آب و ہوا کوپ 28 کیا ہے، اور جنوبی ایشیا کے لئے اس کی کیا اہمیت ہے؟ جیسا کہ کوپ 28 موسمیاتی سربراہی اجلاس قریب آرہا ہے، ہم ان امور کی وضاحت کرتے ہیں جو اس میں زیر بحث آئیں گے اور متحدہ عرب امارات کی میزبانی میں ہونے والے اجلاس کو تنازعات نے کیوں گھیر رکھا ہے اردو اردو हिन्दी বাংলা नेपाली Share this article × Copy link to page Copy link to page × اس مضمون کو دوبارہ شائع کریں ہم آپ کو کری ایٹو کامنز لائسنس کے تحت ، دی تھرڈ پول کے مضامین آن لائن یا پرنٹ میں دوبارہ شائع کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ براہ کرم شروع کرنے کے لئے ہماری دوبارہ اشاعت کے رہنما خطوط پڑھیں۔ بہت سے ماحولیاتی گروپوں اور مبصرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ کوپ 28 کی میزبانی متحدہ عرب امارات کر رہا ہے جو خود بڑی مقدار میں فوسل فیولز پیدا کرنے والا ملک ہے لہذا یہ بات غیر تسلی بخش نتائج کا سبب بن سکتی ہے (تصویر: مارٹن میسنر / الامی) ایرون وائٹ, جوئے دیپ گپتا اکتوبر 16, 2023October 19, 2023 کوپ 28 اس سال کا اقوام متحدہ کا اہم موسمیاتی سربراہی اجلاس ہے، جو موسمیاتی تبدیلی سے متعلقیونائیٹڈ نیشنز فریم ورک کنونشن آن کلائمیٹ چینج (UNFCCC) کے فریقین کی اٹھائسویں کانفرنسآف پارٹیز (COP) ہے۔ یہ اجلاس کنونشن میں 198 دستخط کنندگان کو اکٹھا کرے گا، جو ہر سالموسمیاتی تبدیلیوں کو محدود کرنے اور اس کے اثرات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی کوششوں پرتبادلہ خیال کرنے کے لئے ملتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے تمام رُکن ممالک کے علاوہ یورپی یونین بھی(UNFCCC) کے فریق ہیں۔ 2015 میں پیرس معاہدے پر دستخط کے بعد سے، کلائمیٹ کوپس نے گلوبل وارمنگ کو “2 ڈگریسینٹی گریڈ سے کم” رکھنے کے اپنے مقاصد کی طرف توجہ مرکوز کی ہے اور “درجہ حرارتمیں اضافے کو قبل از صنعتی دور کی سطح سے 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود کرنے کیکوششوں میں مسلسل پیشرفت کی ہے” تاکہ یہ دونوں اہداف عملی طور پر حاصل کئے جا سکیں۔ کوپ 28 کب اور کہاں منعقد ہوگی؟کوپ 28 کا صدر کون ہے؟کوپ 28 میں کن باتوں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا؟کوپ28 متنازعہ کیوں ہے؟انڈیا اور جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کوپ 28 سےکیا نتائج حاصل کرنا چاہ رہے ہیں؟ کوپ 28 کب اور کہاں منعقد ہوگی؟ کوپ 28 متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں 30 نومبر سے 12 دسمبر 2023 تک منعقد ہوگی۔سربراہی اجلاس کے انعقاد کے لئے ایکسپو سٹی دبئی کا انتخاب کیا گیا ہے، جو شہر کے جنوب میںایک بہت بڑا مقام ہے جسے پہلی بار عالمی میلے ایکسپو 2020 کے لئے تعمیر کیا گیا تھا۔ کوپ 28 کا صدر کون ہے؟ جیسا کہ جنوری میں اعلان کیا گیا تھا، کوپ 28 کے صدر سلطان احمد الجابر ہوں گے، جو متحدہعرب امارات کے صنعت اور جدید ٹیکنالوجی کے وزیر اور ساتھ ہی ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی کےچیف ایگزیکٹو آفیسر بھی ہیں۔ اس تقرری کو ماحولیاتی گروپوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا گیاہے اور بہت سے لوگ اِن عہدوں کو باہم متضاد سمجھتے ہیں۔ کوپ 28 کے صدر، سلطان احمد الجابر، ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر بھی ہیں(تصویر: کامران جبریلی / الامی) کوپ 28 میں کن باتوں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا؟ کوپ 28 میں بات چیت کا ایک اہم محور پہلا گلوبل اسٹاک ٹیک (موسمیاتی کاروائیوں کا عالمیجائزہ) ہوگا، اور اِس کے حتمی نتائج دبئی کے سربراہی اجلاس میں ہی سامنے آئیں گے۔ اس دو سالہعمل میں فریقین کے ماحولیاتی اقدامات کے بارے میں معلومات جمع کرنا اور خلا کی نشاندہی کرناشامل ہے، یوں اس عالمی جائزے کے ذریعے پیرس معاہدے کے مجموعی نفاذ کا جائزہ لیا گیا ہے۔کوپ 28 اس بارے میں ایک قرارداد منظور کرے گی کہ یہ اسٹاک ٹیک (جائزہ) کیا دکھاتا ہے، اورموسمیاتی کارروائیوں کے لئے اس کی سمت کیا ہے۔ توقع ہے کہ اس میں حکومتوں کی جانب سےموسمیاتی کارروائیوں کے حوالے سے نئے عہد و پیمان بھی شامل ہوں گے۔ ستمبر میں جاری ہونے والی گلوبل سٹاک ٹیک رپورٹ سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ دنیا پیرسمعاہدے کے اہداف کو پورا کرنے کی راہ پر گامزن نہیں ہے۔ اکتوبر کے اوائل میں، یونائیٹڈ نیشنزفریم ورک کنونشن آن کلائمیٹ چینج سیکرٹریٹ نے پہلی گلوبل اسٹاک ٹیک کی تالیفی رپورٹ بھیجاری کی۔ جولائی 2023 میں، کوپ 28 کے صدر نے اعلان کیا کہ سربراہی اجلاس چار “بنیادی تبدیلیوں” پرتوجہ مرکوز کرے گا، جو کہ درج ذیل ہیں:• فوسل فیولز سے قابل تجدید توانائی کی طرف تیزی سے منتقلی؛• موسمیاتی مالیات کے انتظامات کو یکسر تبدیل کرنا؛• موسمیاتی کاروائیوں میں لوگوں اور فطرت کا کردار؛• خواتین، مقامی لوگوں، مقامی کمیونٹیز، نوجوانوں اور ذیلی قومی اداروں کے منتخب افرادکی سربراہی اِجلاس میں شمولیت کو یقینی بنانا ایک ایسی صدارت کے تحت اِن مقاصد کو کس طرح حاصل کیا جا سکتا ہے جو کہ اِس وقت فوسلفیولز پر بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے اور اظہار رائے اور مجمع کی آزادی پر سخت پابندیاں عائدکر رہا ہے۔ یہ تحفظات اِس صدارت کو متنازع بنا رہے ہیں اور اس سے موسمیاتی کاروائیوںمیں رکاوٹوں کا اندیشہ ہے۔ کوپ28 میں متوجہ کرنے والا ایک موضوع نقصان اور تباہی کے لئے فنڈ (مالی مدد) پر پیش رفتہے، جس میں ترقی یافتہ ممالک موسمیاتی تبدیلیوں سے ہونے والے ناقابل تلافی نقصانات سے نمٹنےکے لئے ترقی پذیر ممالک کی ما لی مدد کے لئے رقم کی ادائیگی کریں گے۔ اس طرح کے فنڈ کےقیام کا معاہدہ، گزشتہ سال مصر کے شہر شرم الشیخ میں ہونے والے کوپ 27 کے سربراہی اجلاس میں، ترقی پذیر ممالک کے لئے ایک سخت جدوجہد کے بعد حاصل ہونے والی کامیابی تھی، لیکناس کی افادیت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ یہ کس طرح کام کرتا ہے اور کتنی رقم حاصل کر سکتاہے۔ کوپ27 میں یہ معاہدہ ہوا تھا کہ دو سال کے اندر نقصان اور تباہی کا فنڈ قائم کیا جائے گا، اورچونکہ اِس فنڈ کے قیام کے حوالے سے ڈیڈ لائن ابھی بھی باقی ہے، اِسی لئے شاید یہ تمام حکومتیمذاکرات کاروں کے ایجنڈے میں سرفہرست نہ ہو۔ تاہم، سول سوسائٹی کے گروپوں اور ترقی پذیرممالک کی جانب سے یہ بحث ہونے کا امکان ہے کہ فنڈ کے قیام پر پیش رفت ناکافی رہی ہے، اور اِنفنڈز کے اِجرا کے حوالے سے تیز تر اور دوگنی کوششوں کا مطالبہ متوقع ہے۔ کوپ28 متنازعہ کیوں ہے؟ بہت سے ماحولیاتی گروپوں اور مبصرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ کوپ 28 کی میزبانی بڑیمقدار میں فوسل فیولز پیدا کرنے والا ملک متحدہ عرب امارات کررہا ہے اور یہ حقیقت غیر تسلیبخش نتائج کا سبب بن سکتی ہے اور وہ بھی اس وقت جب فوسل فیولز کے استعمال کو روکنے کیکوششوں میں تیزی سے اضافہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ درجہ حرارت کو 2 سینٹی گریڈکے اندر محدود رکھنا ممکن رہے۔ کوپ 28کے صدر کے طور پر سلطان الجابر کی تقرری، اس حقیقت کے باوجود کہ وہ دنیا کی سبسے بڑی تیل کمپنیوں میں سے ایک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیں جو فوسل فیولز نکالنے میں بھاریسرمایہ کاری جاری رکھے ہوئے ہے، خاص طور پر تنقید کی زد میں ہے۔ گرین پیس اس تقرری پر“گہری تشویش” کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے کہ “عالمی موسمیاتی مذاکرات میں فوسل فیولزانڈسٹری کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔” کرسچن ایڈ نے کہا کہ “مفادات کا تصادم واضح ہے”، اور یہ کہ “عالمی موسمیاتی مذاکرات چلانے کے لئے تیل کے ایک با اثر تاجر کا مقرر ہونا ایسا ہی ہےجیسے کوویڈ-19 جیسی عالمی وبا پر قابو پانے کی ذمہ داری ایک ایسے شخص کو سونپ دی جائےجو خود اینٹی ویکسینیشن سازشی نظریے کا خالق ہو۔” الجابر نے اپنے آپ کو ایک ایسی شخصیت کے طور پر پیش کیا ہے جو فوسل فیولز کی کمپنیوں کوتیل اور گیس کے استعمال میں “مرحلہ وار کمی” کے لئے مذاکرات کی میز پر رکھ سکتے ہیںلیکن اُن کا طرزِ اظہار اور اِس کے لئے کی جانے والی کوششیں متنازعہ فیہ ہیں، کیونکہ بہتسے ممالک اور موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں آگاہی پھیلانے اور مہم چلانے والے کارکنان فوسلفیولز کے “مرحلہ وار خاتمے” کے لئے ایک مضبوط ڈیڈ لائن پر زور دے رہے ہیں۔ دنیا بھر کے سول سوسائٹی گروپوں نے بھی متحدہ عرب امارات کے احتجاج اور اظہار رائے کیآزادی کے بارے میں پابندی والے قوانین پر تشویش کا اظہار کیا ہے، خاص طور پر اس بات کومدنظر رکھتے ہوئے کہ کلائمیٹ کوپس کے دوران میزبان شہر میں عام طور پر بڑے عوامیمظاہرے ہوتے ہیں۔ اکتوبر کے اوائل میں، برطانیہ نے اقوام متحدہ میں متحدہ عرب امارات سے اسبات کی یقین دہانی طلب کی تھی کہ سربراہی اجلاس کا میزبان کس طرح کوپ 28کے دوران اظہاررائے اور مجمع کی آزادی کو یقینی بنائے گا۔ انڈیا اور جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کوپ 28 سےکیا نتائج حاصل کرنا چاہ رہے ہیں؟ انڈیا اور جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے ترقی پذیر ممالک کوپ 28 میںبنیادی طور پر ایک چیز کے خواہشمند ہوں گے: پیسہ، اور وہ بھی بہت زیادہ۔ موسمیاتی تبدیلی کے سب سے زیادہ ذمہ دار ممالک کی طرف سے مالی امداد کے معاملےنے، اُن ممالک کی مدد کے لئے جو موسمیاتی تبدیلیوں کے بدترین اثرات اور موافقت کےسب سے زیادہ اخراجات کا سامنا کر رہے ہیں، تقریباً دو دہائیوں سے موسمیاتی مذاکراتروکے ہوئے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک 2009 میں کئے گئے اُس وعدے کو پورا کرنے میں مسلسلناکام رہے ہیں جس کے تحت ترقی پذیر ممالک میں موسمیاتی کاروائیوں میں تعاون کےلئے سالانہ 100 ارب امریکی ڈالر موسمیاتی مالیات کی مد میں فراہم کئے جانے تھے۔ اوریہاں تک کہ یہ اُس رقم سے بھی بہت کم ہے جو غریب ممالک کو اپنی معیشتوں کو ڈیکاربنائز(کاربن سے پاک) کرنے اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے مطابق خود کو ڈھالنے کے لئےضروری ہوگی، اور جس کا تخمینہ اب کھربوں ڈالرز سالانہ میں لگایا گیا ہے۔ جون 2023 میں پیرس میں منعقد ہونے والے نیو گلوبل فنانسنگ پیکٹ کے لئے سربراہیاجلاس میں خاص طور پر اُن مسائل کو سامنے لایا گیا جس میں ترقی پذیر ممالک اپنےقرضوں کی ادائیگی کے لئے موسمیاتی مالیات کے طور پر رقم وصول کرنے سے زیادہ ادائیگی کرتے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک نے عالمی بینک اور اس کے ملحقہ اداروں کی تنظیمنو، مزید رعایتی اور گرانٹ پر مبنی مالیات اور کم ترقی یافتہ ممالک کے لئے قرضوں کیمنسوخی کا مطالبہ کیا۔ اس بات کا قوی اِمکان ہے کہ یہ مسائل کوپ 28 میںدوبارہ سامنے آئیں گے۔ پڑھنا جاری رکھیے مضمون موسمی اثرات موسمیاتی آفات پاکستان کے پہاڑوں میں ذہنی صحت کے بحران کو جنم دے رہی ہیں۔ مضمون بیلٹ اور روڈ بیلٹ اور روڈ منصوبے کے دس سالوں پر ایک گفتگو مضمون بیلٹ اور روڈ تجزیہ: پاکستان میں توانائی کے لئے چین سرمایہ کاری کوئلے سے قابل تجدید ذرائع کی جانب منتقل کررہا ہے مضمون جنگلات کی کٹائی توانائی کی ضروریات کی وجہ سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جنگلات کی کٹائیمیں اضافہ ہوا ہے مضمون پانی کی قلت وقت آگیا ہے کہ پاکستان موسمیاتی آزمائشوں سے سبق سیکھے: شیری رحمان مضمون قابل تجدید توانائی پاکستان کے ضلع تھر میں کوئلے کے پلانٹس کے ساتھ شمسی توانائی کا منصوبہ بھی شامل ہوگا مضمون ویٹ لینڈز تنازعے میں گھرے شمال مغربی پاکستان کے آبی پرندوں کو شکار اور عسکریت پسندی سے خطرہ ہے مضمون توانائی کی منتقلی توانائی کا تحفظ اور پیسے کی بچت، کیا پاکستان اس کوشش میں کامیاب ہوگا؟