رائے: پاکستان کی درخواست پر انڈس واٹر ٹریٹی پر ثالثی کا آغاز؛ بھارت اس پر سوال اٹھارہا ہے بھارت نے پاکستان کو بتایا ہے کہ وہ انڈس واٹر ٹریٹی میں ترمیم کرنا چاہتا ہے۔ یہ وہ معاہدہ ہے جو دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ دریا کے استعمال کو متفقہ اصولوں کے تحت کنٹرول کرتا ہے۔جس کی وجہ سے برسوں سے جاری تنازعے میں اضافہ ہوا ہے اردو اردو हिन्दी English Share this article × Copy link to page Copy link to page × اس مضمون کو دوبارہ شائع کریں ہم آپ کو کری ایٹو کامنز لائسنس کے تحت ، دی تھرڈ پول کے مضامین آن لائن یا پرنٹ میں دوبارہ شائع کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ براہ کرم شروع کرنے کے لئے ہماری دوبارہ اشاعت کے رہنما خطوط پڑھیں۔ نیلم جہلم منصوبہ پاکستان کا ایک طویل مدتی عزم رہا ہے۔ (تصویر: رانا ساجد حسین/ پیسیفک پریس براستہ الامی) عمیر جنوری 30, 2023February 14, 2023 بھارت نے پاکستان کو آگاہ کیا ہے کہ وہ سندھ طاس معاہدے میں ترمیم کرنا چاہتا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان 1960میں اس معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے، جس میں عالمی بینک بطور ضامن شامل ہوا تھا تاکہ یہ دونوں ممالکاپنےمشترکہ دریاؤں کے استعمال کو متفقہ اصولوں کے تحت کنٹرول کرسکیں۔ جیسا کہ دی وائر نے رپورٹ کیا ہے،بھارت کی طرف سے پاکستان سے مطالبہ ہے کہ وہ 90 دنوں کے اندر بین الحکومتی مذاکرات شروع کرے تاکہ سندھطاس معاہدے کی سنگین خلاف ورزی (معاہدے کے مقصد یا مقصد کی تکمیل کے لیے ضروری شق کی خلاف ورزی) کو درست کیا جا سکے۔ یہ عمل پچھلے 62 سالوں میں سیکھے گئے اسباق کو شامل کر کے سندھ طاسمعاہدے میں ضروری اصلاحات کا باعث بھی بنےگا۔ 1988سے بھارت اور پاکستان اس معاہدے کے حوالے سے کئی بحثوں میں الجھ چکے ہیں اور اب یہ اسی پرانے تناؤکی نئی شروعات ہے۔ یہ اختلاف اس وقت شروع ہوا جب بھارت نے دریائے جہلم کی معاون ندی (دریا کا معاون یاجھیل میں گرنے والا دھارا) پر کشن گنگا ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی منصوبہ بندی شروع کی۔ جہلم دریائے سندھ کی انتین مغربی معاون ندیوں میں سے ایک ہے جس کا پانی معاہدے کے تحت پاکستان کے استعمال کے لئے سمجھا جاتاہے۔ بھارت کو منصوبے بنانے کی اجازت ہے لیکن ان دریاؤں پر پانی کے بہاؤ کو محدود کرنے کی نہیں، جبکہ وہسندھ کی تین مشرقی معاون ندیوں کے ساتھ جیسا چاہے کر سکتا ہے۔ سندھ طاس معاہدےکے تحت، بھارت کو مغربیمعاون ندیوں پر بننے والے کسی بھی منصوبے کے ڈیزائن کے بارے میں پاکستان کو پیشگی مطلع کرنا ہوتا ہے، اگروہ منصوبے پاکستان میں پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ کا باعث بن رہے ہوں۔ انڈس واٹرس ٹریٹی کیا ہے؟ پاکستان اور بھارت نے1960 میں اپنے مشترکہ دریاؤں کے استعمال کو منظم کرنے کے لیے ایک معاہدے پر دستخطکیے تھے۔ دریائے سندھ کے نظام پر 62 سالہ پرانا معاہدہ بھارت کو تین “مشرقی” دریاؤں (بیاس، راوی اور ستلج) اور پاکستا نکو تین “مغربی” دریاؤں (سندھ، چناب اور جہلم) کا کنٹرول دیتا ہے۔