خوراک ماہی گیری کے تبدیل شدہ طریقہ ہائے کار سے پاکستانی سمندر میں نایاب انواع کا شکار تقریبا ختمہوچکاہے ماہی گیری کے تبدیل شدہ طریقہ ہائے کار اور شعور میں اضافے کے سبب پاکستان کے سمندر میں ماہی گیری کے دوران نایاب انواع مثلا کچھوے، شارک ، ڈولفن اور وہیل کی اموات کم سے کم ہوچکی ہیں جبکہ اس سے ماہی گیروں کی آمدن میں خاطر خواہ اضافہ بھی ہوا ہے۔ اردو اردو English Share this article × Copy link to page Copy link to page × اس مضمون کو دوبارہ شائع کریں ہم آپ کو کری ایٹو کامنز لائسنس کے تحت ، دی تھرڈ پول کے مضامین آن لائن یا پرنٹ میں دوبارہ شائع کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ براہ کرم شروع کرنے کے لئے ہماری دوبارہ اشاعت کے رہنما خطوط پڑھیں۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے اسٹاف کی نگرانی میں لیدر بیک کچھوے کو گوادر کے سمندر میں جال سے آزاد کیا جارہا ہے۔ کچھووں کی یہ نوع عالمی طور پر انتہائی معدومی کے خطرے سے دوچار ہے۔( تصویر: ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان) شبینہ فراز , Asif Sandeelo فروری 22, 2023March 22, 2023 شکیل کی آنکھیں چمک اٹھیں ،جب اسے جنوری 2023 کے اوائل میں معدومی کے خطرے سے دوچارسبز کچھوے کو بچانے کا منظریاد آیا۔ ” ہم نے ماہی گیری کے لیے جال بچھا رکھا تھا اور مچھلی پکڑے جانے کا بے چینی سے انتظارکررہے تھے۔“ شکیل نے بتایا ، اس وقت ان کی کشتی بحیرہ عرب کے گہرے پانی میں خاصی دورجاچکی تھی۔ ہم نے اچانک جال میں ایک تیز حرکت محسوس کی، جیسے کوئی جال کو کھینچ رہا ہے۔ ہمنے دیکھا کہ کہ یہ ایک قوی الجثہ سبز کچھوا تھا جو ہمارے جال میں پھنسا ہوا تھا اور خود کو چھڑانےکی جدوجہد کررہا تھا۔ ” آہستہ آہستہ جال کھینچ کر ہم نے بہت احتیاط سے اس دیوہیکل کچھوے کو جال سے چھڑایا اورباحفاظت طور پرسمندر میں واپس چھوڑ دیا۔ ہم کچھوے کو سمندر میں تیرتے ہوئے آگے جاتے دیکھ کربہت خوش ہورہے تھے۔”کچھ عرصہ پہلے تک دوسرے ماہی گیروں کی طرح میں بھی جال میں پھنسنے والے ان جانوروں کیپروا نہیں کرتا تھا۔ مجھے صرف اپنے مچھلیوں کے شکار کی فکرہوتی تھی۔“ شکیل نے بتایا۔ لیکن پھر 2018 میں شکیل کو ایک ورکشاپ میں شرکت کا موقع ملا ، وہ کہتے ہیں کہ ” اس ورکشاپنے میرے ذہن کو یکسر تبدیل کردیا۔“اس ورکشاپ میں شکیل اور ان کے ساتھیوں کو ماحولیاتی ماہریننے ان نایاب سمندری انواع مثلا کچھوے، شارک اور ڈولفن وغیرہ کی اہمیت کے بارے میں بتایا اورساتھ ہی سمندرکے ماحولیاتی نظام میں ان کی اہمیت اور کردار پر روشنی ڈالی، اوریہ بھی واضح کیا کہہمارے غیر محتاط رویوں کے باعث ان کی آبادی گھٹتی جارہی ہے۔ ان ماہرین نے یہ بھی سکھایا کہ اگرحادثاتی طور پر ان کے جال میں یہ نایاب انواع پھنس جائیں تو کس طرح بغیر زخمی کیے احتیاط سےسمندر میں واپس چھوڑا جاسکتا ہے۔ ماہی گیری کے دوران مچھلیوں کے علاوہ جال میں پھنسنے والیان انواع کو عموما بائی کیچ (Bycatch) کہا جاتا ہے۔ شکیل پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کی ایک ساحلی بستی ابراہیم حیدری کے رہائشی ہیں۔ وہان تقریبا 700 افراد میں سے ایک ہیں جنہوں نے ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے سسٹین ایبل فشریزانٹرپرینیور شپ پروجیکٹ کے تحت ٹریننگ حاصل کی ہے جو ابراہیم حیدری اور قریبی ریڑھی گاﺅںمیں 2016 سے کام کررہا ہے۔ اس منصوبے کے لیے مالی تعاون اینگرو فاﺅنڈیشن کا ہے۔ اسمنصوبے کے مقاصد میں بائی کیچ کو کم اور روزگار کے اضافی مواقع پیدا کرنا شامل ہے ، اس کےعلاوہ اس منصوبے کا اہم مقصد پاکستا ن کے ساحل اور سمندر میں پائیدار ماہی گیری کا فروغ بھی ہے۔ پاکستان میں خطرناک جال سے اندھادھند ماہی گیری !2012سے قبل پاکستان کے سمندر میں 28,000 کچھوے اور 12,000 ڈولفن ہرسال ماہی گیری کےمختلف جالوں میں پھنس جاتی تھیں، ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے ٹیکنیکل ایڈوائزر محمد معظم خان نےتھرڈپول سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ پکڑی جانے والیتمام ڈولفن دم گھٹنے سے مرجاتی تھیں۔ معظم خان کا یہ بھی کہنا ہے کہ تقریبا 21,000 کشتیاں پاکستانکے ساحلوں پر ماہی گیری کے لیے استعمال ہوتی جن میں سے 13,00 سندھ اور 8,000 بلوچستان میںکام کرتی ہیں۔ان کشتیوں میں زیادہ تر گل نیٹ( جال کی ایک قسم) استعمال ہوتا ہے حتی کہ بڑے ٹرالرزمیں بھی جو سمندری حیات کے لیے تباہ کن ثابت ہوتا ہے ۔ گل نیٹ سمندر میں کسی طویل دیوار کیطرح نصب کردیا جاتا ہے جو نہ صرف چھوٹی بڑی مچھلیوں کو سمیٹ کر ان کی نسل کشی کا باعثبنتے ہیں بلکہ اس میں دیگر بڑی انواع بھی شکار ہوجاتی ہیں۔ گل نیٹ پاکستانی سمندری وسائل اور ماحولیاتی نظام کے لیے ایک بہت بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ یہ بہتچھوٹے چھوٹے سوراخوں پر مشتمل ہوتا ہے اور اپنی طوالت کے باعث سمندر میں ایک ناقابل تسخیردیوار کی طرح نصب کیا جاتا جس میں عموما مطلوبہ چھوٹی بڑی مچھلیوں کے ساتھ نایاب سمندریانواع بھی شکار ہوجاتی ہیں۔ ہی گیر فروری ۲۰۲۲ میں کراچی میں اپنا جال تیار کرتے ہیں۔ دکھائے جانے والے جال گل نیٹ ہیں، جو جانوروں کو اندھا دھند پکڑتے ہیں، جن میں نابالغ مچھلیاں اور غیر ہدف بائی کیچ انواع شامل ہیں۔ (تصویر: حسن زیدی/الامی) کراچی یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف میرین سائنس سے وابستہ اسسٹنٹ پروفیسر شعیب کیانی کا کہناتھا کہ اقوام متحدہ کے قوانین اورایک بین الاقوامی تنظیم ( پاکستان بھی جس کا رکن ہے)انڈین اوشینٹیونا کمیشن کی مقرر کردہ تعریف کے مطابق گل نیٹ کو ڈھائی کلو میٹر سے زیادہ طویل نہیں ہوناچاہیے لیکن ہمارے ماہی گیروں کے جال 15 اور کہیں کہیں 20 کلومیٹرسے بھی طویل ہوتے ہیں۔ انہوںنے ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے (جس میں 2012 اور 2015 کے درمیان ملک کی گل نیٹ ماہی گیری میں بائی کیچ کا جائزہ لیا گیا تھا) مزید کہا کہ اس حوالے سے ہمیں قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرنا ہوگا- رپورٹ کے مطابق پاکستانی سمندر میں مچھلیوں کی تعداد 40 سے70 فیصد کم ہوچکی ہے۔ اس حوالے سے ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے پاکستان کے ساحلوں پر ایک ‘Crew-based observerprogramme’ کا آغاز کیا۔ جس میں سو سے زیادہ کشتی کے کپتانوں کوخطرے سے دوچار سمندری انواع کو بحفاظت سمندر میں چھوڑنے ،ماہی گیروں کی حوصلہ افزائی کے لیے عوامی پزیرائی اورایورڈ سے نوازا گیا۔انہوں نے مزید بتایا کہ پچھلے گیارہ سالوں میں 113 وہیل شارک ،42 سن فش، 7 ´ڈولفن ، 5 وہیل ،7 شارک ، 96 سمندری چمگادڑیں 96 mobulids (manta and devil rays)) ، 21بڑے گھونگھے اور ہزاروں سمندری کچھوے ماہی گیروں کے جالوں سے سمندر میں باحفاظت چھوڑےگئے۔ :وہیل شارک بچے کو گل نیٹ سے آزاد کیا جارہا ہے ۔(تصویر ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان) ننھے سبز کچھوے کو آزاد کیا جارہا ہے ۔( تصویر: ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان) پائیدار ماہی گیری طریقوں کی عوامی پزیرائی سمندر میں چھوڑنا اور ماہی گیروں میں آگاہی کافروغ اگرچہ اہم اقدامات ہیں لیکن خطرات کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا تھا کہ یہ کافی نہیں ہیں۔ اسیلیے ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے ماہی گیری کی تکنیک میں تبدیلی اور اختراع کا فیصلہ کیا۔لوک دانشاور سائنسی معلومات کو اکھٹا کرکے ہم نے 2015 میں گل نیٹ کو سمندر کی سطح کے 2 میٹرنیچےلگانے پر کام شروع کیا، اسے سب سرفیس گل نیٹ کا نام دیا گیا ۔ اس کے نتائج بہت شان دار نکلے اوروہیل، ڈولفن اور سنگ ماہی کا شکار یا اموات % 98 تک ختم ہوگئیں۔ 2016 سے 2019 کے درمیان ٹیونا مچھلی کا شکار کرنے والی تمام 700 کشتیاں یہی سطح سے نیچےلگانے والا جال استعمال کرنے لگیں۔ یہ جال عمان، ایران کے مچھیرے بھی استعمال کرتے ہیں۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے کمیونٹی ڈیولپمنٹ آفیسر ندیم شیخ کا کہنا ہے کہ ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستاننے2019 میں مزید اختراع کرتے ہوئے لونگ لائن جال متعارف کروایا۔ انہوں نے بتایا کہ کسی لمبےچوڑے جال کے بجائے یہ ایک واحد طویل لائن ہوتی ہے جس کے چاروں جانب 4,000 سے زیادہ ہکلگے ہوتے ہیں جن میں چارا لگایا جاتا ہے۔ روایتی طور پر مچھیرے جولونگ لائن استعمال کیا کرتےتھے جس میں جے ساخت کے ہک ہوتے جن میں دیگر سمندری انواع خصوصاکچھووں کے شکار ہونےکا امکان زیادہ تھا۔ کیونکہ یہ ہک سطح سمندر کے قریب تیر رہے ہوتے تھے۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستاننے ان جے ساخت ہک کے ساتھ دائرہ شکل کے ہک بھی متعار ف کروائے اور ماہی گیروں کوا س پرتیار کیا کہ وہ سطح سمندر سے 70 میٹر نیچے ہک لگائیں۔اس گہرائی میں کچھووں، شارک اور وہیل کاان ہکوں میں پھنسنا تقریبا ناممکن تھا۔ ندیم شیخ کا کہنا ہے کہ ڈبلیو ڈبلیو پاکستان کے اعدادو شمار کے مطابق2018 سے 2022 تک اس نئےطریقہ ءکار یعنی لونگ لائن میں صرف 6 کچھوے پھنسے ہیں جنہیں تربیت یافتہ ماہی گیروں نےبحفاظت سمندر میں چھوڑ دیا۔ جبکہ وہیل، شارک یا ڈولفن شکار ہونے کی کوئی اطلاع نہیں۔ لونگ لائن کے ذریعے شکار کردہ مچھلی جسے مقامی مارکیٹ میں فروخت کردیاجائےگا۔ ( تصویر: ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان) کراچی یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر کیانی کے مطابق لونگ لائن اور سب سرفیس گل نیٹ بلاشبہپائیدار ماہی گیری اور سمندری وسائل کے تحفظ کے لیے بہترین ہیں کیونکہ ان میں نایاب سمندری انواعکا تحفظ ہوتا ہے لیکن یہ کافی نہیں، ماہی گیروں میں شعور و آگہی کے اضافے کے ساتھ حکومت کوبھی قوانین پر عمل درآمد کروانا چاہیے۔ ماہی گیری کے نئے طریقہ ءکار کے پاکستانی مچھیروں پر اثرات پاکستان کی جی ڈی پی میں ماہی گیری کی صنعت کا حصہ% 1 سے بھی کم ہے اوریہ 1.8ملین لوگوںکو روزگار فراہم کرتی ہے۔ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے ندیم شیخ ماہی گیروں کی ہی نہایت پسماندہ برادری سے تعلق رکھتے ہیں ،ان کا کہنا ہے کہ غربت اور بنیادی سہولیات تک عدم رسائی اب بھی عام بات ہیں۔ ان کا کہنا ہے ماہیگیروں کی آمدنی میں خاطر خواہ اضافے کے لیے ماہی گیری میں لونگ لائن گیئر کا استعمال ایک خوشآئند بات ہے۔ محمد علی ابراہیم حیدری کے ان تین خوش نصیب ماہی گیروں میں سے ایک ہیں جن کا انتخاب ڈبلیوڈبلیو ایف پاکستان نے اپنے پروجیکٹ Sustainable Fisheries Entrepreneurship Project کےلیے کیا تھا، اس منصوبے کے تحت تین کشتیوں پر لونگ لائن نصب کی گئی تھی۔ محمد علی نے تھرڈپول کو بتایا کہ لونگ لائن کے استعمال نے ان کی زندگی بدل دی ہے۔ اب اس کی آمدنی پہلے کے مقابلےمیں تین گنا زیادہ ہے۔ وہ پہلے سالانہ 600,000 پاکستانی روپے ( 2,300 امریکی ڈالرز) کماتے تھےلیکن اب وہ ایک سال میں 2,000,000 یعنی 7,600 ڈالرز تک کما لیتے ہیں۔لونگ لائن ساحلوں کےبجائے گہرے سمندر میں استعمال کیا جاتا ہے جہاں بڑے سائز کی مچھلی آسانی سے مل جاتی ہے جسکی فروخت سے اچھے پیسے ملتے ہیں۔ لونگ لائن ماہی گیری اور مچھلیوں کا ذخیرہ زیادہ موثر اور کامیاب ماہی گیری کے نت نئے طریقہ ءکاراپنانے سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا اس سےمچھلیوں کے وسائل پر دباﺅ بڑھے گا اور ان کی آبادی کم تو نہیں ہوگی ۔ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے ندیم شیخ کا کہنا ہے کہ لونگ لائن کے ذریعے عموما مچھلیوں کی جن اقسامکا شکار کیا جاتا ہے ان میں سے کچھ آئی یو سی این کی ریڈ لسٹ میں شامل ہیں کہ ان کی آبادی کمہورہی ہے مگر یہ سب” کم خطرے“ والے رینک میں شامل ہیں۔ ندیم نے مزید کہا کہ لونگ لائن مچھلیوں کی آبادی یا نسل پر دباﺅ کم ڈالتا ہے اور اس لحاظ سے موثرترین ہے کہ بڑے سائز کی کم مچھلیاں پکڑنا زیادہ بہترہے بہ نسبت چھوٹے سائز کی بے تحاشہ مچھلیوںکا شکار کیا جائے جیسا کہ گل نیٹ میں ہوتا ہے۔ ندیم شیخ نے مزید بتایا کہ ایک کشتی پر لونگ لائن آلات نصب کرنے پر تقریبا 900,000 پاکستانیروپے یعنی 3,400 امریکی ڈالرز لاگت آتی ہے۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف اس لاگت کا نصف حصہ فراہم کرتا ہے۔حال ہی میں مزید15کشتیوں کو لونگ لائن گیئر لگایا گیا ہے۔ اس طریقہ ءکار کی کامیابی دیکھتے ہوئےدسیوں ماہی گیروں نے اپنے طور پر کشتیوں میں لونگ لائن گیئر نصب کیا ہے اور کراچی کی ابراہیمحیدری اور ریڑھی گوٹھ میں65 کشتیاں لونگ لائن کے ذریعے ماہی گیری کررہی ہیں۔ جس سے تقریبا 980 ماہی گیروں کی زندگیاں بدل رہی ہیں جو دیگر مچھیروں کی نسبت تین گنا زیادہ آمدنی حاصلکررہے ہیں۔ Recommended اب تک ماہی گیر صنعت کا صرف %4 ہی حصہ ایسا ہے جنہوں نے موثر اور پائیدار ماہی گیری کےطریقہ ءکار کو اپنایا ہے۔ ندیم کا کہنا ہے کہ اور یہ تقریبا ناممکن ہے کہ کشتیوں کے مکمل بیڑے کولونگ لائن یا سب سرفیس گل نیٹ پر تبدیل کیا جائے کیونکہ کشتیوں کا ساخت، ان پر نصب آلات اور یہکہ وہ کون سی مچھلی پکڑ رہی ہیں ، کون سے پانی میں ماہی گیری کررہی ہیں یہ سب مختلف ہوتا ہے۔” لیکن ہم کوشش کررہے ہیں اور اس مقصد کے لیے حکومت کے متعلقہ ڈپارٹمنٹ کے ساتھ کم کررہےہیں اور ساتھ ہی ماہی گیروں میں سمندری وسائل کی حفاظت کے لیے ان میں احساس اورآگہی اور شعورمیں اضافے کے لیے کام کررہے ہیں۔ روایتی ماہی گیری کے آلات میں تبدیلی یا اختراع کے لیے وسائلدرکار ہوتے ہیں جس کے لیے ہم تجارتی شعبے کو ماحولیاتی تحفظ کی سرگرمیوں میں شامل کررہےہیں۔”سمندری حیات کے حوالے سے سائنس داں کیانی پرامید ہیں کہ ” ماہی گیروں کے لیے مناسب ماہیگیری کے سامان، تعلیم اور صلاحیت سازی کے پروگراموں کی فراہمی کے ساتھ ہم سمندری انواع کیکم ہوتی آبادی کو بھی بحال کرسکتے ہیں۔ جن میں سے کچھ معدوم یت کے دہانے پر ہیں۔ پڑھنا جاری رکھیے راۓ آفات رائے: سیلاب کے بعد پاکستان میں گرین ریکوری کیسے ممکن بنائی جاۓ؟ مضمون غذائی تحفظ پاکستان میں جن کسانوں کی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے انہیں معاوضہ نہ ملنے کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا ہے تصویری کہانی ماہی پروری Crackdowns and ecological collapse drive fishers from Tonle Sap Lake تصویری کہانی ماہی پروری Low Mekong waters make life hard around Cambodia’s smaller lakes مضمون جنس ایشیاء میں موسمی تبدیلی سے متعلق تین پروجیکٹس میں صنف کو مرکزی اہمیت دی گئی ہے مضمون فضائی آلودگی سرحدوں سے منقسم ،لاہور اور دہلی میں ا سموگ کی صورتحال ایک جیسی ہے مضمون جنگلات کی کٹائی سیلاب کے بعد جلانے کی لکڑی کی طلب پاکستان کے جنگلات پر دباؤ بڑھا رہی ہے مضمون زمین کے حقوق لاہور کا نیا شہری منصوبہ قانونی مشکلات اور سیلاب کے خدشات سے گھرا ہوا ہے