جب شمال مغربی پاکستان کے ضلع بونیر میں سیلاب کا آلودہ پانی خالد (فرضی نام) کے گھر میں داخل ہوا تو وہ اوران کی اہلیہ اپنے تین بچوں کو اونچے محفوظ مقام پر لے جانے کی کوشش کررہے تھے۔ اس افراتفری کے بیچ ایک اور چیز جسے بچانا دونوں میاں بیوی کے لئے انتہائی ضروری تھا ، وہ تھیں جان بچانے والی ایچ آئی وی (HIV ) ادویات۔
انہوں نے گھر کے دیگر تمام قیمتی اشیاء کو نظرانداز کیا اور گردن تک گہرے پانی میں گرتے پڑتے اینٹی ریٹرو وائرل (Antiretroviral) ادویات کو سیلاب میں بہنے سے بچایا۔
ان دنوں کو یاد کرتے ہوۓ خالد کہتے ہیں، “سیلابی پانی اترنے کے بعد کمر تک جمی ہوئی کیچڑ کی وجہ سے ہمارا گاؤں آٹھ دن سے زیادہ عرصے تک باقی علاقوں سے کٹ کر رہ گیا تھا۔ خوش قسمتی سے میں اور میری بیوی کے پاس ایچ آئی وی کی دوائیں محفوظ تھیں۔” خالد دیہاڑی دار مزدور ہیں اور پانچ برس قبل بیرونِ ملک ملازمت کے دوران ایچ آئی وی کا شکار ہوئے تھے۔
یہ واقعہ گزشتہ سال اگست 2025 کے مون سون کے دوران پیش آیا، جب پاکستان میں موسلا دھار بارشوں نے بڑے پیمانے پر سیلاب برپا کر دیے۔ خیبر پختونخوا کے ضلع بونیراور پنجاب کے کئی علاقے شدید دریائی سیلاب سے متاثر ہوئے۔
ان سیلابوں میں ایک ہزار سے زائد جانیں ضائع ہوئیں، جن میں سے 808 اموات صرف ان دو صوبوں میں رپورٹ ہوئیں۔ تقریباً 30 لاکھ افراد بے گھر ہوئے جبکہ دو لاکھ تیس ہزار کے قریب مکانات کو نقصان پہنچا۔
ایچ آئی وی اور ایڈز سے متاثرہ افراد کے لئے ان کی بیماری ایک اضافی خطرہ تھی۔
سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی) کے شعبۂ متعدی امراض کی سربراہ ڈاکٹر عاصمہ نسیم نے ڈائیلاگ ارتھ کو بتایا کہ گزشتہ سال کے سیلاب کے دوران بہت سے ایچ آئی وی متاثرین کی صحت اس لئے بگڑ گئی کیونکہ اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی سینٹرز تک ان کی رسائی منقطع ہوگی تھی اورانہیں دوائیں نہیں مل سکیں۔
پاکستان میں، ایچ آئی وی/ایڈز کا اینٹی ریٹرو وائرل علاج مخصوص مراکز پر مفت فراہم کیا جاتا ہے۔ اس طرح کی تھراپی ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد میں “وائرس کو دبا کر اور مدافعتی افعال کو محفوظ رکھ کر صحت مند زندگی گزارنے کے قابل بناتی ہے،” ایسوسی ایشن آف پیپل لیونگ ود ایچ آئی وی پاکستان کے قومی رابطہ کار، اصغر الیاس ستی بتاتے ہیں۔
اس سال، جیسے جیسے مون سون قریب آرہا ہے، پاکستان ہائی الرٹ پر ہے، اور شہریوں کو شدید بارشوں، شہری علاقوں میں سیلاب اور موسم سے متعلق مزید خطرات سے خبردار کیا گیا ہے۔
یکم جولائی کو، ملک کی نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے خیبر پختونخوا کی سرحد سے متصل گلگت بلتستان کی دو وادیوں میں گلیشیائی جھیل کے سیلاب کا الرٹ جاری کیا۔ میڈیا آؤٹ لیٹ ڈان نے رپورٹ کیا کہ دریا کے پانی کی بڑھتی ہوئی سطح نے خطے کے کئی حصوں میں سڑکوں اور پلوں کو نقصان پہنچایا۔ دی نیشن کے مطابق، اس کے فوراً بعد، پاکستان میں موسلا دھار بارشیں ہوئیں، جس نے ملک بھر میں کم از کم 14 افراد کی جان لے لی۔
