شیخ سےگفتگو کی اردو اردو English Share this article × Copy link to page Copy link to page × اس مضمون کو دوبارہ شائع کریں ہم آپ کو کری ایٹو کامنز لائسنس کے تحت ، دی تھرڈ پول کے مضامین آن لائن یا پرنٹ میں دوبارہ شائع کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ براہ کرم شروع کرنے کے لئے ہماری دوبارہ اشاعت کے رہنما خطوط پڑھیں۔ صوبہ خیبرپختونخوا کے شہر چارسدہ میں سیلاب۔ پاکستان میں اس سال کے تباہ کن مون سون سیلاب کے پیچھے موسمیاتی تبدیلی ایک بڑا عنصر ہے، لیکن منصوبہ بندی اور غربت نقصان کی حد کا تعین کرنے میں بہت بڑا کردار ادا کرتے ہیں۔ (تصویر: فیاض عزیز/ الامی) فرح ناز زاہدی معظم ستمبر 1, 2022September 3, 2022 پاکستان میں اب تک کے آنے والے تاریخ کے بدترین سیلاب کے نتیجے میں پہلے ہی 350 سے زائد بچوں سمیت1,100 سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔ سیلاب سے تین کروڑ تیس لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں، اور باونلاکھ لوگوں کو سیلاب کی مصیبتوں سے نجات دلانے کا مشکل کام اب فلڈ ریسپانس پلان کے کندھوں پر آ پڑا ہے۔پاکستان کی موسمیاتی تبدیلی کی وزیر شیری رحمٰن نے برسات کے اس موسم کو “مونسٹر مون سون” کا نامدیتے ہوئے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے ملک کا ایک تہائی سے زیادہ حصہ پانی کے اندر ڈوبا ہوا ہے۔ نقصان کا پورا تخمینہ لگانے میں ابھی فی الحال کچھ وقت لگے گا۔ لیکن اس سیلاب کی وجہ سے پورے ملک میںانفراسٹرکچر (سڑکوں ، پلوں ، اور نکاسی آب کے نظام) کو نقصان پہنچا ہے۔ اور عارضی تخمینوں کے مطابق یہنقصانات تقریباً 10 ارب امریکی ڈالر کے قریب ہیں۔ تصویر بشکریہ علی توقیر شیخ پاکستان دنیا کے ان ملکوں میں سے ایک ہے جو آب و ہوا سے پیدا ہونے والے خطرات کی زد میں رہتا ہے اوریہاں کے سخت موسمی حالات ایک چیلنج ہیں جس سے پاکستان کو نمٹنا پڑے گا، باوجود اس کے کہ عالمی گرینہاؤس گیسوں کے اخراج میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ لیکن کیا 2022 کے سیلاب میں بڑےپیمانے پر جانی و مالی نقصانات سے بچا جا سکتا تھا؟ مستقبل میں دوبارہ ایسا ہونے سے بچنے کے لیے کیا کیاجا رہا ہے؟ دی تھرڈ پول نے علی توقیر شیخ جو موسمیاتی تبدیلی، ترقی اور موسمیاتی رسک مینجمنٹ پر پاکستان کے ممتازماہرین میں سے ایک ہیں، کے ساتھ 2022 کے سیلاب، ان کی وجوہات، اب تک کے ردعمل اور آ ئندہ کے لیےلائحہ عمل ترتیب دینے کے حوالے سے گفتگو کی۔ دی تھرڈ پول: پاکستان کو ہر چند سال بعد سیلاب کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ لیکن 2009 کے بعد سے تقریباً ہر سالہی سیلاب آتا رہا ہے۔ کیا سیلابی ریلوں کی تعداد بڑھ رہی ہے؟ اور تباہی کیوں بڑھ رہی ہے؟ علی توقیر شیخ: یہ ایک پیچیدہ سوال ہے۔ خشک سالی، گرمی کی لہروں اورگلیشیئرز کے پگھلنے کو سیلاب کے مقابلے میں واضح طور پر موسمیاتی تبدیلیوں سے منسوب کیا جا سکتا ہے،لیکن سیلاب کو موسمیاتی تبدیلیوں سے منسوب کرنا بہت مشکل اور پیچیدہ ہے۔ موسمیاتی تبدیلی سے جڑے واقعات اور انکے اثرات کو سمجھنے کے حوالے سے سائنسی علم اورٹیکنالوجی میں کافی بہتری آئی ہے- اب سائنسدان موسموں کی ماڈلنگ (یعنی کمپیوٹر سے جڑے جدید آلات کےذریعے اصل موسمیاتی نظام کا خاکہ تیار کرنا اور اس کی بنیاد پر موسموں کی پیش گوئی کرنا) کر سکتے ہیںاور اندازہ لگا سکتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے اصل میں کتنا نقصان ہوا ہے۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہےکہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے عالمی سطح پر سیلاب کا امکان بڑھ جائے گا۔ سیلاب کے دوران ہونے والے زیادہ تر نقصانات دراصل ناقص حکومتی اقدامات اور کمزور معیشت کی وجہ سےہوتے ہیں۔ ایک مؤثر اور مضبوط تر مون سون سسٹم کے نتیجے میں زیادہ بارشیں ہوتی ہیں، اور یہ مون سون اب زیادہ شدیدہوتے جا رہے ہیں۔ لہذا موسمیاتی تبدیلی سیلابوں میں اضافے کا ایک اہم عنصر ہے۔ ہمیں سندھ میں موسلادھاربارشوں، بلوچستان میں ابل پڑنے والے سیلاب، کراچی اور حیدرآباد جیسے شہروں میں شہری سیلاب، جنوبیپنجاب اور زیریں سندھ میں اچانک سیلاب، اور گلگت بلتستان میں برفانی سیلابوں سے واسطہ پڑ رہا ہے۔ یہ سبکچھ ظاہر کرتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے مون سون سسٹم نے اپنا روایتی راستہ بدل لیا ہے اور اسکے پاکستان میں انسانی تحفظ پر طویل مدتی اثرات مرتب ہوں۔ Recommended لیکن ہم صرف موسمیاتی تبدیلیوں کو سیلاب سے ہونے والی تباہی میں اضافے کی بنیادی وجہ قرار نہیں دےسکتے۔ اگرچہ سیلابوں میں اضافہ موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ بہت مضبوطی سے جڑا ہوا ہے، اور موسمیاتی تبدیلیایک خطرہ ہے جو ہمارے لیے مسلسل بڑھ رہا ہے، سیلاب کے دوران ہونے والے زیادہ تر نقصانات دراصلناقص حکومتی اقدامات اور کمزور معیشت کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ ہم موسمیاتی تبدیلی کو اپنی منصوبہ بندی میںشامل نہیں کر رہے ہیں۔ جب تک ہم ایسا نہیں کریں گے ہمارا ملک اس تبدیلی کے تباہ کن اثرات کی زد میں رہےگا۔ موسمیاتی تبدیلی پر بین الحکومتی پینل کی جانب سے موسمیاتی اثرات، موافقت اور ضرر پذیری سے متعلق ایکحالیہ رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ عالمی سطح پر موسمیاتی اثرات پہلے کی رپورٹوں کے تجزیے سے کہیں زیادہتیزی سے رونما ہو رہے ہیں۔ پاکستان کو ان تنبیہات پر دھیان دینا چاہیے تھا۔ اگر 1995، 2003، 2007، 2010 اور 2022 کی طرح پاکستان میں آنے والے شدید سیلابوں سے ہونے والے نقصانات کا گراف بنایا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ آبادی کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ دریائی سیلابوںسے ہونے والے نقصانات میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ اگر لوگ دریا کے کناروں پر مکانات بنا کر رہنا شروع کر دیتے ہیں تو اور اگر حکومتی ادارے اتنے کمزور ہوںکہ وہ انہیں روکنے کے بجائے نہ صرف انہیں وہاں بسنے کی ترغیب دیں بلکہ ان کے لیے اسکول اور ہسپتالبنائیں اور بجلی کے کنکشن بھی فراہم کرنا شروع کر دیں تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ریاست خود موسمیاتیتبدیلی کے اس خطرے کو ان کی نظام کی جڑوں میں داخل کر رہی ہے اور اپنی کمزور طرز حکمرانی سے اسغلط طرز عمل کو خود ہی ہوا دے رہی ہے۔ تو کیا ہم آب و ہوا کی تبدیلی کے نتیجے ہونے والی ہجرت کا ایک خطرناک چکر دیکھ رہے ہیں کیونکہ کمیونٹیزاُن علاقوں میں آباد ہو رہی ہیں جہاں انہیں آباد نہیں ہونا چاہیے؟ جی ہاں. میں نالے کے قریب کسی ایسے علاقے جو موسمیاتی خطرے کی زد میںہو میں جاکر گھر بنانا پسند نہیں کروں گا۔ پسماندہ افراد بھی اسے پسند نہیں کرتے لیکن وہ ان ضرر پذیر علاقوںمیں رہنے پر مجبور ہیں۔ ان علاقوں کو سیلاب، مٹی کے تودوں اور برفانی طوفانوں کا زیادہ خطرہ رہتا ہے۔آبادیمیں اضافہ، جن علاقوں میں وہ آباد ہیں، اور جس قسم کی گھروں میں وہ رہ رہے ہیں یہ تینوں عوامل مل کرسیلاب سے ہونے والے نقصانات کے مسئلہ کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ [سیلاب کے نقصان کی] کچھ وجہ موسمیاتی تبدیلی اور کچھ وجہ کمزور انفراسٹرکچر اور غربت ہے اور کچھوجوہات ان دونوں کا مجموعہ ہیں ۔ جب ہم کسی چیز کو سمجھنے میں ناکام رہتے ہیں یا ہم کسی خاص علاقے پرکام نہیں کرنا چاہتے تو ہم اسے صرف موسمیاتی تبدیلیوں سے وصف کر دیتے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کا اصل اثر زرعی پیداوار میں کمی اور لچک میں کمی ہے۔ مثال کے طور پر، جب تھرپارکر[صوبہ سندھ کا ایک ضلع] میں خشک سالی آتی ہے تو لوگ زندہ رہنے کے لیے کہیں اور جا کر آباد ہو جاتے ہیں۔وہ بڑے شہروں میں چلے جاتے ہیں اور خشک سالی سے بچنے کے لیے نالے کے قریب گھر بنانے کی کوششکرتے ہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے آپ دو مصیبتوں میں سے برتر مصیبت کا انتخاب کر بیٹھیں۔ آپ نے غربت سےبچنے کے لیے اپنا گھر چھوڑا لیکن اب موسمیاتی خطروں کی زد میں رہنے کی وجہ سے آپ کی جان جوکھم میںہے۔ اپنے علاقوں میں کم از کم انکے پاس سماجی سرمایہ ہوتا ہے جبکہ نئے علاقوں میں وہ پسماندہ ہو جاتے ہیں۔پیسے اور بیک اپ کے حوالے سے کوئی سیکورٹی نیٹ نہیں ہے۔ کراچی سیلاب سے اتنا بری طرح متاثر کیوں ہوا ہے؟ Recommended کراچی کا انفراسٹرکچر ناکافی ہے۔ اگر کسی بھی ترقی یافتہ شہر میں اتنی بارش ہو تو کسی کو کچھ معلوم نہیںہوگا کیونکہ ان کا بنیادی انفراسٹرکچر بڑا ہے اور کام کر رہا ہے۔ جبکہ ہم اب بھی نکاسی آب کے لیے برطانویدور کی پائپ لائنوں پر انحصار کر رہے ہیں جو کہ 1947 سے پہلے، کراچی کی 46,000 آبادی کے لیےبچھائی گئی تھیں۔ اب آبادی ڈھائی کروڑ کے لگ بھگ ہے ، جبکہ سرکاری مردم شماری اس سے کم تعداد ظاہرکرتی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ نہ صرف نقصانات ہو رہے ہیں اور سڑکیں ٹوٹی پھوٹی ہیں بلکہ بچے مر رہے ہیں اور بیماریاںپھیل رہی ہیں۔ سندھ اور بلوچستان میں بارشوں نے ساٹھ سالہ ریکارڈ توڑا ہے۔ بلوچستان کیوں اتنا برا اور غیر متوقع طور پرسیلاب سے متاثر ہوا ہے؟ میں نے حال ہی میں اس بارے میں لکھا ہے کہ سطح سمندر میں اضافے سے ساحلی سیلاب میں اضافہ ہوا ہے،جبکہ سمندر میں زیادہ درجہ حرارت بادلوں کو زمین پر مزید دور تک سفر کرنے کی صلاحیت کو بڑھا دیتا ہے،جس میں بلوچستان کے وہ حصے بھی شامل ہیں جہاں پہلے سیلاب نہیں آیا تھا۔ بلوچستان میں سیلاب بار بار آرہےہیں جس کو خلیج بنگال سے شروع ہونے والے روایتی مشرقی مون سون کے بجائے ان مغربی موسمی اثرات سےمنسوب کیا جا سکتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ موسمی چکر میں اس تبدیلی نے بلوچستان کے عام طور پر غیر مونسونی علاقوں میں سیلابی ریلوں کی تعداد اور شدت میں اضافہ کیا ہے۔ کیا پاکستان کے پاس آفات سے نمٹنے کے نظام کا کوئی مناسب منصوبہ ہے؟ مسئلہ یہ ہے کہ ہماری منصوبہ بندی اوپر سے نیچے کی طرف ہے۔ جسکے تحت یہ سمجھا جاتا ہے کہ ایک ہیحل سب کے لیے موزوں ہے۔ اگر آپ کو کسی علاقے کے لیے کسی خاص چیز کی ضرورت ہے تو پالیسیسازوں کے پاس اس سے نمٹنے کے لیے علم، صبر یا وسائل نہیں ہیں۔ ہمارے پاس مقامی حکومت میں مضبوطادارے نہیں ہیں، اور ان کو شاید مختلف وجوہات کی بنا پر کمزور رکھا گیا تھا۔ اس وقت مقامی سطح پر ایک خلاہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ قوانین کو نافذ کرے اور نقد رقم کی ادائیگی کو محفوظ علاقوں میں رہنے کے ساتھلازمی قرار دے۔ مقامی، صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے درمیان صرف تعاون کی کمی نہیں ہے بلکہ ان کے درمیان وسائل کامقابلہ ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنے حاصل اختیارات سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں جس سے وہاستفادہ حاصل کرتی رہی ہیں۔ تمام حکومتوں میں یہی معاملہ رہا ہے۔ اگر مزید وسائل صوبوں کے پاس جاتے ہیں، تو اس سے صوبائی حیثیت کو تقویت اور اس کے دائرہ کار میںاضافہ ممکن ہے ، جیسا کہ ہم نے اٹھارویں ترمیم کے بعد دیکھا ہے جس نے صوبوں کو زیادہ خودمختاری اوروسائل دیے ۔ صوبوں کو حکومت کے تیسرے درجے یعنی اضلاع اور ذیلی اضلاع کی سطح پر وسائل منتقلکرنے کی ضرورت ہے۔ جب ہم بحالی کے مرحلے میں داخل ہوں تو آگے کا لائحہ عمل کیا ہونا چاہیے؟ فوری اور طویل مدتی حل کے درمیان تنازعہ ہے۔ سیلاب سے متاثر ہونے والوں کے سر پر چھت نہیں ہے اور انکی کھڑی فصلیں تباہ ہوچکی ہیں، اس لیے انہیں فوری مدد کی ضرورت ہے، اور یہ حکومت کے مفاد میں ہے کہوہ انہیں مدد فراہم کرے۔ لیکن ہم جیسے لوگ طویل مدتی بحالی کی لچک دیکھنا چاہتے ہیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہےکہ گھروں کو دوبارہ بہتر طور پر تعمیر کرنا بھلا دیا جاتا ہے اور دریں اثناء کچھ دوسرے بحرانپیدا ہو جاتے ہیں جسکی وجہ سے حکمت عملی بنانے والوں کی توجہ نئے بحرانوں کی طرف مرکوز ہو جاتی ہے۔ گھروں کو دوبارہ بہتر طور پر تعمیر کرنے کی ایک اچھی مثال یہ ہے کہ جب حال ہی میں کینیڈا میں سیلاب آئےتو حکومت نے کہا وہ متاثرہ لوگوں کی مدد اس وقت کرے گی جب وہ ساحلی علاقوں میں گھر نہیں بنائیں گے۔حکومت کے اس فیصلے نے نقد رقم کی ادائیگی کو بہتر تعمیر کرنے کے ساتھ منسلک کیا۔ Recommended پاکستان میں اگر کوئی سیلاب سے بے گھر ہو جائے تو حکومت کہتی ہے کہ پندرہ ہزار روپے لے کر اپنا گھردوبارہ تعمیر کرلو۔ لیکن مکان اگلے سال دوبارہ سیلاب کی وجہ سے تباہ ہو جائے گا کیونکہ وہ انہی نازک علاقوںمیں ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ قوانین کو نافذ کرے اور نقد رقم کی ادائیگی کو محفوظ علاقوں میں رہنے کےساتھ مشروط قرار دے۔ امداد اور بحالی کے درمیان توازن پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن ہم اپنی تمام سخاوت کو صرف امداد کیطرف لے جاتے ہیں۔ مستقبل میں نقصان سے بچنے کے لیے مضبوط انفراسٹرکچر اور بہتر تعمیر کرنا کتنا ضروری ہے؟ ہمیں تفصیلی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے جو مٹی کے گھروں کو مضبوط بنانے میں مدد کریں، اور ان کیچھتیں موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کر سکیں بجاے اسکے کے وہ گر جائیں۔ چاہے پلازے ہوں، یا دیہی علاقوں میںگھر یا جھونپڑیاں آپکو ان کی تعمیر کے لیے ایک معیار کی ضرورت ہے۔ انفراسٹرکچر کے لیے ہمیں ایسے رہنمااصولوں کی ضرورت ہے جو سیلاب اور آفات سے نمٹنے کے لیے ہماری بڑھتی ہوئی ضرورت کو پورا کرسکیں۔ ہم نے ابھی تک موسمیاتی تبدیلیوں سے موافقت میں اضافہ نہیں کیا ہے، اور اس کے نتیجے میں سیلاب اور دیگرآفات کی زد میں آنے سے بچنے کے لیے کوئی کام نہیں کیا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم ایک آب و ہوا کےخطرے سےجلد دوچار ہونے والا ملک ہیں، اور ہمیں اس بڑی سطح کے نقصان سے بچنے کے لیے موافقت کیحکمت عملیوں کی اشد ضرورت ہے۔ مترجم: عشرت انصاری پڑھنا جاری رکھیے مضمون پانی کی قلت قبل ازوقت بارشوں نے کراچی کی نکاسی آب کے نقائص کو بے نقاب کردیا راۓ پینے کا پانی راۓ : پاکستان میں پانی کے بحران کا خمیازہ خواتین کو بھگتنا پڑ رہا ہے مضمون انفراسٹرکچر پاکستان - انفراسٹرکچر پر خصوصی توجہ کا اب وقت آگیا ہے مضمون کوئلہ کوئلے کی دھول پاکستان میں بچوں کی صحت کو نقصان پہنچا رہی ہے مضمون شدید موسم موسمیاتی سائنسدان پاکستان میں ناگہانی سیلاب کی وضاحت کر تے ہیں مضمون شدید موسم خشک سالی کے بعد آنے والے سیلاب نے سندھ کی زراعت کو تباہ کر دیا ہے مضمون آبی آلودگی گندا آلودہ پانی کراچی کی سمندری حیات کے لیےانسان کی پیدا کردہ آفت ہے مضمون ماہی پروری کراچی کی ساحلی پٹی پہ تعمیری سرگرمی ماحولیاتی نظام اور لوگوں کے ذریعہ معاش پر بری طرح اثرانداز ہورہی ہے