آب و ہوا موسمیاتی سائنسدان پاکستان میں ناگہانی سیلاب کی وضاحت کر تے ہیں 2010میں آنے والے سیلاب کے برعکس ، اس سال کی شدید تباہی بارشوں سے آنے والے سیلابوں کی وجہ سے ہوئی لیکن لا نینا کے موسمی نمونے نے ان آفات کے اثرات کو اور بھی بڑھا دیا۔ جیسے جیسے ان آفات کا تعلق موسمیاتی تبدیلیوں کے ساتھ واضح ہوتا جا رہا ہے، پاکستانی حکومت اس سال اقوام متحدہ کے موسمیاتی مذاکرات میں نقصانات کی تلافی کا مطالبہ کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اردو اردو हिन्दी 中文 English Share this article × Copy link to page Copy link to page × اس مضمون کو دوبارہ شائع کریں ہم آپ کو کری ایٹو کامنز لائسنس کے تحت ، دی تھرڈ پول کے مضامین آن لائن یا پرنٹ میں دوبارہ شائع کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ براہ کرم شروع کرنے کے لئے ہماری دوبارہ اشاعت کے رہنما خطوط پڑھیں۔ شمال مغربی پاکستان کے سوات میں 5 ستمبر 2022 کو شدید بارشوں کے سبب اچانک آنے والے سیلابوں کے بعد لوگ دریائے سوات کو عبور کر رہے ہیں۔ موسمیاتی سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس سال ملک بھر میں آنے والے تباہ کن سیلاب کو کچھ شمالی اضلاع میں اچانک آ نے والے سیلاب نے مزید پیچیدہ کر دیا ہے، دراصل یہ سیلاب ملک کے جنوب میں سندھ اور بلوچستان میں ہونے والی موسلادھار مون سون بارشوں کی وجہ سے آیا ہے۔ (تصویر: سعید احمد/الامی) راعنا سعید ستمبر 6, 2022September 23, 2022 گزشتہ ہفتے کے آخر میں پاکستان میں آسمان صاف ہو گیا، جس سے سیلاب سے ہونے والےنقصانات کا پتہ چلتا ہے اور جسے اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوٹیرس نےمون سون آنسٹیرائڈز کا نام دیا ہے۔ اس سال کی تباہی نے 2010 میں سیلاب کی تباہ کاریوں کو پیچھے چھوڑدیا ہے کیونکہ اسکی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ پاکستان کی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی، شیریرحمان کے لیے بلائے گئے ایک اجلاس میں کہا کہ پہلی ستمبر کو اسلام آباد اقوام متحدہ کےاگلے موسمیاتی مذاکرات کے تیاری کے لیے بلائے گئے ایک اجلاس میں کہا۔ رحمان نے کہا کہ “مونسٹر مون سون” کی وجہ سے آنے والے سیلاب ملک کی 45 فیصد فصلوںکو اپنے ساتھ بہا کر لے گئے ہیں، خصوصاً جنوب میں واقع صوبہ سندھ میں جس کا نصف حصہاب بھی سیلابی پانی میں ڈوبا ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو اب تک تقریباً 10 اربامریکی ڈالر کا نقصان پہنچا ہے، اور ان سیلابوں کی وجہ سے تین کروڑ اور تیس لاکھ لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ ماہرین کو خدشہ ہے کہ حالیہ سیلاب اس سال پاکستان کی چاول کی پیداوار کو متاثر کرے گا۔ اسکے اثرات پوری دنیا پر پڑیں گے ، کیونکہ پاکستان پوری دنیا میں اناج برآمد کرنے والا چوتھاسب سے بڑا ملک ہے۔ Recommended ابھی پوری طرح معلوم نہیں ہے کہ یہ تباہی کس حد تک موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کی وجہسے ہے۔ اس کا تعین کرنے کے لیے کہ سیلاب موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے آئے ہیں سیلابسے منسوب ایک مخصوص مطالعہ کیا جا رہا ہے اور اس مطالعے کے نتائج اس مہینے کے آخرمیں متوقع ہیں۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پہلے ہی واضح ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اس تباہ کنسیلاب کا ایک عنصر تھی۔ رحمان نے دی تھرڈ پول کو بتایا کہ پاکستان اس نومبر میں مصر میں ہونے والے اقوام متحدہ کےسالانہ موسمیاتی مذاکرات میں بڑے پیمانے پر آلودگی پھیلانے والے ممالک پر نقصانات کی تلافیکے لیے سخت دباؤ ڈالے گا۔ پاکستان اس وقت ترقی پذیر ممالک کے G-77 گروپ پلس چائنہ کیسربراہی کررہا ہے اور نقصان اور ضرر کی مالیاتی سہولت کے قیام اور فعال ہونے کے لیےزور دینے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ یہ سیلاب ماضی کی آفات سے مختلف ہے۔ بہت سی اخباری رپورٹس میں اس سال کے تباہ کن سیلاب کا 2010 کے سیلاب سے موازنہ کیاگیا ہے۔ لیکن موسمیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ دونوں واقعات کے درمیان میں مشترکات ہیںلیکن کچھ نہایت اہم اختلافات ہیں جن سے حکام کو آگاہ ہونا چاہیے۔ فہد سعید جو کہ ایک عالمی تھنک ٹینک، کلائمیٹ اینالیٹکس، میں بطور موسمیاتی سائنسدان کامکرتے ہیں نے دی تھرڈ پول کو بتایا کہ 2010 کی تباہی جولائی میں شمالی پاکستان کے پہاڑوںمیں بہت شدید بارشوں سے آنے والے دریائی سیلابوں کی وجہ سے ہوئی تھی۔ سعید نے کہا کہدریائے سندھ کے نیچے شمال سے بحیرہ عرب کی طرف سفر کرنے والے سیلاب نے کافیوقفہ دیا جس میں نیچے کی طرف والے علاقے انخلاء کے اقدامات کر سکتے تھے۔ میرے پاس اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ برفانی گلیشیرپگھلنے نےسیلاب میں اہم کردار ادا کیا ہے- دریائے جہلم میں معمول کے مطابق بہاؤ ہے۔ یہ بارش سے آنے والے سیلاب تھے۔فہد سعید اسی دوران اس سال کا سیلاب بیک وقت پاکستان کے جنوب میں واقع سندھ اور بلوچستان میں مونسون کی موسلادھار بارشوں کی وجہ سے آیا ہے۔ شدید تباہی پھیلانے والا یہ سیلاب، طویل مدتیاوسط سے تقریباً چار گنا، جون کے وسط میں شروع ہوا اور اگست تک جاری رہا۔ کچھ شمالیاضلاع میں شدید بارشوں کے سبب اچانک آنے والے سیلاب کی وجہ سے یہ اور بھی خطرناکہوگیا جس کی وجہ شدید طوفانی بارشیں تھیں۔ سعید نے وضاحت کی کہ “سندھ اور بلوچستاندونوں وہ علاقے ہیں جہاں مون سون کی بارشیں کم ہوتی ہیں، مگر یہاں کی زمینیں پانی میںڈوب گئیں اور ساتھ ہی ساتھ دریائے سندھ اور دریائے کابل میں بھی دریائی سیلاب آئے۔ مئی میں پاکستان کے محکمہ موسمیات نے ملک میں اوسط سے زیادہ بارشوں کی پیش گوئی کیتھی اور سیلاب کی وارننگ بھی دی تھی۔ سعید نے کہا کہ ملک میں موجودہ سیاسی انتشار کیوجہ سے اس معلومات کو ملکی میڈیا سمیت سب نے اسکو نظر انداز کر دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کی طرح اس سال بھی ال نینو ساودرن اوسیلیشن, ایک بار بار چلنے والاآب و ہوا کا نمونہ ہے جس میں وسطی اور مشرقی منطقہ حارہ بحر الکاہل میں پانی کے درجہحرارت میں تبدیلیاں شامل ہیں, اپنے لا نینا مرحلے میں دکھائی دیتی ہے۔ اس مرحلے کے نتیجےمیں ماضی میں جنوبی ایشیاء میں زیادہ بارشیں ہوئی ہیں۔ ال نینو اور لا نینا (El Niño and La Niña) لا نینا ایک موسمی نمونہ ہے جو بحر الکاہل میں پایا جاتا ہے۔ یہ ال نینو کے موسمی نمونے کامخالف رخ ہے، جو کہ مشرقی استوائی بحر الکاہل میں سطح سمندر کے درجے حرارت کے گرمہونے کا مرحلہ ہے جس کے نتیجے میں ہندوستان اور دنیا کے دیگر حصوں میں مشرق کیطرف سے چلنے والی ہوائیں اور مون سون کے سسٹم متاثر ہوتے ہیں۔ امریکہ میں اوک رج نیشنل لیبارٹری کے ایک کمپیوٹیشنل کلائمیٹ سائنس دان معتصم اشفاق نےتصدیق کی کہ: “لا نینا، جو مسلسل تین سالوں سے اب تک برقرار ہے، ممکنہ طور پر اس سالپاکستان میں ہونے والی شدید بارشوں میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔” اشفاق کے مطابق، “2010 کا سیلاب جولائی کا ایک واحد واقعہ تھا جبکہ اس سال کی تباہی کیبڑی وجہ سندھ اور بلوچستان میں مسلسل بارشیں ہیں، جہاں شدید بارشوں سے نمٹنے کے لیےکوئی مناسب انفراسٹرکچر ( سڑکوں، پلوں، اور نکاسی آب کا نظام) موجود نہیں ہے۔ یہ ایک غیرمعمولی واقعہ ہے۔” انہوں نے نشاندہی کی کہ جیسے جیسے موسمیاتی تبدیلی سمندروں کو گرم کررہی ہے، یہ پانی کے بخارات میں تبدیل ہونے کے عمل کو بھی تیز کر رہی ہے اور شدید بارشوںکا باعث بن رہی ہے۔ سعید نے اس فرضی حقیقت کو خارج از امکان قرار دیا کہ پاکستان کے گرتے ہوئے گلیشیئرز نےموجودہ سیلاب میں کردار ادا کیا ہے۔”میرے پاس اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ گلیشئرز کےپگھلاؤ نے سیلاب میں اہم کردار ادا کیا ہے – دریائے جہلم [ جو کشمیر کے پہاڑوں میں برفباری اور گلیشئرز کے پگھلاؤ کے نتیجے میں ذخیرہ ہونے والے پانی سے بھرتا رہتا ہے] کا بہاؤمعمول کے مطابق ہے۔ درحقیقت یہ بارشوں کی وجہ سے آنے والے سیلاب تھے ۔”انہوں نے کہاکہ مارچ اور اپریل میں گرمی کی شدید لہر کے دوران شمالی پاکستان میں ایک بڑی اور کئیچھوٹی برفانی جھیلوں کے پھٹنے کی وجہ سے بہت پہلے سیلاب آیا تھا۔ بھارت بھی سیلاب کی زد میں ہے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ہونے والی شدید بارشوں کا حالیہ دور جس نے سندھ اور بلوچستان کوسیلاب میں ڈالا ہے اس کی شروعات ہوا کے کم دباؤ سے ہوئی جو اگست کے آخر میں خلیج بنگالمیں نمودار ہوا۔ مون سون کے یہ بادل ہندوستان کے مشرقی ساحل پر اڈیشہ (سابقہ نام اڑیسہ) میںبرسے اور پاکستان پہنچنے سے پہلے ہندوستان سے گزرتے ہوئے تباہی کے نشانات چھوڑ گئے۔ موسم کی پیشن گوئی کرنے والی کمپنی اسکائی میٹ ویدر کے مہیش پلوات نے ہوا کے کم دباؤکے بارے میں کلائمیٹ ٹرینڈز کے لیے دی گئی ایک بریفنگ میں کہا کہ: “یہ ایک غیر معمولیواقعہ ہے کیونکہ ہم موسمی نظام کو اس سمت میں سفر کرتے ہوئے نہیں دیکھتے ہیں۔ اس کو بڑیحد تک موسمیاتی تبدیلی سے منسوب کیا جا سکتا ہے، جس نے مون سون کے سسٹم کو تبدیل کردیا ہے۔ معمول کے حالات میں یہ سسٹم شمال مغربی ہندوستان میں سفر کرتے ہوئے شمالیپاکستان تک پہنچتے ہیں۔ تاہم، مون سون کے سسٹم کی نقل و حرکت میں تبدیلی کی وجہ سےہمارے پاس جنوبی سندھ اور بلوچستان میں انتہائی تیز بارش ہوئی۔ مون سون سسٹم کی یہ حرکت ہند-گنگا کے میدانی علاقوں میں خشک سالی کا باعث بنی ہے جوکہ پورے ہندوستان کو اناج فراہم کرنے والی اہم ترین زمین ہے اور اس سال اسی علاقے کےبالکل جنوب میں بیک وقت سیلاب آیا ہے۔ خشک سالی نے بنگلہ دیش میں راج شاہی تک مشرقکے علاقوں کو متاثر کیا ہے۔ بھارت میں بارشوں کی کمی کی وجہ سے گزشتہ سیزن کے مقابلےمیں چاول کی کاشت کا رقبہ 8 فیصد کم ہے۔ ہندوستان دنیا کے چاول کی تجارت کا 40 فیصد ذمہدار ہے اور دنیا کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ہے۔ مون سون کا یہ سسٹم مارچ کے شروع میں گرمی کی شدید لہر سے متصل شروع ہوا تھا جس نےپہلے ہی ہندوستان اور پاکستان میں گندم کی پیداوار کو متاثر کیا تھا۔ آب و ہوا کے مطالعے سےمنسوب سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں نے گرمی کی شدید لہر کے امکاناتکو 30 گنا زیادہ کر دیا ہے۔ تعمیر نو کے لیے پاکستان کو اب پیسے کی ضرورت ہے۔ سعید، جو آب و ہوا سے منسوب مطالعے کے محققین میں سے ایک ہیں،نے کہا: “موسمیاتی مالیاتتک رسائی حاصل کرنے کے لیے ہمیں آب و ہوا سے جڑی ایک مضبوط منطقی بنیاد کیضرورت ہے اور یہی وہ جگہ ہے جہاں موسمیاتی تبدیلیوں سے منسوب مخصوص مطالعات کیضرورت پڑتی ہے۔ عنقریب [اقوام متحدہ کے موسمیاتی مذاکرات] میں نقصان اور ضرر کا مقدمہبنانے کے لیے ہمیں یہ جاننے کے ضرورت ہے کہ اب و ہوا نے اس شدید تر تباہی میں کیا کردارادا کیا ہے۔ “دس ارب امریکی ڈالر کے نقصانات کی تشخیص 2010 کے سیلاب کے بعد کی گئی تھی۔ ہمیںابھی اس سال کے نقصانات کا تخمینہ مکمل کرنا ہے اور یہ بہت بڑا ہوگا۔ پاکستان کی معیشت انجھٹکوں کو مسلسل برداشت نہیں کر سکتی۔ ہمیں اس معاملے کو مضبوط سائنسی بنیادوں کے ساتھلے اس سال مصر میں بین الاقوامی برادی کے پاس جانا ہے۔ سیلاب کے بعد بین الاقوامی مالیاتی فنڈ پاکستان کو بیل آوٹ پیکج دلوانے میں جلدی کر رہاہے۔کچھ امیر ممالک نے گرانٹ دینے کا اعلان کیا ہے۔ بھارت نے مدد کی پیشکش کی ہے لیکنپاکستان اسے قبول کرے گا یا نہیں اس بارے میں ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ پاکستان کی معیشت مسلسل ان جھٹکوں کو برداشت نہیں کر سکتیفہد سعید، کلائمیٹ اینالیٹکس اب بڑے پیمانے پر آلودگی پھیلانے والے ممالک کے ذریعے ہونے والے نقصان کی تلافی کاسوال ہے۔ کشمالہ کاکاخیل، موسمیاتی مالیات کی ماہر جو کہ اقوام متحدہ کے گرین کلائمیٹ فنڈ کیایگزیکٹو کمیٹی میں شامل تھیں، نے وضاحت کی کہ موسمیاتی تبدیلی سے متعلق تبادلہ خیالات میںکوئی نئی بات نہیں تھی۔”1990 کی دہائی کے آغاز سے ہی، موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونےوالی آفات کی زد میں رہنے والے ممالک ترقی یافتہ ممالک سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہموسمیاتی تبدیلی کے ان نتائج سے نمٹنے میں مدد کے لیے مالی امداد فراہم کریں جس سے عاملوگ نبرد آزما نہیں ہو سکتے۔ ترقی یافتہ ممالک کی طرف سے اس طرح کی تجاویز کو مسلسلٹھکرایا جاتا رہا ہے۔ تاہم، انہوں نے کہا، “نقصان اور ضرر کی مالیاتی سہولت” کی قوت محرکہ نے گلاسگو میںآخری موسمیاتی مذاکرات میں اہمیت ملی اور کچھ ترقی یافتہ ممالک نے حمایت کا اشارہ دیا۔“مصر میں ہونے والے سالانہ مذاکرات میں پاکستان کو یقینی طور پر موسمیاتی خطرات سےدوچار ممالک کے بڑے اتحاد میں شامل ہونا چاہیے جو ایک نئی مالیاتی سہولت یا نقصان اورضرر کے لیے وقف فنڈ کی وکالت کرتا ہے۔” Pa سعید نے کہا کہ پاکستان کو بھی اپنے گھر کو ٹھیک کرنے، 2010 اور 2022 کے سیلاب سےسبق سیکھنے اور فوری طور پر موافقت پذیر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ملککے جنوب میں “مناسب نکاسی آب” کی اہمیت کے بارے میں بات کی۔ Recommended اوک رج نیشنل لیبارٹری کے اشفاق نے نشاندھی کی کہ شہروں اور قصبوں کو اپنے انفراسٹرکچرکو شدید بارش کے واقعات سے نمٹنے کے لیے، سیلاب سے حفاظت کے لئے دیواریں بنانے اورگھروں کو دریا کے کناروں سے دور منتقل کرنے کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر، کراچیجو ملک کا اقتصادی مرکز ہے اس شہر میں سیلاب سے نمٹنے کے لیے کوئی حقیقی انفراسٹرکچر موجود نہیں ہے۔ اشفاق نے کہا کہ” یہ ایک بڑا چیلنج ہے۔اس قسم کے سیلاب سے بحالی میں کئی سال لگتے ہیں۔ہمیں ان آفات سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔” مترجم: عشرت انصاری پڑھنا جاری رکھیے مضمون شدید موسم انٹرویو: موسمیاتی تبدیلی پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں کی صرف ایک وجہ ہے مضمون آفات بروقت انتباہ پگھلتے ہوئے گلیشیر سے ہونے والے جانی نقصان سے بچاتا ہے مضمون موسمیاتی موافقت پاکستان میں گھاس پھوس سے بننے والے زلزلہ پروف گھروں کی پذیرائی میں کئی مشکلات حائل ہیں مضمون شدید موسم خشک سالی کے بعد آنے والے سیلاب نے سندھ کی زراعت کو تباہ کر دیا ہے مضمون بیلٹ اور روڈ سی پیک کی افغانستان تک توسیع براعظم کے انفراسٹرکچر کو آپس میں منسلک کر سکتی ہے مضمون آبی آلودگی گندا آلودہ پانی کراچی کی سمندری حیات کے لیےانسان کی پیدا کردہ آفت ہے مضمون ماہی پروری کراچی کی ساحلی پٹی پہ تعمیری سرگرمی ماحولیاتی نظام اور لوگوں کے ذریعہ معاش پر بری طرح اثرانداز ہورہی ہے مضمون کوئلہ کوئلے کی دھول پاکستان میں بچوں کی صحت کو نقصان پہنچا رہی ہے