یہ انتباہات اور باربار آنے والے سیلاب کے تناظر میں پاکستان میں ایچ آئی وی کے واقعات میں ڈرامائی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
خیبر پختونخوا کے ضلع سوات سے تعلق رکھنے والے اور ایچ آئی وی سے متاثر استاد وحید (فرضی نام)، گزشتہ سال کے تجربے کے باعث اس سال مون سون کے ممکنہ اثرات سے پریشان ہیں۔
سیلاب کے دوران اپنی بزرگ والدہ، اہلیہ اور تین بچوں کو محفوظ مقام پر پہنچانے کے بعد انہیں دوبارہ گھر جانا پڑا، مگر وہ کسی کو اس کی وجہ بتانے سے قاصر تھے۔ وحید ڈائیلاگ ارتھ کو بتاتے ہیں، “اس بیماری سے جڑی بدنامی کی وجہ سے، میں نے اپنی بیماری کو ہر کسی سے، حتیٰ کہ اپنے شریک حیات سے بھی خفیہ رکھا ہوا ہے۔” وہ اس دن کو یاد کرتے ہوۓ مزید بتاتے ہیں،”میرے پاس صرف نو گولیاں باقی تھیں اور مجھے فکر تھی کہ اینٹی ریٹرو وائرل سنٹر تک رسائی ختم ہونے کی وجہ سے علاج میں بھی تعطل آۓ گا”۔
بالآخر وہ دوبارہ اپنے زیرِآب گھر پہنچنے میں کامیاب ہوگئے اور وہاں چھپائی گئی اینٹی ریٹرو وائرل ادویات نکال لائے۔
“علاج میں تعطل کے صحت پر سنگین نتائج لاحق ہوسکتے ہیں جن میں وائرس کا دوبارہ فعال ہونا، مدافعتی نظام کا کمزور ہونا اور ایڈز میں تبدیل ہوجانا شامل ہے،” اصغر الیاس ستی نے ڈائیلاگ ارتھ کو بتایا۔
وہ مزید کہتے ہیں، “ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد پہلے ہی سماجی بدنامی اور کمزور نظامِ صحت جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔ موسمیاتی آفات نہ صرف ان کے گھروں اور روزگار کو متاثر کرتی ہیں بلکہ انہیں زندگی بچانے والی ادویات تک رسائی سے بھی محروم کرتی ہیں، اور علاج میں اس طرح کی رکاوٹ جان لیوا نتائج کا سبب بن سکتی ہے۔”
سیلاب کے دوران ایچ آئی وی کے کیسز میں اضافہ
دسمبر 2025 میں ورلڈ ایڈز ڈے کے موقع پر ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ پاکستان میں گزشتہ 15 برس کے دوران ایچ آئی وی کے نئے کیسز میں 200 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ 2010 میں نئے کیسز کی تعداد 16 ہزار تھی، جو 2024 میں بڑھ کر 48 ہزار تک پہنچ گئی۔ اخبارڈان کے مطابق، کراچی کے اسپتالوں نے گزشتہ نو ماہ کے دوران بچوں میں ایچ آئی وی کے کیسز میں “غیر معمولی اضافہ” رپورٹ کیا ہے۔
ڈاکٹرعاصمہ نسیم کہتی ہیں، “گزشتہ تین ماہ کے دوران میں نے ایچ آئی وی سے متاثرہ جتنے بچے دیکھے ہیں، اتنے شاید پچھلے دس برس میں بھی نہیں دیکھے تھے۔ یہاں ٹیسٹ کروانے والوں کی تعداد ہی نہیں بڑھی، بلکہ وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔”
اخبار ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے انڈس اسپتال میں انفیکشن کنٹرول سروسز کی سربراہ اور متعدی امراض کی ماہر ڈاکٹر ثمرین سرفراز نے بتایا کہ ان کیسز میں اضافے کی بنیادی وجہ غیر محفوظ میڈیکل پریکٹس معلوم ہوۓ ہیں۔