بھارت کو مغربی دریاؤں کا پانی گھریلو مقاصد، آبپاشی اور پن بجلی کے منصوبوں کے لئے استعمال کرنے کی اجازتہے جب تک کہ وہ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش کو بڑھانے کے لئےایسے اقدامات نہیں کرتا جو کہ پاکستان میں پانیکے بہاؤ کو محدود کر دیں۔ پاکستان نے کشن گنگا پراجیکٹ پر اعتراض کیا کیونکہ اس منصوبے کے ڈیزائن میں جہلم کی ایک معاون ندی سےدوسری معاون ندی میں پانی کا رخ موڑنے کا خیال اپنایا گیا تھا۔ دریں اثنا، پاکستانی حکومت کا دریائے نیلم (کشن گنگاکو پاکستان میں نیلم کہا جاتا ہے) پر ایک ہائیڈرو الیکٹرک پاور پلانٹ بنانے کا اپنا منصوبہ تھا جسے نیلم جہلمپروجیکٹ کہتے ہیں۔ اگرچہ330 میگاواٹ کے کشن گنگا پراجیکٹ کےدریائے نیلم پر بننےسے پاکستان میں پانی کےمجموعی بہاؤ میں کمی نہیں اۤئے گی لیکن بھارت کایہ منصوبہ نیلم جہلم پراجیکٹ کے لئے پانی کے بہاؤ کو محدود کردے گا۔ بھارت کی جانب سے کشن گنگا پراجیکٹ پر سروے شروع کرنے کے ایک سال بعد پاکستان نے 1989 میں اپنےمنصوبے کے ڈیزائن کی منظوری دی تھی جبکہ اسکی تعمیر 2007 میں شروع ہوئی اور نیلم جہلم پراجیکٹ 2018میں مکمل ہوا۔ بھارت کی جانب سے سرنگوں پر کام 2004 میں شروع ہوا جب کہ ڈیم کی تعمیر 2007 میں شروعہوئی تھی۔ بھارت نے ثالثی عدالت (ایسی عدالت جس میں فریقین یعنی دو ممالک کے درمیان جھگڑے کافیصلہ کیا جاتا ہے) کو بلانے کے لئے پاکستان کے مطالبے پر رضامندی ظاہر کی۔ سال 2010 میں پہلی اور اۤخریبار اس طرح کی عدالت کا انعقاد کیا گیا اور بھارت کی جانب سے 2010 میں کام روک دیا گیا تھا۔ بھارت نے پھر کامدوبارہ شروع کیا جب ثالثی عدالت نے 2013 میں اس کے حق میں فیصلہ دیا۔ اس معاملے میں پاکستان کا موقف یہ تھا کہ نیلم جہلم پراجیکٹ پر کام نہیں ہو سکے گا کیونکہ بھارت اپنے منصوبوںکے لئے پانی کو دریا سے دور کرے گا اور پھر اسے نیلم جہلم پراجیکٹ کی سائٹ کے نیچے چھوڑے گا۔ بھارت نےجواب دیا کہ وہ سندھ طاس معاہدے کی شرائط پر قائم ہے کیونکہ وہ پاکستان کا پانی روک نہیں رہا تھا، اور یہ کہ اسکے منصوبے نیلم جہلم پراجیکٹ سے پہلے کے تھے۔ اپنے 2013 کے فیصلے میں ثالثی عدالت نے حقائق کو بڑی حد تک پاکستان کے اعتراضات کے خلاف پایا لیکنبھارت سے کہا کہ وہ اپنے ڈیموں کے ڈیزائن میں کچھ ترمیم کرے۔ انڈس واٹرس ٹریٹی (سندھ طاس معاہدے) کے تنازعات کے حل کا طریقہء کار جب 1960 میں سندھ طاس معاہدے پر دستخط ہوئے تو ایک انڈس ریور کمیشن قائم کیا گیا، جس میں بھارت اورپاکستان کے کمشنرز شامل تھے۔ ان حالات میں جب بھارت اور پاکستان متفق نہ ہوں اور مسئلے کا حل کمشنرز سے نہنکل سکے تومعاہدے میں تنازعات کے حل کے دو طریقہ کار ہیں: ایک غیر جانبدار ماہر کی تقرری اور دوسرا ثالثیعدالت۔ جیسا کہ ورلڈ بینک وضاحت کرتا ہے ، “سوالات” کمیشن کے ذریعے نمٹائے جاتے ہیں۔ “اختلافات” کو ایکغیر جانبدار ماہر کے ذریعے حل کرنا ہے۔ اور “تنازعات” کو ثالثی عدالت (سات رکنی ثالثی سے متعلق عدالت )کوبھیجا جائے گا۔ جب 1960 میں سندھ طاس معاہدے پر دستخط ہوئے تو ایک انڈس ریور کمیشن قائم کیا گیا، جس میں بھارت اورپاکستان کے کمشنرز شامل تھے۔ ان حالات میں جب بھارت اور پاکستان متفق نہ ہوں اور مسئلے کا حل کمشنرز سے نہنکل سکے تومعاہدے میں تنازعات کے حل کے دو طریقہ کار ہیں: ایک غیر جانبدار ماہر کی تقرری اور دوسرا ثالثیعدالت۔ جیسا کہ ورلڈ بینک وضاحت کرتا ہے، “سوالات” کمیشن کے ذریعے نمٹائے جاتے ہیں۔ “اختلافات” کو ایکغیر جانبدار ماہر کے ذریعے حل کرنا ہے۔ اور “تنازعات” کو ثالثی عدالت (سات رکنی ثالثی سے متعلق عدالت)کوبھیجا جائے گا۔ ثالثی عدالت کی سماعت کے دوران، بھارت نے ایک اور نکتے پر استدلال کیا تھا کہ ثالثی عدالت صرف اس وقت بنناچاہیئے جب کسی مسئلے کو پہلے کسی غیر جانبدار ماہر کے ذریعہ نمٹانے کی کوشش کی جائے۔ 2013 کے ثالثیعدالت کے فیصلے نے اسے مسترد کر دیا۔ عدالت نے مزید کہا کہ ایک تنازعہ واضح طور پر موجود ہے، اور وہ“بھارت کی موجودہ پوزیشن کو قبول نہیں کر سکتی اور دوسرا تنازعہ ایک غیر جانبدار ماہر کا معاملہ ہے اور بھارتاب ایسے ماہر کی تقرری کی درخواست کرے۔” اس کی وجہ یہ ہے کہ بھارت نے اصرار کیا تھا کہ کوئی “اختلاف”موجود نہیں ہے، اور جب کہ “اختلافات” سے نمٹنے کے لیے ایک غیر جانبدار ماہر کا تقرر کیا گیا تھا، معاہدے کیشقوں کے مطابق صرف ثالثی عدالت ہی “تنازعات” سے نمٹ سکتی ہے۔ فیصلے کے بعد، بھارت نے یہ منصوبہ مکمل کیا، اور یہ 2018 میں زیر عمل ہو گیا۔ پاکستان نے الزام لگایا کہبھارت نے 2013 کے فیصلے کے مطابق ڈیزائن کی تفصیلات پر عمل نہیں کیا، اور جب بھارت نے 2013 میںدریائے چناب پر (بہت بڑا) 850 میگاواٹ کا ریٹل ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ شروع کرنے کا فیصلہ کیا (جبکہ فنڈزکو اصل میں صرف 2021 میں ہی مختص کیا گیا)۔ پاکستان نے 2015 میں اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک غیرجانبدار ماہر سے درخواست کرنے کا فیصلہ کیا۔ 2016 میں اس نے اس درخواست کو واپس لے لیا، اور اس کےبجائے، 22 اگست 2016 کو مسئلے سے نمٹنے کے لئے عالمی بینک کو ثالثی عدالت تشکیل دینے کو کہا۔ بھارت نے 4 اکتوبر 2016 کو اس تنازعے سے نمٹنے کے لئے ایک غیر جانبدار ماہر کی تقرری کی درخواستکرتے ہوئے پاکستان کو جواب دیا۔ بھارت کے اس عمل نے عالمی بینک کو، جو کہ معاہدے کا ضامن ہے ایک مشکلصورتحال سے دوچار کر دیا۔ معاہدہ واضح طور پر کہتا ہے کہ ثالثی عدالت کی دیگر کوششیں، اس “اختلاف” پر لاگونہیں ہوتی ہیں جسے فی الحال ایک غیر جانبدار ماہر کے ذریعے حل کیا جا رہا ہے۔ بہر حال، سندھ طاس معاہدہ عالمیبینک کو ثالثی عدالت کی درخواست کو مسترد کرنے کا اختیار نہیں دیتا ہے اگر کوئی غیر جانبدار ماہر پہلے ہی“اختلاف” کا جائزہ نہیں لے رہا ہے، اوراگر کسی کو بھی مقرر نہیں کیا گیا۔ عالمی بینک کا کردار طریقہ کار کے مطابق سختی سے عمل کرنے پر مبنی ہے، اور وہ کسی بھی درخواست کو مسترد نہیں کر سکتا۔ اور ابھی تک ایک ہی تنازعہ پر دو طریق عمل کا ہونا مقاصد کو ایک دوسرے سے متصادم کردے گا تضادات کو سنبھالنے کی کوشش میں، ورلڈ بینک نے دونوں طریقہ کار کو شروع میں جنوری 2017 تک اور پھر کئیسالوں تک روک دیا ۔ اس سارے عرصے کے دوران بھارت نے یہ دلیل دی ہے کہ دو طریقِ عمل کی تخلیق سے خودمعاہدہ خطرے میں ہے، اور یہ کہ پہلے ایک غیر جانبدار ماہر کا تقرر کیا جانا چاہیے۔ بھارت اور پاکستان کے تعلقات کشیدہ رہنے کی وجہ سے اس مسئلے پر پیش رفت نہیں ہوئی۔ 6 اپریل 2022 کومتعدد ملاقاتوں اور اعلیٰ سطحی بات چیت کے بعد عالمی بینک نے تنازعات کے حل کے دونوں طریق عمل کو دوبارہشروع کرنے کا فیصلہ کیا اور یہ دلیل دی کہ، “فریقین کے خدشات کے زیر نظر دونوں تقرریوں کو بیک وقت انجامدینے سے عملی اور قانونی خطرات لاحق ہیں۔ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران قابل قبول حل تلاش کرنے میں ناکامیبھی معاہدے کے لیے خطرہ ہے۔” ایک نیاپریشان کن معاملہ اب اس معاملے کو دوبارہ اٹھا کر بھارت نے اس معاملے کی ذمہ داری پاکستان پر ڈال دی ہے اور یہ دلیل دی ہے کہیہ پاکستان کی ہٹ دھرمی ہے اور وہ مسئلے کا ذمہ دار ہے۔ بالائی دریائی ملک کے طور پر بھارت کو مذاکرات کیمضبوط پوزیشن حاصل ہے۔ اس کی تعمیراتی سرگرمیاں پاکستان کی طرف بہنے والے پانی کو محدود، یا موڑ سکتیہیں، جبکہ پاکستان بھارت میں پانی کے اوپری حصے کو متاثر نہیں کر سکتا۔ پاکستان کا واحد سہارا سندھ طاس معاہدہہے۔ حال ہی میں ہیگ میں سی او اے (معاہدے کے تحت ثالثی عدالت)کی کارروائی شروع ہوئی ہے لیکن بھارت نے اس میں حصہ لینے سے انکار کر دیا ہے۔ دوسری طرف پاکستان کے اٹارنی جنرل (اے جی) کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق، یہ تنازعہ بھارت کی جانب سے دریائے جہلم پر 330 میگاواٹ کے کشن گنگا منصوبے کی تعمیر اور بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں دریائے چناب پر 850 میگاواٹ کے رتلے منصوبے کی تعمیر کے منصوبے پر ملک کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات سے متعلق ہے۔ لیکن ہائیڈرو ڈپلومیسی (ایسے بین الاقوامی تعلقات جس میں پانی کے مسائل دو ملکوں کے درمیان اہم ہوں )کے اسانداز کے سندھ طاس سے باہر اہم علاقائی نتائج ہو سکتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ بھارت بذات خود دوسرے اہمعبوری دریا کے طاسوں میں ایک نشیبی دریا کا ملک ہے۔ بھارت میں برہما پترا پر چینی ڈیموں کی تعمیر کے بارےمیں بہت زیادہ تشویش کا اظہار کیا گیا ہے (جسے یارلنگ سانگپو کے نام سے جانا جاتا ہے کیونکہ یہ تبت سے بہتاہے) حالانکہ برہما پترا کا زیادہ تر پانی معاون ندیوں کے ذریعے بھارت اور بھوٹان میں تقسیم ہوتا ہے۔ اور پھر بنگلہدیش آتا ہے۔ یہ گنگا کے بارے میں درست نہیں ہے۔ گھاگھرا، جو نیپال سے بھارت میں بہتا ہے، ایک اہم معاون ندیہے، اور اس کا پانی بِہار میں داخل ہوتا ہے، جہاں اوپر کی طرف گنگا کا زیادہ تر پانی بھارت کے اندر استعمال ہوچکاہے یا ڈیموں کے ذریعے اس کا رخ موڑ دیا گیا ہے۔ چین نیپال کے دریائے مابجا زانگبو پر بھی ڈیم بنا رہا ہے،جوگھاگھرا میں ملتا ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں چین نے بڑی حد تک میکونگ دریا کے سلسلے میں زور دیا ہے کہ اوپری دریا کے ملک کیضروریات اور خدشات کو زیریں دریا کے ممالک کے ساتھ مطابقت پیدا کرنا چاہیے۔ یہ ‘باہمی عمل’ بین الاقوامی گزرگاہوں کے غیر بحری استعمال کے قانون کےآبی کنونشن اور اسکی زبان سے متصادم ہے جس پر چین، بھارت اور پاکستان دستخط کنندہ نہیں ہیں۔کنونشن میں کہا گیا ہے کہ ” آبی گزرگاہوں والی ریاستیں اپنے علاقوں میں ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ کا استعمال کرتے ہوئے دیگر آبی گزرگاہوں والی ریاستوں کو زیادہ نقصان پہنچنے سےروکنے کے لیے تمام مناسب اقدامات کریں۔ سندھ طاس معاہدے پر انہی اصولوں پر بات چیت کی گئی تھی جیسے اقوام متحدہ کے کنونشن میں کی گئی۔ اگرچہکوئی بھی ملک ان پر دستخط کرنے والا نہیں ہے، لیکن بھارت کی موجودہ حکمت عملی میکونگ میں چین کی حکمتعملی کے قریب ہے جو کہ زیریں دریا پر بالائی دریا کی طاقت کو ظاہر کرتی ہے۔ کیس کی خوبیوں کو ایک طرفرکھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جیسا کہ پہلی ثالثی عدالت میں بھی فیصلہ بھارت کے حق میں ہونے کا ایک اچھا موقعتھا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہائیڈرو ڈپلومیسی کا یہ قوم پرستانہ انداز کہاں لے جائے گا، اور تقریباً 1.5 ارب لوگوں کےلیے اس کا کیا مطلب ہے جو ہمالیہ کے مشترکہ دریائی طاسوں پر انحصار کرتے ہیں۔ دریا سرحدوں کا احترام نہیں کرتے اور نہ ہی کسی عبوری طاس کی صحت کا انتظام صرف بالائی دریا کے ممالککر سکتے ہیں۔ سندھ طاس معاہدہ اس بحران سے بچ سکتا ہے کیونکہ اسے صرف دونوں ممالک کے معاہدے سے ہیمنسوخ یا تبدیل کیا جا سکتا ہے، جس کا پاکستانی اٹارنی جنرل نے گزشتہ ہفتے خبروں کے جواب میں حوالہ دیا تھا۔بہر حال، ایک معاہدہ صرف اسی وقت اچھا ہو سکتا ہے جب کہ دستخط کنندگان اس پر رضامندی سے عمل درآمدکریں۔ اگر تعاون کو فروغ دینے کے بجائے اسے ایک اور راستے کے طور پر دیکھا جاتا ہے جہاں ریاستوں کےدرمیان دشمنی کو ہوا دی جائے تو یہ بین الاقوامی تعاون کو مزید مشکل بنا دے گا۔ اور یہ تمام لوگوں کو خواہ وہ کسی بھی قومیت کے ہوں اور ان دریا کے طاسوں کے ساتھ رہتےہوں بہت سے خطروں سےدوچار کر دےگا جیسے جیسےآب و ہوا کا بحران بڑھے گا۔ مترجم: عشرت انصاری پڑھنا جاری رکھیے مضمون انڈس پاکستان کی طرف سے نظرانداز انڈس ڈیلٹا رفتہ رفتہ سمندر میں غرق ہورہا ہے آبی آلودگی کراچی کے سمندر کی تباہ کن آلودگی مضمون شمسی سندھ میں شمسی توانائی سے خواتین زندگیاں بچا رہی ہیں مضمون پانی کی قلت دریاۓ سندھ کے پانیوں کی قلّت کا واحد حل ایک مؤثر آبپاشی نظام ہے مضمون جنگلات کی کٹائی سیلاب کے بعد جلانے کی لکڑی کی طلب پاکستان کے جنگلات پر دباؤ بڑھا رہی ہے مضمون غذائی تحفظ پاکستان میں جن کسانوں کی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے انہیں معاوضہ نہ ملنے کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا ہے مضمون زمین کے حقوق لاہور کا نیا شہری منصوبہ قانونی مشکلات اور سیلاب کے خدشات سے گھرا ہوا ہے مضمون موسمی اثرات گول میز مذاکرات: کو 27کے بعدکون سا راستہ موسمیاتی طور پر بازیافت ہونے کی صلاحیت کی طرف جاتا ہے؟