اپریل میں بی بی سی نے ایک رپورٹ شائع کی، جس میں بتایا گیا کہ پنجاب کے شہر تونسہ میں نومبر 2024 سے اکتوبر 2025 کے درمیان 331 بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی۔ ان کی خفیہ تحقیق سے پتا چلا کہ شہر میں اس وباء کے پھیلاؤ کی وجہ ایک ہسپتال ہے جہاں بچوں استعمال شدہ سرنجوں کے ذریعے انجیکشن لگائے جا رہے تھے۔
وحید کا ماننا ہے کہ اپنے دانتوں کے علاج کے دوران آلودہ آلات کے استعمال کے باعث اس مرض سے متاثر ہوۓ۔
سال 2019 میں لاڑکانہ میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کے بعد آٹو ڈس ایبل سرنجیں متعارف کرائی گئیں، جو ایک بار استعمال کے بعد خودکار طور پر لاک ہو جاتی ہیں یا ان کا پلنجر ٹوٹ جاتا ہے۔ تاہم، ڈاکٹر نسیم کے مطابق حالیہ عرصے میں بعض علاقوں سے ایسی سرنجوں کے جعلی یا غیرمعیاری ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ وہ کہتی ہیں، “پاکستان میں یہ وائرس اب وبائی صورتِ حال اختیار کر چکا ہے۔”
یہ پریشان کن تفصیلات ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب ایک بار پھر مون سون کا موسم قریب ہے اور خطرناک سیلابوں کا خدشہ بھی بڑھ رہا ہے۔ گزشتہ نومبر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے چیئرمین، انعام حیدر ملک، نے خبردار کیا تھا کہ 2026 کے مون سون کے دوران گزشتہ سال کے مقابلے میں 22 سے 26 فیصد زیادہ بارشیں ہو سکتی ہیں۔
اسی موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے سیلاب سے نمٹنے کی تیاری کے لئے پانچ سالہ منصوبے کی توثیق کی۔ یہ پیش رفت ایک ایسے ملک کے لئے اہم ہے جہاں آج تک سیلابی امداد کے لئے کوئی فنڈ قانونی طور پر قائم نہیں کیا جا سکا، ماہرِ موسمیات اور آبی امور علی توقیر شیخ نے حال ہی میں ڈان میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں اس بات کا ذکر کیا ہے۔
مئی میں شہباز شریف نے حکام کو مون سون کی تیاریوں کو بہتر اور مربوط بنانے کا حکم دیا۔ انہوں نے سرکاری ہسپتالوں میں ہیپاٹائٹس اور ایچ آئی وی کے تمام مریضوں کی جامع اسکریننگ کو یقینی بنانے کی ہدایت بھی جاری کی۔
سال 2022 کے تباہ کن سیلابوں کی یادیں اب بھی بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں تازہ ہیں، جب پاکستان کو 10 بلین امریکی ڈالر کا نقصان پہنچا جبکہ 33 ملین سے زائد لوگ متاثر ہوئے۔ سندھ میں سیلاب کی وجہ سے ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کے لئے ٹریٹمنٹ سینٹرز تک پہنچنا ناممکن ہوگیا۔ “2022 کے تباہ کن سیلاب نے ایچ آئی وی کے مریضوں کی ایک بڑی تعداد سے ہمارا رابطہ منقطع کر دیا،” صوبے کی ایسوسی ایشن آف پیپل لیونگ ود ایچ آئی وی پاکستان (اے پی ایل ایچ آئی وی) کی سربراہ، روبینہ کہتی ہیں۔
پلوشہ (فرضی نام)، جو خود بھی ایچ آئی وی سے متاثرہ ہیں، پشاور میں رضاکارانہ طور پر مریضوں کے گھروں تک ادویات پہنچاتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ موسمیاتی آفات کے باعث مواصلاتی نظام متاثر ہونے پر مریضوں سے رابطہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں علاج میں تاخیر بڑھ جاتی ہے۔ وہ مزید بتاتی ہیں کہ بہت سے مریض، اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی مراکز جانے کے بجائے ادویات گھر پرمنگوانے کو ترجیح دیتے ہیں تاکہ کسی کی نظر میں نہ آئیں۔
روبینہ، جو صرف اپنے پہلے نام سے جانی جاتی ہیں، ڈائیلاگ ارتھ کو بتاتی ہیں کہ چھ ماہ کی مسلسل کوششوں سے فالو اپ سے محروم مریضوں (Lost To Follow Up – LTFU) کا سراغ لگانے کے بعد، بہت سے ایسے مریض جو علاج چھوڑ چکے تھے ٹریٹمنٹ کے نیٹ ورک میں واپس آگئے۔ یہ وہ افراد تھے جنہوں نے ذہنی صدمے، مالی نقصانات، یا اپنے گھروں اور روزگار کے ضائع ہونے کے باعث طے شدہ معائنے اور علاج کے لئے آنا چھوڑ دیا تھا۔
روبینہ کہتی ہیں، “علاج کا سلسلہ چھوڑ دینے والے مریضوں (ایل ٹی ایف یو) کے اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ ایچ آئی وی سے متاثرہ متعدد افراد مکمل طور پر لاپتا ہو گئے تھے اور خدشہ تھا کہ وہ یا تو سیلاب میں ڈوب کر جاں بحق ہو چکے ہیں یا علاج میں تعطل کے باعث ان کی موت واقع ہو گئی ہے۔ سندھ کے اندرونی علاقوں کا وسیع حصہ کئی ماہ تک سیلابی پانی میں ڈوبا رہا اور بڑے شہروں سے اس کا زمینی رابطہ منقطع رہا، جس کے باعث مریضوں کی ٹریٹمنٹ سینٹرز تک رسائی شدید متاثر ہوئی۔”
مئی 2026 تک پاکستان کی وزارتِ صحت کے مطابق، ایچ آئی وی/ایڈز کے لئے اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی مراکز سے علاج کروانے والے تقریباً 20 ہزار مریض لاپتا قرار دیے گۓ تھے۔ اسٹینڈنگ کمیٹی آن نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن نے اپنی ایک پریس ریلیز میں کہا کہ اس صورتِ حال نے مریضوں کے مسلسل فالو اپ، مشاورت اور علاج سے وابستگی برقرار رکھنے کے نظام پر سنگین سوالات اٹھاۓ ہیں۔
مدد کون کر سکتا ہے؟
اصغر الیاس ستی کے مطابق، اگست 2025 کے سیلاب کے دوران ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کو درپیش خطرات کے پیشِ نظر، ایسوسی ایشن آف پیپل لیونگ وِد ایچ آئی وی، پاکستان (اے پی ایل ایچ آئی وی) نے ایک ایمرجنسی ریسپانس سیل قائم کیا تاکہ خیبر پختونخوا کے اضلاع بونیر، سوات اور مانسہرہ میں متاثرہ افراد کا علاج بلا تعطل جاری رکھا جا سکے۔ اے پی ایل ایچ آئی وی نے ایچ آئی وی سے متاثرہ 25 ہزار افراد پر مشتمل اپنی قومی رجسٹری کی مدد سے سیلاب سے متاثرہ ان علاقوں میں رہنے والے تقریباً ایک ہزار افراد کی نشاندہی کی، جن میں سے سو سے زائد افراد موسمیاتی آفات سے براہِ راست متاثر ہوئے تھے۔ اصغرالیاس ستی نے مزید بتایا کہ ٹریٹمنٹ سینٹرز، کیس مینیجرز اور صوبائی و قومی پروگراموں کے ساتھ فوری رابطہ اور باہمی ہم آہنگی کے ذریعے سیلاب سے متاثرہ افراد تک ادویات کی فوری فراہمی یقینی بنائی گئی۔
سال 2015 سے لاہور میں خواجہ سرا سوسائٹی این جی او سے وابستہ، ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کے ساتھ کام کرنے والی سماجی کارکن صبو ملک کہتی ہیں کہ اگرچہ حکومت علاج کی سہولت فراہم کرتی ہے، لیکن رضاکارانہ، رازدارانہ مشاورت اور ایچ آئی وی کی تشخیص جیسے اہم فالو اَپ اقدامات کمیونٹی پر مبنی تنظیمیں انجام دیتی ہیں۔
بدقسمتی سے، موسم کے غیر متوقع بدلتے رجحانات، شدید گرمی اور گزشتہ سال آنے والے سیلاب نے، خصوصاً دیہی علاقوں میں، ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی ادویات تک رسائی کو بری طرح متاثر کیا ہے
وہ ڈائیلاگ ارتھ کو بتاتی ہیں، “آفات کے دوران ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کے لئے کوئی خصوصی پروگرام موجود نہیں۔ گزشتہ سال سیلاب کے دوران شہروں یا ان کے نواحی علاقوں میں رہنے والے افراد کو غذائی پیکجز اور علاج کی سہولت تو فراہم کی گئی، لیکن ہمیں نہیں علم کہ دیہی علاقوں میں رہنے والے افراد کو بھی یہی سہولیات میسر آئیں یا نہیں۔” وہ مزید کہتی ہیں، “موسمیاتی آفات کے دوران فراہم کی جانے والی عمومی امداد، جیسے طبی کیمپ اور راشن، ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی مخصوص ضروریات کو مدنظر رکھ کر نہیں دی جاتی۔ سیلابی امدادی کیمپوں میں عموماً مریض کی زبانی طبی معلومات لی جاتی ہیں اور صرف بنیادی معائنے، مثلاً شوگر اور بلڈ پریشر، کئے جاتے ہیں، لیکن ایچ آئی وی کی تشخیص کے لئے کوئی مخصوص خون کا ٹیسٹ نہیں کیا جاتا۔”
صبوملک کا کہنا ہے کہ ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کے لئے رازداری برقرار رکھنا بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ وہ کہتی ہیں، “سماجی بدنامی کے باعث وہ عموماً کسی کو اپنی بیماری کے بارے میں بتانا نہیں چاہتے۔ اور عام آبادی میں عموماً ایچ آئی وی کا ٹیسٹ کروانے کا رجحان بھی بہت کم ہے۔”
وہ کہتی ہیں، “تشخیص اہم ہے، لیکن علاج، باقاعده فالو اپ اور مشاورت بھی اتنی ہی ضروری ہیں۔ ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کا مدافعتی نظام پہلے ہی کمزور ہوتا ہے۔ ادویات کے ذریعے جسم میں وائرس کی مقدار کو کم کرنا اور مناسب غذا کے ذریعے قوتِ مدافعت کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو شدید موسمی حالات ان کی صحت پر ایک عام فرد کی نسبت کہیں زیادہ منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔”
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) میں میڈیا کی ڈپٹی ڈائریکٹر سارہ ملک نے ڈائیلاگ ارتھ کو بتایا کہ ادارہ “وقت کے ساتھ ساتھ” ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی ضروریات کو بھی اپنی حکمتِ عملی میں شامل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ اس وقت ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کے لئے کوئی مخصوص پالیسی موجود نہیں، تاہم این ڈی ایم اے ہیلتھ سیکٹر میں کام کرنے والی این جی اوز کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے، اس لئے بالواسطہ طور پر یہ افراد بھی ان اقدامات سے مستفید ہوتے ہوں گے۔
سارہ ملک کے مطابق، “این ڈی ایم اے آفات کے بعد امدادی کارروائیوں کے دوران کمزور اور خطرے سے دوچار آبادیوں کی معاونت کو یقینی بناتا ہے، اور اب اپنی امدادی سرگرمیوں کا دائرہ مزید وسیع کر رہا ہے تاکہ ہنگامی حالات میں زیادہ سے زیادہ ضرورت مند افراد تک پہنچا جا سکے۔”
دیگر بیماریوں کا خطرہ
ماحولیاتی اور سماجی کارکن ذوالفقارعلی بھٹو جونیئر، جو ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کے حقوق کے لئے بھی سرگرم ہیں، کہتے ہیں کہ اگر ادویات بروقت دستیاب ہوں تو ایچ آئی وی کے ساتھ صحت مند زندگی گزارنا ممکن ہے۔
وہ ڈائیلاگ ارتھ کو بتاتے ہیں، “دنیا کے بہت سے ممالک میں اپنی حفاظت کی ذمہ داری خود لوگوں پرعائد ہوتی ہے، لیکن پاکستان میں یہ اب حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ طبی بدعملی کے باعث مزید جانوں کے ضیاع کو روکے۔ خوش قسمتی سے پاکستان میں اینٹی ریٹرو وائرل ادویات مفت دستیاب ہیں۔ یہ ایک مؤثر نظام ہے، ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ اسے مکمّل طور پر استعمال کیا جائے۔”
بدقسمتی سے، موسم کے غیر متوقع بدلتے رجحانات، شدید گرمی اور گزشتہ سال آنے والے سیلاب نے، خصوصاً دیہی علاقوں میں، ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی ادویات تک رسائی کو بری طرح متاثر کیا ہے
اصغر الیاس ستی کے مطابق، اگر اس سال بھی سیلاب آتے ہیں تو اے پی ایل ایچ آئی وی اپنے ایمرجنسی رسپانس سیل کا دائرہ کار پنجاب اور سندھ تک بڑھاۓ گا۔
گزشتہ سال کے سیلاب سے شدید متاثر ہونے والے صوبہ پنجاب کی حکومت نے بھی رواں سال سیلاب سے نمٹنے کی تیاریوں کے لئے مختلف اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ ڈائیلاگ ارتھ نے صوبائی حکومت کے پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام سے متعدد بار رابطہ کرنے کی کوشش کی، تاہم کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
اصغر الیاس ستی کا کہنا ہے کہ اے پی ایل ایچ آئی وی کا عملہ بدستور الرٹ ہے اور کسی بھی ممکنہ آفت کی صورت میں ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد تک فوری امداد پہنچانے اور ضروری اقدامات کرنے کے لئے مکمل طور پر تیار ہے۔
دوسری جانب، ورلڈ بینک، یونیسکو اور یواین ڈویلپمنٹ پروگرام (یو این ڈی پی) جیسے بین الاقوامی اداروں نے ترقی یافتہ ممالک کے تعاون سے پاکستان میں آفات سے نمٹنے کی تیاریوں اور قبل از وقت انتباہی نظام کو مضبوط بنانے کے لئے تعاون کا وعدہ کیا ہے۔ تاہم ماہرین اب بھی اس بارے میں شکوک رکھتے ہیں کہ آیا یہ امداد واقعی متاثرہ کمیونٹیز تک پہنچ پائے گی۔
جب ڈاکٹر نسیم سے ان مریضوں کے بارے میں پوچھا گیا جن میں بیماری ایڈز کی صورت اختیار کر گئی، تو انہوں نے کہا کہ کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد شدید موسمی حالات سے کہیں زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
وہ کہتی ہیں، “سیلاب کے بعد متاثرہ علاقوں میں مچھروں کی افزائش بڑھ جاتی ہے، جس سے ملیریا اور ڈینگی کے کیسز میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ سیلاب کے بعد پانی بھی اکثر آلودہ ہو جاتا ہے۔ ایسے حالات میں ایڈز کے مریض آخر کیسے زندہ رہ سکتے ہیں؟”
